• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امیر حمزہ: اے عمرو، اے عیاروں کے عیار دیکھ امریکہ کا کیا حشر ہوا اب وہ اور اسرائیل مردود دونوں اپنے زخم چاٹ رہے ہیں ایران میں وہی حکومت قائم ہے عوام کے حوصلے بلند ہیں اور وہ امریکہ اور اس کیخلاف لمبی جنگ کیلئے تیار ہیں امریکی اڈوں والے عرب ممالک کو پہلی بار پتہ چل رہا ہے کہ امریکی اڈے تو عذاب ہیں امریکہ نہ انکی مدد کو آیا ہے اور نہ ہی کچھ کر سکتا ہے ایران یہ جنگ جیت چکا ہے۔

عمر و عیار:اے صاحب قِران، اے سعد مشتری اور مبارک زحل کے کامیاب استعارے! آپ کی باتوں میں وزن ہے مگر یہ جذباتی اور روحانی فتح ہے مادی فتح تو امریکہ کو ہوئی ہے ایرانی قیادت اور شہریوں میں سے ہزاروں شہید ہو گئے اور امریکی نصف درجن سے بھی کم مرے ہیں ۔ ایران میں ہر جگہ بمباری ہو رہی ہے اورایرانی میزائل حملے برادر مسلم ممالک پر ہو رہے ہیں امریکہ تو دور بیٹھا ہے اس کا کیا نقصان ہوا ہے۔

امیر حمزہ:اے عمرو، تم تو عیاری اور دنیا داری میں سب کچھ فراموش کر بیٹھے مشرق وسطیٰ میں پہلی دفعہ اسرائیل اور امریکہ کا ناطقہ بند ہوا ہے ایران کو دیکھو اور امریکہ کی سپر پاور کو دیکھوپھر بھی ایران نےکیا خوب مقابلہ کیا ہے؟ امریکہ کی شان اور رعب داب سب خاک میں مل گئے صدر ٹرمپ کا پہلی بار غرور ٹوٹا ہے۔

عمر و عیار:اے صاحب قِران، اے بادشاہوں کے بادشاہ آپ کا فرمان بجا مگر ایران کی آگے بڑھ کر لڑنے کی حکمت عملی نے غزہ، لبنان، شام، لیبا اور عراق میں مزاحمت ہی ختم کروا دی ہے اب تو یہاں اسرائیل اور امریکہ کی بالا دستی چل رہی ہے ایران کی طاقت و قوت ختم ہو چکی ہے اس کے پاس میزائل تو ہیں لیکن میزائل لانچر تباہ ہو رہے ہیں۔ ایران یہ جنگ ہار چکا ہے۔

امیر حمزہ:اے عمرو، سن لو، ایرانی حکومت جانے والی نہیں ہے ایران کی علم الاعداد میں قدر 9 ہے جو سب سے عظیم تر تصور ہوتا ہے۔ فارسی اور عربی آسٹرالوجی میں ایران کبھی شکست نہیں مانے گا امریکا کا عدد 5ہے یہ ٹیکنالوجی اور اختراع کا عدد ہے امریکہ ٹیکنالوجی میں ایران کو شکست دے سکتا ہے مگر ایران کے 9کا عدد یہ بتاتا ہے کہ ایران کی اولوالعزمی کو کوئی شکست نہیں دے سکے گا۔ عمرو! خوابوں کی دنیا سے نکلو۔ امریکی پروپیگنڈے اور یہودی ذرائع ابلاغ کے جھوٹ کو چھوڑ و ایران نے سب کو ناکوں چنےچبا دینے ہے۔

عمر و عیار:اے پہلوان عظیم، ستارے ہوں یا جن، جادو ہو یا منتر، سب آپ کے اشارے کے منتظر رہتے ہیں۔ بات روحانی نہیں مادی ہے بات دین کی نہیں دنیا کی ہے۔ایران اپنے مسلم برادران پر ہی میزائل داغ رہا ہے کبھی قطر ، کبھی سعودی عرب اور کبھی ابوظہبی پر ان حملوں سے مسلم دنیا کمزور ہو رہی ہے یا مضبوط ؟

امیر حمزہ: عیار کم ظرفی سے کام نہ لو۔ ایران امریکی اڈوّں والے مسلم ممالک کو نقصان پہنچا ئے تو جائز ہے۔ امریکہ ایران پر حملہ آور ہے تو ظاہر ہے امریکہ کے جو بھی اثاثے ہیں ان پر حملہ تو سو فیصد جائز ہے۔

