جب سے ایران نے ایٹمی قوت بننے کا خواب دیکھا ہے وہ نہ صرف امریکہ کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے بلکہ پورے یورپ نے امریکہ کے اشارے پر ایران کا ناطقہ بند کر رکھا ہے ایران نے بھی امریکہ اور اقوام متحدہ کی عائد کردہ پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے نہ صرف اپنے ایٹمی پروگرام کو جاری رکھا بلکہ بیلسٹک میزائل کے پروگرام پر کوئی کمپرومائز کرنے سے انکار کر دیا ۔ امریکہ نے ایران کو ایٹمی قوت بننے سے روکنے کیلئے طاقت کا استعمال کیا اسرائیل انبیاء کی سرزمین پر ایک’’ ناجائز ریاست‘‘ ہے وہ ایران کی دفاعی قوت کو اپنے خلاف سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے اس نے 8ماہ کے مختصر عرصےمیں دوسری بار امریکہ سے مل کر ایران کو جارحیت کا نشانہ بنایا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری توانائی کے پروگرام کو محدود کرنے اور بیلسٹک میزائل کی تیاری ختم کرنے پر مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی جانب سے ایران کو سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں بھی موصول ہو رہی تھیں ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر آمادہ نظر آتا تھا لیکن اچانک امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کر دیا ۔اچانک حملے سے ایرانی قیادت کو نشانہ بنانا مقصود تھااور ایران کے روحانی پیشوا خامنہ ای کی شہادت سے، ایران میں طاقت کے سرچشمہ کو سیاسی منظر سے ہٹا دینے سے سیاسی افرا تفری پیدا کر کے ’’رجیم چینج‘‘ کرنا تھا لیکن ایران پر جنگ مسلط کئے ایک ہفتہ سے زائد ہو گیا ہے تاحال امریکہ اور اسرائیل اپنے مقاصد پورے کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ۔ دونوں ملکوں کو ایران کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے 28مئی 1998 ء کوجس جرات و استقامت سے امریکی صدر بل کلنٹن کی4فون کالز کو نظر انداز کرکے ایٹمی دھماکے کئے انہیں داد دینے کو جی چاہتا ہے ۔ سر دست خلیجی ممالک اس جنگ کا حصہ نہیں بنے تاہم اگر ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو یہ جنگ خلیجی ریاستوں میں پھیل سکتی ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل کو ایران کی جانب سے شدید مزاحمت بارے اندازہ نہیں تھا ایرانی پیشوا خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران نے بھی طبل جنگ بجا دیا اور اعلان کیا کہ امریکہ اور اسرائیل نے جوجنگ شروع کی اب ہم اسے منطقی انجام تک پہنچائیں گے ۔ایرانی قیادت کا موقف ہے کہ اس نے سفارت کاری کے ذریعے جنگ کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن اس پر جنگ مسلط کر دی گئی اب اس کے پاس اپنا دفاع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کوایران پر حملہ کرنے پر سینیٹ کی تائید حاصل ہے100رکنی سینیٹ میںاپوزیشن کی قرار داد 47کے مقابلے میں 52ووٹوں سے مسترد کردی گئی اس طرح سینیٹرز کی اکثریت نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت کر دی ۔ ڈیمو کریٹس اور ری پبلکن سینیٹرز کی جانب سے پیش کردہ قرار داد میں ایران پر فضا ئی حملے روک دینےاور کانگریس سے منظوری لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا امریکی سینیٹ میں صدر ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کی اکثریت ہے ری پبلکن کے 53اورڈیمو کریٹس کے45سینیٹرز ہیں جب کہ 2 آزاد سینیٹر ہیں۔
ترجمان وائٹ ہائوس نے کہاکہ فی الحال امریکہ کا ایران میں زمینی افواج داخل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ امریکہ اور اسرائیل ایران پر فضائی حملے کر رہے ہیں اگر اس نے ایران میں زمینی افواج داخل کرنے کی غلطی کی تو اس کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑے گا ۔ رضا شاہ پہلوی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ایران نصف صدی سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کیلئے خطرہ بنا ہوا تھا لہٰذا امریکہ ایران میں ’’رجیم چینج ‘‘کے لئے کوشاں ہے لیکن اسے کامیابی حاصل نہیں ہو رہی۔ امریکہ اور اسرائیل ایران پر 1500سے زائد بم گرا چکے ہیں لیکن ایران کے سرنڈر کرنے کوئی امکان نظر نہیں آرہا ۔خلیجی ممالک جنگ کی لپیٹ میں آنے سے ’’آبنائے ہرمز ‘‘ سے تیل اور گیس کی سپلائی تعطل کا شکار ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کی تیل و گیس کی 20فیصد ضروریات پوری ہوتی ہیں اگرچہ امریکی بحری بیڑہ’’ آبنائے ہرمز ‘‘کو ایران کے حملوں سے محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن خلیجی جنگ کے منفی اثرات پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک پر پڑ رہے ہیں۔ سر دست پاکستان نے بھی خلیجی جنگ کے پیش نظر پٹرول اور گیس کی ممکنہ قلت کے پیش نظر راشننگ شروع کر دی ہے ۔حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے پاس تیل کا ایک ماہ کا ذخیرہ موجود ہے خلیجی جنگ نے طوالت پکڑی تو پٹرول کی قیمت 340روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔ سوئی نادرن نے صنعتی صارفین کو گیس کی سپلائی معطل کر دی ہے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے خلیجی جنگ کے پھیلنے کے خطرات کے پیش نظر پارلیمانی جماعتوں کیلئےان کیمرہ بریفنگ کا اہتمام کیا ہے لیکن پی ٹی آئی نے بریفنگ میں شرکت نہ کرکےحکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان تعلقات کار بحال ہونے کا ایک اور موقع ضائع کر دیا ہے ۔
خلیجی جنگ سے جہاں مشرق وسطیٰ کے ممالک کی معیشت ڈسٹرب ہوئی ہے وہاں پاکستان کی معیشت کو بھی شدید خطرات لا حق ہو گئے ہیںجس سے مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور کرنٹ اکائونٹ خسارہ بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان خلیجی جنگ میں مشکل صورت حال میں پھنس گیا ہے ۔ اس کے بیک وقت ایران ، امریکہ، سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک سے دوستانہ تعلقات ہیں لیکن اسرائیل نے ایران پر جنگ مسلط کر کےپاکستان کو ایک بڑے امتحان میں ڈال دیا ہے ایک طرف وہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں ایران کے ساتھ کھڑا ہے دوسری طرف اسے امریکہ کی خوشنودی برقرار رکھنے کیلئے احتیاط سے کام لینا ہے۔ نائب وزیر اعظم سینیٹرمحمد اسحق ڈار نے ایوان زیریں میں ایران ، امریکہ اور اسرائیل جنگ بارےپالیسی بیان دیتے ہو ئے کہا ہے کہ ’’پاکستان دل و جان سے ایران کے ساتھ کھڑا ہے ۔ اسلام آباد اور ریاض کے درمیان اسٹرٹیجک معاہدہ ہے ہماری پر خلوص سفارتی کوششوں کو ملک کے اندر غلط رنگ نہ دیا جائے ۔ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پاکستان مسلسل کوشش کر رہا ہے سب نے دیکھا ہے پاکستان کی کوششوں سے سعودی عرب اور عمان کے خلاف ایران کی کارروائیاں کم ہوئی ہیں ۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو سرپرائز دینے کی دھمکی دی ہے لیکن تاحال ایران ہفتوں جنگ لڑنے کے عزم کا اظہار کر رہا ہے۔