• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

Archduke of Austria Franz Ferdinand جو کہ Austro-Hungarian آرمی کا انسپکٹر جنرل تھا اور اپنی بیوی کے ہمراہ بوسنیا اور ہرز یگوونیا کے سرکاری دورے پر تھا کو 28 جون 1914 ءکو سراجیوو میں ایک اُنیس سالہ نوجوان Gavrilo Princip نے گولی مار کر قتل کر دیا۔ اِس واقعہ کے صرف ایک ماہ بعد آسٹریا اور ہنگری نے سربیا کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا اور یُوں جنگِ عظیم اوّل کا آغاز ہو گیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ جنگ یورپ کے کئی ممالک میں پھیل گئی۔ ایک طرف سینٹرل پاورز کے اتحادی مُمالک جرمنی، آسٹریا ، ہنگری، تُرکی اور بلغاریہ تھے اور دوسری جانب فرانس، برطانیہ، روس ، اٹلی، جاپان، بلجیم اور امریکہ تھے۔ اِس چار سالہ جنگ میں سینٹرل پاورز کے اتحاد کو شکست ہوئی ۔ اِس جنگ میں تقریباََ چار کروڑ سے زائد لوگ ہلاک ہوگئے اور اتنی ہی تعداد کے لگ بھگ افراد زخمی ہوئے۔ اِس جنگ نے دُنیا کو ہلا کر رکھ دیا ۔ مورخہ 11 نومبر 1918 کو فریقین نے ایک معاہدے Armistice کے تحت جنگ بندی کا اعلا ن کر دیا۔ اِس جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد عالمی اَمن کو یقینی بنانے کی کوششیں شروع ہوگئیں اور10 جنوری 1920کو League of Nations کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اِسکے اہم مقاصد میں عالمی باہمی تعاون کو فروغ دینا اور عالمی اَمن و سلامتی کا حصول شامل تھا۔تا ہم یہ ادارہ کوئی خاطر خواہ کامیابیاں حاصل نہ کر سکا۔ دنیا کو ایک مرتبہ پھر تباہی اور خون ریزی کا ایک نیا دور دیکھنے کو مِلا کہ جب مورخہ یکم ستمبر 1939کو جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کر دیا اور اسکے جواب میں برطانیہ اور فرانس نے جنگ کا اعلا ن کر دیا ۔ اِس تباہ کُن جنگ میں ایک طرف Axis Powers جرمنی، اٹلی اور جاپان تھے تو دوسری جانب فرانس ، برطانیہ، امریکہ، روس اور چائنا شامل تھے ۔ اِس جنگ نے بھی دُنیا کو تباہی اور بربادی کے وہ مناظر دکھائے کہ جس کا انسانی آنکھ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا ۔ اِس جنگ میں تقریباََ چھ کروڑ سے زائد لوگ لقمئہ اَجل بنے اور کروڑوں لوگ زخمی یا ہمیشہ کیلئے معذور ہو گئے۔ اِس جنگ نے انسانیت کا اِسقدر نقصان کیا کہ اِسکی رُوئے زمین پر کوئی مثال ہی نہیں ملتی ۔ شہروں کے شہر کھنڈرات میں بدل گئے۔ عمارتیں ریزہ ریزہ ہو گئیں ۔ ہر طرف تباہی و بربادی نے اپنے جھنڈے گاڑ لئے۔ اس لاحاصل جنگ کے نتائج کو دیکھتے ہوئے مورخہ 30اپریل 1945ء کو ہٹلر نے خود کشی کر لی۔ سوویت فوج نے 2مئی 1945ء کو برلن شہر پر قبضہ کر لیا۔ جرمنی افواج نے ہتھیار ڈال لئے۔ 8مئی1945ء کو فیلڈ مارشل Wilhelm Keitelنے غیر مشروط طور پر ہتھیا ر ڈالنے کی دستاویز پر دستخط کر دئیے۔ دوسرے محاذ پر 6اگست 1945ءکو امریکہ نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایٹم بم سے حملہ کر دیا اور 3دن بعد 9اگست 1945ء کوامریکہ نے ناگاساکی پر بھی ایٹم بم گرادیا۔ اِن حملوں نے وہ تباہی مچائی کہ جسے بیا ن نہیں کیا جا سکتا۔ ان حملوں کے تابکاری اثرات کئی دہائیوں تک دُنیا نے برداشت کئے ۔ جاپان نے بھی غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دئیے اور اِس طرح 2 ستمبر 1945ءکو جنگِ عظیم دوئم دُنیا کو تباہ و برباد کرنے کے بعداپنی ہیبت ناک یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی ۔ اِس تباہ کُن جنگ نے دُنیا کو ایک مرتبہ پھر اَمن کی تلاش پر مجبور کر دیا اور دُنیا کے بڑوں نے ایک مرتبہ پھر سر جوڑ لیے۔ انہی حالات میں 24 اکتوبر 1945کو اقوامِ متحدہ کا قیام عمل میں آگیا ۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی ابتدااِنہی الفاظ کے ساتھ ہوئی کہ آنے والی نسلوں کو جنگ کی ہولناکیوں سے بچانے کیلئے جو کہ ہم نے اپنی زندگی میں دو دفعہ دیکھی ہیں اور یہ کہ چھوٹی بڑی تمام اقوام کے بنیا دی حقوق کو یقینی بنانے کیلئے ہم سب متفق ہیں لیکن ا ب دنیاپھر ایک نئی جنگ کو دیکھنے جا رہی ہے۔ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے بِلاجواز حملے نے دُنیا میں ایک نئی جنگ بَرپا کر دی ہے جو سُلگتے سُلگتے ہوئے اپنا دائرہ بڑھا رہی ہے۔ ایران پر بمباری کا عمل جاری و ساری ہے ۔ دوسو کے لگ بھگ اسکول کی بچیوں کی شہادت عالمی اَمن کے ٹھیکیداروں کے مُنہ پر زوردار طمانچہ ہے ۔ یہ جنگ خطے کے اَمن کو تہس نہس کر سکتی ہے۔ اِس جنگ کے اثرات خطے کے لیے انتہائی مُہلک ہونگے۔ اس جنگ کی وجہ سے مختلف ممالک کے اقتصادی اور معاشی معاہدے اور تعلقات شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ عالمی اَمن کی فاختہ پر نزع کا عالم طاری ہے۔نہ جانے یہ جنگ کب تک چلے گی مگر یہ بات طے ہے کہ جس کی لاٹھی اُسکی بھینس کے اصول کے تحت دُنیا کو نہیں چلایا جا سکتا یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دُنیا آج تک غاصب جارح اور بَدمست اسرائیل کو راہِ راست پر لانے میں ناکام رہی ہے۔ اِس مُنہ زور ملک نے پہلے فلسطین کو تباہ و برباد کیا اور اب ایران کے خلاف جارحیت کا مُرتکب ہو رہا ہے۔ اس جنگ کو رُکوانے کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششیں لائق تحسین ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ دُنیا نے پہلی دو عالمی جنگوں سے کیا سبق حاصل کیا ہے ؟ کروڑوں لوگوں کی اموات سے کیا حاصل ہوا؟ پہلی دونوں عالمی جنگوں سے سوائے انسانیت کی تباہی اور بربادی کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا تھا۔ اب بھی وقت ہے کہ ایران کے خلاف اِس جنگ اور جارحیت کو فی الفور بند کرایا جائے اور ہٹ دھرم اسرائیل کو عالمی قوانین کی پاسداری کا پابند بنایا جائے۔

تازہ ترین