• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا کا ایرانی یورینیم ذخیرے پر قبضے کیلئے خصوصی آپریشن زیر غور

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے یورینیم کے ذخیرے کو قبضے میں لینے کے لیے خصوصی زمینی آپریشن پر غور کر رہے ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ یہ ذخیرہ کسی اور مقام پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے گزشتہ سال جون میں 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کی اہم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، تاہم ان حملوں کے بعد ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی نگرانی مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے تقریباً 9 ماہ قبل اس مواد کے مقام کی تصدیق کی تھی۔

ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اب تک ہم اس تک نہیں پہنچ سکے اور ممکن ہے کسی وقت ہم پہنچ جائیں، ہم نے ابھی اسے نشانہ نہیں بنایا، لیکن بعد میں ایسا کیا جا سکتا ہے، ابھی ہم ایسا نہیں کریں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے مقاصد میں سے ایک ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت سے محروم کرنا بھی ہے۔

اسرائیلی حملوں سے قبل ویانا میں قائم آئی اے ای اے نے اصفہان کے قریب پہاڑی سرنگوں کے باہر مسلسل سرگرمی دیکھی تھی، جہاں لڑائی شروع ہونے سے پہلے اس مواد کی موجودگی ریکارڈ کی گئی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سرگرمی سے امکان ظاہر ہوتا ہے کہ اس کمپلیکس میں موجود 441 کلو گرام انتہائی افزودہ یورینیم میں سے کم از کم کچھ حصہ منتقل کر دیا گیا ہے، یہ مقدار مزید افزودگی کے بعد تقریباً ایک درجن جوہری وارہیڈز بنانے کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے، جبکہ امریکی اندازوں کے مطابق اس سے 11 بم تیار کیے جا سکتے ہیں۔

ایران کے پاس اس کے علاوہ 8 ہزار کلو گرام سے زیادہ کم درجے کا افزودہ یورینیم بھی موجود ہے، جسے افزودگی کی صلاحیت بحال ہونے کی صورت میں اس میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

امریکی اور اسرائیلی حکام اس انتہائی افزودہ مواد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں اور اگر اس کا مقام معلوم ہو جائے تو خصوصی فورسز تعینات کرنے سمیت ہنگامی منصوبے بھی تیار کیے گئے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے 3 مارچ کو بتایا کہ امریکا کے پاس ایران کے افزودہ یورینیم کو غیر مؤثر بنانے کے لیے دو ممکنہ راستے ہیں۔

اگر امریکا کسی علاقے پر براہِ راست کنٹرول حاصل کر لے تو ماہرین وہاں جا کر یورینیم موقع پر ہی کم درجے میں تبدیل کر کے محفوظ طریقے سے تلف کر سکتے ہیں، دوسری صورت میں اسے ایران سے منتقل کر کے کسی اور مقام پر نمٹایا جا سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید