• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس امر میں کوئی شک نہیں کہ جنگیں تباہی لاتی ہیں،قبرستان آباد ہوتے ہیں،جوانوں کے جنازے اٹھتے ہیں،ترقی یافتہ ملک ایک دم سے برباد ہو جاتے ہیں،معیشت کا پہیہ جام ہو جاتا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جنگی بحران کے دوران قیادت کی صلاحیتوں کا اظہار ہوتا ہے،دوست اور دشمن واضح ہو جاتے ہیں،قوموں کو اپنے اہداف مزید واضح کرنے کا موقع ملتا ہے۔حالیہ جنگ کا ایک مثبت پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ دنیا نے پاکستان کا قائدانہ روپ دیکھا ہے،خصوصی طور پر سعودی حکمرانوں اور پاکستان کی عسکری قیادت کے مابین غیر معمولی قربت ہر محب وطن پاکستانی کیلئے باعث اطمینان ہے۔

سعودی عرب اپنی مخصوص جغرافیائی اور مذہبی اہمیت کے باعث حالیہ بحران میں ایک ذمہ دار اور مدبر ملک کے طور پر سامنے آیا ہے۔اسرائیل اور بیت المقدس پر اپنے روایتی موقف پر قائم رہتے ہوئے ایک باوقار طرز عمل اختیار کیا ہے۔سعودی عرب نے تیل کی تنصیبات پر حملوں کے باوجود صبر و تحمل سے اس صورتحال کا سامنا کیااور خطے کو ایک بڑی کشیدگی سے بچا لیا۔ سعودی عرب کے طرز عمل کے باعث مسلم ممالک کی باہمی جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی۔

مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتِ حال، جسے بعض مبصرین نئی جنگِ خلیج کی شکل قرار دے رہے ہیں، عالمی سیاست کیساتھ ساتھ مسلم دنیا کے باہمی تعلقات کو بھی نئی سمت دے رہی ہے۔ اس بحران کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں غیر معمولی گرمجوشی اور اعتماد دیکھنے میں آیا ہے۔ خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی سرگرمیوں اور ریاض میں ہونے والی اہم ملاقاتوں نے اس اسٹرٹیجک تعلق کو مزید مضبوط اور واضح کر دیا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض سفارتی یا معاشی مفادات تک محدود نہیں بلکہ یہ مذہبی، تاریخی اور تزویراتی بنیادوں پر قائم ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کو اپنی ترجیح قرار دیا ہے جبکہ سعودی عرب نے بھی مشکل معاشی حالات میں پاکستان کی مدد کی ہے۔ یہی باہمی اعتماد آج کے حساس عالمی حالات میں مزید نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔حالیہ بحران کے دوران سعودی وزیر دفاع پرنس خالد بن سلمان، نے ریاض میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے تفصیلی ملاقات کی جس میں خطے کی سلامتی اور خاص طور پر ایران پر ہونے والے حملوں کے بعد کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات کے بعد سعودی وزیر دفاع نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں واضح کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اس صورتحال کا جائزہ لیا اور اس بات پر زور دیا کہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچنے کیلئے دانشمندی کا مظاہرہ ضروری ہے۔

اس ملاقات کے بعد سعودی عرب کے ولی عہد پرنس محمد بن سلمان نے فیلڈ مارشل کے ساتھ غیر معمولی ملاقات کی جسکی تصویر اور تفصیلات سعودی وزیر دفاع نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کیں۔۔سعودی حکمرانوں کی باڈی لینگویج اور ملاقات کے دوران ماحول اس امر کی گواہی دے رہا ہے کہ سعودی عرب موجودہ صورت حال میں فیصلہ سازی کے عمل میں پاکستان کی عسکری قیادت کو کلیدی اہمیت دیتا ہے۔ان ملاقاتوں میں خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتِ حال، اقتصادی تعاون، دفاعی شراکت داری اور مسلم دنیا کے مشترکہ مفادات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان نے ہمیشہ اس بات کو واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری اس کیلئے انتہائی اہم ہے اور اس کے تحفظ کیلئے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔پاکستان کی عسکری قیادت کا یہ موقف نیا نہیں۔ ماضی میں بھی پاکستان نے سعودی عرب کی دفاعی تربیت، فوجی تعاون اور سلامتی کے معاملات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستانی افواج کے ہزاروں افسران اور ماہرین نے سعودی افواج کی تربیت اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی قیادت پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد اور برادر ملک کے طور پر دیکھتی ہے۔موجودہ بحران میں پاکستان نے ایک متوازن اور ذمہ دارانہ سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔اسی پس منظر میں بعض سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے بھی پس پردہ کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی یہ کوشش اس کی روایتی خارجہ پالیسی کے مطابق ہے جس میں مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ پاکستان ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ مسلم دنیا کے باہمی اختلافات کو بیرونی قوتوں کے مفاد میں تبدیل ہونے سے روکنا ضروری ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی ایک اہم بنیاد مذہبی اور عوامی جذبات بھی ہیں۔ لاکھوں پاکستانی ہر سال عمرہ اور حج کیلئے سعودی عرب جاتے ہیں اور سعودی عرب میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد مقیم ہے جو دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور سماجی روابط کو مضبوط بناتی ہے۔ یہی عوامی سطح کا تعلق اس رشتے کو مزید مضبوط اور دیرپا بناتا ہے۔موجودہ عالمی حالات میں جب مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر جنگ اور کشیدگی کے خطرات سے دوچار ہے پاکستان اور سعودی عرب کا باہمی تعاون خطے کے استحکام کیلئے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ دفاعی معاہدہ، سفارتی رابطے اور اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے اسٹرٹیجک شراکت دار ہیں۔یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو مزید مضبوط اور نمایاں کر دیا ہے۔ یہ تعلق محض دو ریاستوں کے درمیان اتحاد نہیں بلکہ ایک ایسا اسٹرٹیجک رشتہ ہے جو مذہب، تاریخ، سلامتی اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر قائم ہے۔ موجودہ بحران نے یہ حقیقت ایک بار پھر واضح کر دی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نہ صرف ایک دوسرے کے قریبی اتحادی ہیں بلکہ خطے کے امن اور استحکام کیلئے مشترکہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

تازہ ترین