• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران، امریکہ اور اسرائیل جنگ میں پہلا مرحلہ ایران کے سر رہا۔ آیت اللہ خامنئی نے حضرت امام حسین ؓکے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے جس جیداری سے اپنی، اپنے خاندان اور رفقاء کی قربانی دی وہ فی زمانہ دیکھنے کو نہیں ملتی۔ان کی بے لوث شہادت نے ایرانی قوم کو نہ صرف یکسو کیا بلکہ ولایتِ فقہی نظام میں ان کا اعتماد مزید بڑھا دیا۔مہنگائی کے ستائے، امریکی شہہ پر احتجاج کرنے والوں کو اب امریکہ اور اسرائیل کی ہمدردی کے پیچھے چھپی سازش کا ادراک ہو چکاہے۔ایرانیوں کے اتنے خیر خواہ کبھی اپنے عوام کی خواہش کا احترام کرتے تو ایران پر حملہ نہ کرتے۔اُدھر ایران پر ہندوستان کی اصلیت بھی کھل کر آشکار ہو چکی ہے۔ دہائیوں سے ہندوستانی چالوں سے بے خبر ایرانی ان سے بہت قریب رہے لیکن جون 2025 کی جنگ میں موساد کے آلۂ کار ہندوستانی ایجنٹوں کی ایران کی اعلیٰ عسکری و سول قیادت کے گھروں تک رسائی انہیں مروانے کا باعث بنی۔ آیت اللہ خامنئی نے حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے فوراً چار درجوں تک متبادل قیادت اور غیر مرکزی آزاد نظام کھڑا کر دیا۔یہی وجہ ہے کہ آج آیت اللہ اور ان کے 40 رفقاء کی شہادت کے باوجود ایران بھرپور طریقے سے نہ صرف جنگ لڑ رہا ہے بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی عسکری طاقت کے مقابل اس کا پلڑا بھاری ہے۔موجودہ جنگ سے چند دن پہلے ہندوستانی وزیراعظم کا اسرائیل کا دورہ اور اسکے فوراً بعد ایران پر حملہ سے ظاہر ہے کہ اسرائیل، امریکہ اور ہندوستان کی سازشی مثلث مکمل طور پر ایک صفحے پر ہے۔ ایران سے ہندوستان نے 2024 میں چاہ بہار بندرگاہ سنبھالنے کا 10 سال کا معاہدہ کیاتھا لیکن اگست 2025 میں 120 ملین ڈالر ادا کر کے ہندوستان نے معاہدہ ختم کر دیا بوجوہ ہندوستان 28 فروری کے ایران حملے میں شریکِ جرم ہے۔4 مارچ کوایرانی بحری جہاز "آئرس ڈینا" جوہندوستان کی دعوت پر خیر سگالی دورے پر اور غیر مسلح تھاکو امریکی آبدوز نے تارپیڈو مار کر ڈبو دیا ۔ ڈوبتے جہاز سے بار بار مدد کی پکار پر ہندوستان کی جانب سے جواب نہ دیا گیا بالآخر سری لنکن ایئر فورس اور نیوی نے بمشکل 180 جوانوں اورافسروں میں سے 100 افراد بچائے۔ جس پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیان دیا کہ ہمیں یقین تھا کہ ہم دوستانہ پانیوں میں ہیں۔

ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے علاوہ امریکی مفادات کو نشانہ بنا کر مزاحمت کی نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ ایرانی قیادت کو بخوبی علم تھا کہ اسرائیل اور امریکہ مشرقِ وسطیٰ کے مسلمان ممالک کی آڑ میں ایران پر حملہ آور ہونگے۔ ایران کو یقین تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک امریکہ کو ایران کے خلاف اپنی سر زمین استعمال کرنے سے نہ روک سکیں گے۔اسی لیے ایران نے آبنائے ہرمز بند کر کے تمام ممالک کے معاشی مراکز کو گھٹنوں کے بل گرا دیا ہے۔ اُدھر حوثی بھی بے جگری سے بحیرہ ٔاحمر میں فلسطین اور ایران کے تحفظ کے لیے نبرد آزما ہیں ۔ انہوں نے باب المندب سے بھی ہر قسم کے بحری جہازوں کی آمد و رفت بند کر دی ہے۔ طاقت اور خطے میں اثر و رسوخ کے غرور میں چور اسرائیلی عوام کی ایرانی جوابی حملوں پر چیخ و پکار، آہ و بکا سوشل میڈیاپر گردش کرتی نظر آرہی ہیں۔ دوہری شہریت والے غاصب و ظالم صیہونی فلسطینیوں کے حقوق پر ڈاکہ مار کر، ان کی زمینوں پر قبضہ کر کے اسے اللّٰہ کے وعدے سے منسوب کرتے ہیں۔ 7 لاکھ سے زائد معصوم بچوں،کمزور عورتوں اور نہتےجوانوں کو بے دردی سے شہید کر کے، ان کی بے بسی پر محظوظ ہونے والے صیہونیوں کے لیے آج اسرائیل سے بھاگ نکلنے کا کوئی راستہ ہی نہیں بچا۔ ایران نے اسرائیل کے سب سے بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈے "بن گوریان" پر بلسٹک میزائل مار کے اسے ناقابلِ استعمال بنا دیا ہے جبکہ باقی دونوں ہوائی اڈے "رامون و ہائفہ" پہلے ہی حوثیوں، حزب اللہ اور ایران کے حملوں کا نشانہ بننے سے غیر محفوظ قرار دیے جا چکے ہیں۔ایران جانتا ہے کہ " بن گوریان " صرف ہوائی اڈا نہیں بلکہ خطے میں امریکی انٹیلیجنس اور مشرقِ وسطیٰ میں جاسوسی کا اہم مرکز ہے جو ایران، لبنان، فلسطین میں دہشت گردانہ کاروائیوں میں بھی بھرپور طریقے سے ملوث ہے۔ "بن گوریان" ہوائی اڈے کو اسرائیل میں داخلے کا دروازہ یا اسرائیلی قوت کی شہہ رگ بھی کہا جاتا ہے۔مزید براں ایرانی میزائل خیبر نے پہلے ہی مرحلے میں اسرائیلی ڈیفنس سسٹم تھاڈ، ڈیوڈ سلنگ اور ایرو تھری کو ریڈارز سمیت اڑا کر رکھ دیا ہے۔ یہ ڈیفنس سسٹم اسرائیل کی دفاع کی ریڑھ کے ہڈی اور جدید امریکی ٹیکنالوجی کا سُر خیل اور فخر تھے۔یکم اور 2 مارچ کو امریکہ کے مبینہ طور پہ تین ایف 15 لڑاکا طیارے غلطی سے کویتی ایئر ڈیفنس کی جانب سے مار گرائے گئے۔ ایف 15 قریباً 50 سال پرانا لڑاکا طیارہ ہے اور آج سے پہلے کبھی نہ گرایا گیا تھا۔ بعض کے خیال میں یہ ایف 16 سے بھی بہتر کارکردگی والا لڑاکا طیارہ ہے جسےامریکہ نے صرف چند خاص ممالک کو دیا ہے۔ کویتوں سے غلطی سے تین لڑاکا طیارے مار گرائے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ درحقیقت یہ طیارے تین نہیں بلکہ مبینہ دعووں کے مطابق یہ 7 طیارے تھے جو ایرانی میزائل اور سائبر حملوں کے نتیجے میں گرائے گئے۔امریکہ کے ڈیفنس سسٹم تھاڈ، ڈیوڈ سلنگ اور ایرو تھری کی ناکامی ہو یا ایف ـ 35 اور ایف ـ 15 لڑاکا طیاروں کے گرائے جانے کی خبریں ، میڈیا پر مکمل سنسر شپ ہے۔ بعینی اسرائیل بھی اپنے جانی و مالی نقصانات کی خبریں باہر آنے نہیں دیتا۔

ایران نے اپنے حالیہ ردِ عمل سے ظاہر کر دیا کہ وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے بھروسے بے خوف و خطر نمرود کی جلائی آگ میں کود پڑا ہے۔ اسی جذبے کے تحت پاکستان سیاسی،معاشی اور اپنے حق میں ناسازگار عالمی حالات کے باوجود مئی 2025 میں اپنے سے پانچ گنا بڑے ازلی دشمن ہندوستان سے جیداری سے لڑ گیا تھا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے دورۂ امریکہ میں بھی واشگاف الفاظ میں دنیا پر واضح کیا تھا کہ ہم ایٹمی طاقت ہیں، اگر پاکستان کی بقاء کو خطرہ لاحق ہوا، ہم ڈوبے تو آدھی دنیا کو اپنے ساتھ لے ڈوبیں گے! یقیناً ایرانی قیادت بھی اسی جذبۂ مسلمانی کے منصوبے پر کار بند ہے۔ ایران کی فتح پاکستان کے دیرپا مفاد میں ہے! اگر اسرائیل ایران کے( خدانخواستہ )ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ایران سے متصل ہماری بلوچستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ اسرائیل کا تسلط ہوگا جو پاکستان کو کسی صورت قابلِ قبول نہیں ۔انشاءاللہ یہ جنگ اُمتِ مسلمہ کے اتحاد اور امریکہ، اسرائیل و ہندوستان کی شکست فاش پر منتج ہوگی۔غاصب اسرائیل کا نام و نشان تک باقی نہیں رہے گااور امریکہ کو بھی آرام آ جائے گا۔ باقی رہے نام اللّٰہ کا!

اُٹھا ساقیا پردہ اس راز سے

لڑا دے ممولے کو شہباز سے

تازہ ترین