عمرو عیار : اے میرے امیر! اے شاہوں کے شاہ! نہ ایران نے اپنا کچھ چھوڑا ہے نہ مسلم دنیا کا کچھ چھوڑا ہے اب اسرائیل اور امریکہ کا کوئی مخالف مڈل ایسٹ میں بچا ہی نہیں جس طرح اسامہ بن لادن اور طالبان نے بالآخر اسلامی دنیا کو نقصان پہنچایا اسی طرح ایران نے فلسطین کے دو ریاستی حل کے راستے میں حماس کو مزاحم کیا۔ اس کا اسرائیل کو فائدہ ہوا فلسطین کی ریاست بننے کی بجائے اب گریٹر اسرائیل کی بات ہو رہی ہے ایران نے فلسطینیوں کی اصل نمائندہ تنظیم پی ایل او اور اس کے سربراہ محمود عباس کو صفر کر دیا ہے حماس کو اٹھانے کایہی مقصد تھا جس کا فائدہ اسرائیل ہی کو ہوا۔ لبنان خوشحال ملک تھا وہاں کے عیسائی بھی اسرائیل مخالف تھا اب لبنان بھی حزب اللہ کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر ہے شام میں کیا ہوا۔ ISISکا قبضہ ہوا اور اب شام بھی بالواسطہ طور پر امریکی کیمپ میں شامل ہے لیبیا اسرائیل کا بڑا مخالف تھا اب وہاں نہ کوئی حکومت ہے اور نہ امن وامان۔ انارکی کا فائدہ اسرائیل کو ہے نہ کہ مسلم دنیا کو۔ مسلم دنیا کو کب اصل فائدہ اور اصل نقصان کا پتہ چلے گا۔

امیر حمزہ: اے عیّار۔ مسلمانوں نے بالآخر فتح یاب ہونا ہے ایران نے تو مزاحمت کا ابھی آغاز ہی کیا ہے امریکہ کا زوال شروع ہو چکا ہے صدر ٹرمپ نے اپنی بے وقوفیوں سے تباہی کا سامان کرلیا ہے یورپ الگ کھڑا ہو گیا ہے مڈٹرم انتخابات میں صدر ٹرمپ کے حالات خراب لگتے ہیں امریکہ کا دنیا پر کنٹرول ختم ہو رہا ہے اب مسلم دنیا انگڑائی لے چکی ہے اگلا دور اسی مسلم دنیا کا ہے۔

عمرو عیار: اے امیر! خواہش تو میری بھی یہی ہے مگر حقائق بڑے تلخ ہیں۔ مسلم دنیا میں نہ علم ہے نہ سائنس اور نہ ٹیکنالوجی۔ امریکہ نے زمین پر ایک بھی فوجی اتارے بغیر ایران میں تباہی پھیلا دی ہے۔ مسلم دنیا 70 سال پہلے 56 آزاد خود مختار ملکوں پر مشتمل تھی اب آزادی اور خود مختاری تو ہوا ہو گئی۔ایران کی مزاحمت ، اسرائیل اور امریکہ کو گھیرنے کیلئے تھے لیکن ایران کی حکمت عملی ناکام ہونے سے مسلم دنیا 70سال بعد پھر سے کمزور ہو کر رہ گئی۔

امیر حمزہ: اے عمرو، مشتری اور زحل کا 2020 میں بیس سال کے بعد ملاپ ہوا تھا کووڈ جیسی تباہی آئی دنیا کے طور اطوار بدل گئے اب اگلا ملاپ 2040 کو ہونا ہے اسوقت تک ایران کو کچھ نہیںہو گا 2040 میں مشتری اور زحل ملیں گے تو امریکہ کے5کا عدد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گا اس کی عالمی قیادت جاتی رہے گی تباہی کا آغاز ہو چکا آگے دیکھتے جائو۔

عمر و عیار:اے صاحب قِران۔ آپ سے زیادہ ستاروں کا علم کسی کو نہیں مگر اب تو ستاروں پر کمندڈل چکی مریخ کا ذرہ ذرہ خلا بازوں کی نظر میں ہے مشتری اور زحل کی نقل و حرکت بھی کسی سے چھپی نہیں اب انسانوں کی دنیا ستاروں سے متاثر نہیں ہوتی۔ ستارے اور سیاروں کو انسان متاثر کریں گے پیمانے بدل گئے انداز بدل گئے۔ مسلم دنیا کے علم الاعداد اور علم نجوم کی کوئی سائنسی حیثیت اور قدر نہیں امیر تیمور اور مغل بادشاہ ہمایوں جن ستاروں کی چال دیکھ کر کاروبار مملکت چلاتے تھے وہ ستارے تو بیچارے خود مجبور ہیں وہ اس قدر محصور ہیں کہ اپنی لائن سے ہٹ نہیں سکتے۔ اصل علم اب سائنس اور ٹیکنالوجی ہے باقی نجوم کے علوم صرف واہمہ ہیں۔

امیر حمزہ:اے عیاروں کے عیار۔ ابھی سائنس خود نامکمل ہے خدائی علوم اور مذہبی احکامات کا درجہ سپر یم ہے سائنسی تھیوریاں بدلتی رہتی ہیں خدائی احکامات نہیں بدلتے۔ امریکہ مصنوعی لیڈر ہے جبکہ اسلام خدا کا آفاقی پیغام ہے۔ جھوٹے خدا اور جھوٹے مذہبوں کا بیڑہ عرق ہو کہ رہنا ہے۔

عمر و عیار:اے شاہوں کے شاہ۔ حقیقت کی دنیا کو دیکھیں خدائی احکامات سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم سے نہیں روکتے مسلم دنیا اوہام سے نکل کر اس طرف نہیں آتی تو شکست ہمارے انتظار میں کھڑی ہے۔

تازہ ترین