• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے آتش فشاں کے دہانے پر ہے جس کا لاوا پورے کرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست عسکری تصادم نے عالمی سیاست اور معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ کارروائیاں اور اسکے جواب میں ایران کی جوابی کارروائیاں اس بحران کو مسلسل مزید سنگین بنا رہی ہیں۔ ایران نہ صرف اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے بلکہ اس نے خلیجی اور عرب ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر بھی حملے کیے ہیں، جسکے نتیجے میں جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اور اگر یہ جنگ مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی سلامتی کے نظام پر انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔لیکن اس اندھیرے میں امید کی کرن وہ سفارتی کوششیں ہیں جو انقرہ اور اسلام آباد کے مابین شروع ہوئیں۔ کیا پاکستان اور ترکیہ مل کر اس عالمی جنگ کا راستہ روک پائیں گے؟ جنگ اب سرحدیں عبور کر چکی ہے۔ ایران کے جوابی حملوں نے نہ صرف اسرائیل بلکہ خطے میں موجود امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اور سپلائی چین کا نظام درہم برہم ہونے کا خدشہ ہے۔ ایسے میں دنیا کی نظریں ان دو ممالک پر ہیں جو مغرب اور مشرق کے درمیان ’سفارتی پل‘ کا درجہ رکھتے ہیں۔

پاکستان اور ترکیہ دونوں ایسے ممالک ہیں جو بیک وقت کئی عالمی اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ رابطے رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ترکیہ ایک جانب نیٹو کا رکن ہے اور مغربی دنیا کے ساتھ اس کے گہرے روابط ہیں، جبکہ دوسری جانب اس نے مسلم دنیا میں ایک مضبوط سیاسی اور اخلاقی آواز کے طور پر اپنی حیثیت قائم کی ہے۔ اسی تناظر میں جب مشرقِ وسطیٰ میں موجودہ جنگی صورتحال کا جائزہ لیا جاتا ہے تو پاکستان اور ترکیہ کی ممکنہ سفارتی صلاحیت نمایاں نظر آتی ہے۔ یہ دونوں ممالک بیک وقت امریکہ سے بات چیت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ایران کے ساتھ بھی ان کے تعلقات بڑے خوشگوار چلے آرہے ہیں۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان گزشتہ کئی برسوں سے عالمی سیاست میں ایک فعال اور متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے یوکرین جنگ کے دوران روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی کوششیں بھی کیں ۔اسی طرح پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف بھی حالیہ مہینوں میں مختلف علاقائی رہنماؤں سے رابطے کر کے سفارتی کوششوں کو فروغ دے رہے ہیں اور خاص طور پر انہوں نے خلیجی ممالک کے رہنمائوںکے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ قائم کرتے ہوئے اپنے بھر پور تعاون کا اظہار بھی کیا ہے۔

ترکیہ نے اس بحران کے پہلے دن سے ہی اپنی مشنری سفارت کاری کا آغاز کر دیا تھا۔ صدر رجب طیب ایردوان، جو اپنی بے باک قیادت کیلئے مشہور ہیں، اس وقت عالمی رہنماؤں کیساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔صدر ایردوان نے گزشتہ چند دنوں میں واشنگٹن سے لیکر تہران تک درجنوں ٹیلی فونک رابطے کیے ہیں۔ان کا پیغام واضح ہے ’یہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں‘ صرف یہی نہیں، ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حقان فیدان،اس وقت ایک شٹل ڈپلومیسی (Shuttle Diplomacy) کے ذریعے نیٹو ممالک اور مسلم دنیا کے درمیان پیغامات پہنچا رہے ہیں۔ حقان فیدان کی مختلف دارالحکومتوں میں ہونے والی ملاقاتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ترکیہ اس معاملے میں محض تماشائی نہیں بلکہ ایک فعال کھلاڑی کا کردار ادا کر رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے اپنی روایتی ’متوازن سفارت کاری‘ کو ایک نئے درجے پر پہنچا دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم نے نہ صرف بیانات دیے بلکہ عملی طور پر آگ بجھانے کا کام شروع کرکھا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے سربراہان سے ہنگامی رابطے کر کے ایک مشترکہ علاقائی موقف اپنانے پر زور دیا ہے۔ اس سفارتی مشن میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا کردار انتہائی کلیدی رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں جب ایران کی جانب سے سعودی عرب کی حدود میں واقع بعض اہداف پر حملے کی اطلاعات سامنے آئیں، تو خطہ ایک بڑی تباہی کے قریب پہنچ گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، اسحاق ڈار نے فوری طور پر تہران اور ریاض کے درمیان ’ہاٹ لائن‘ کا کردار ادا کیا۔ پاکستان کی اس خاموش لیکن مؤثر سفارت کاری کا نتیجہ یہ نکلا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود جوابی کارروائی سے گریز کیا، جس سے ایران اور عرب ممالک کے درمیان ایک نئی جنگ کا خطرہ ٹل گیا۔اس پورے منظر نامے میں سب سے اہم مہرہ واشنگٹن ہے۔ کیا پاکستان اور ترکیہ مل کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس بات پر قائل کر سکتے ہیں کہ اسرائیل کو لگام دی جائے؟

صدر ٹرمپ جو معاشی استحکام کو ترجیح دیتے ہیں، اس وقت انقرہ اور اسلام آباد کے پیغامات کو سنجیدگی سے سن رہے ہیں۔ صدر ایردوان کے ٹرمپ کے ساتھ ذاتی مراسم اور پاکستان کا دفاعی تعاون ایسے پتے ہیں جو میز پر کھیلے جا رہے ہیں کیونکہ صدر ٹرمپ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کیلئے اپنے دل میں خصوصی مقام رکھتے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ایردوان کی ٹیمیں اس وقت واشنگٹن کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ اگر ایران کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیا گیا تو اسکے نتیجے میں ہونے والا دھماکہ امریکی معیشت کو بھی لے ڈوبے گا۔مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل اب سفارتی میز پر ہونیوالے فیصلوں سے جڑا ہے۔ اگر شہباز شریف اور رجب طیب ایردوان کی یہ ٹیم اسی تسلسل کے ساتھ عالمی برادری کو متحرک رکھنے میں کامیاب رہی، تو ممکن ہے کہ تاریخ میں انہیں ان رہنماؤں کے طور پر یاد رکھا جائے جو دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے سے واپس لائے۔ ’امن کا راستہ کٹھن ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں‘۔

تازہ ترین