• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکہ ایران جنگ کے نتیجے میں پاکستان فیصلہ کن لمحات میں آکھڑا ہے۔ پاکستان اس وقت سفارتی اور دفاعی طور پر دنیا بھر میں عزت و عروج پا چکا ہے پاکستان کے دشمن اسرائیل ،بھارت اور انکی افغان اور بلوچ پراکسیزپاکستانی طاقت و قوت سے لرزہ براندام ہیں اور اسکی شان و شوکت کو داغ لگانے کے درپے ہیں ۔ پاکستان نے عالمی بساط پر اپنے مہرے انتہائی خوبصورتی اور عقل و دانش سے چلے ہیں۔ بھارت کے حملوں کا مؤثر جواب دینے کے بعد پاکستان کے مضبوط دفاع کی دھاک دوستوں اور دشمنوں سب پر بیٹھ چکی ہے۔ صدر ٹرمپ ایسے ہی فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم شہباز کو ڈھونڈھ کر انکو داد نہیں دیتے اسکے پیچھے کامیاب دفاعی حکمت عملی اور بھارت جیسے بڑےملک کیخلاف فتح کے پھریرے لہرانا ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان سے دفاعی معاہدہ بھی اسی جنگ میں فتح کے بعد سوچ سمجھ کر کیا ہے کہ پاکستان عالم اسلام کا وہ واحد ملک ہے جو حرمین شریفین کی حفاظت کا اہل ہے۔ پاکستان نے ایران سے اپنے برادرانہ تعلق پر کوئی آنچ نہیں آنے دی یہ بھی کامیاب ترین سفارت کاری کا ایک نادر نمونہ ہے چین سے ہماری دوستی اور امریکہ سے ہمارا گہرا تعلق، دونوں کو برابری سے چلانا تاریخ میں یاد رکھے جانے کے قابل ہے۔

ہماری عزت و وقار اپنی جگہ ، ہمارے وزیر اعظم کی دنیا بھر میں جپھیاں اورپپیاں اپنی جگہ مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہماری معاشی حالت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے، دنیا بھر کے دورے اور آئے دن کے معاہدے ہمارا پیٹ نہیں بھر رہے۔ ہم قرضوں پر قرضے لے رہے ہیں آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ہماری سکڑتی معیشت کی پائوں کی رنجیر بنی ہوئی ہیں ،ہماری آدھی سے زیادہ صنعتیں بند پڑی ہیں۔ تیل اور بجلی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں 3سال کی مسلسل کوشش کے باوجود بیرون ملک سے سرمایہ کاری آنے کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آتا۔بے روزگاری بڑھ رہی ہے ملازمت پیشہ افراد پر ٹیکسوں کا بوجھ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ان کی آمدنی دس سا ل پہلے جتنی رہ گئی ہے۔ تعمیراتی شعبہ جو 20سے زیادہ شعبوں کا انجن ہے اس پر اتنا ٹیکس لگ چکاہے کہ کسی سرمایہ کار کو اس شعبے سے دلچسپی نہیں رہی،صنعت کار اپنے بزنس دوسرے ملکوں میں شفٹ کر رہے ہیں اور پاکستانی یوتھ اپنا مستقبل دوسرے ملکوں میں دیکھ رہی ہے ۔ غرض یہ کہ معیشت نے ہر دامن تار تار کر رکھا ہے ایسے میں وزیر اعظم شہباز شریف کیلئے فیصلہ کن لمحہ آن پہنچا ہے کہ وہ اپنی بہترین کاروباری تربیت اور تجربے سے پاکستان کی معیشت کیلئے ایسے بڑے انجکشن کا بندوبست کریں کہ ہمارا رکا ہوا نظام نہ صرف چل پڑے بلکہ دوڑنے لگے۔

وزیر اعظم شہباز شریف اس کام کیلئےموزوں اور آئیڈیل شخص ہیں ۔ اپنے قابل والد میاں محمد شریف سے ا نڈسٹری اورمینجمنٹ کی ٹریننگ لی خود اتفاق گروپ اور شریف گروپ کابرسوں تک بزنس سنبھالے رہے، وہ معاشی نفع اور نقصان کو خوب جانتے ہیں۔ ایران جنگ کے بعد سے شہباز شریف کیلئے یہ آخری موقع ہے کہ وہ پاکستان کے وقار اور اسکے مرتبے کے مطابق اسکی معیشت کو بھی استوار کر دیں۔ آخری موقع اس لیے ہے کہ حکومتوں کا واٹر لو معیشت ہی ثابت ہوتی ہے معیشت درست نہ ہوئی تو واٹر لو قریب سے قریب آتا جائے گا معیشت کے اعداد و شمار درست سمت میں بڑھنا شروع ہو گئے تو واٹر لو دور سے دور ہوتا جائے گا۔

سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اندر خانے کیا چل رہا ہے اس کا تو علم نہیں لیکن پاکستان کی جکڑی معیشت کو اس معاہدے سے کھولنےکی امید بندھی تھی ہو سکتا ہے کہ آنیوالے دنوںمیںیہ امید پوری ہو جائے۔ امریکہ سے ہمارے آئیڈیل تعلقات ہیں مگر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں کے علاوہ کوئی نیا معاشی معاہدہ یا پاکستان کیلئے کوئی نیا دفاعی سازو سامان ، ایف 16 طیارے یا معاشی بہتری کیلئےکوئی امداد ابھی تک سامنے نہیں آئی۔ یہ درست ہے کہ ہم امریکہ سے دوستی کی وجہ سے محفوظ و مامون ہیں مگر مصر کیلئے سعودی عرب نے جو اربوں ڈالر کی امداد دی یا امریکہ نے جس طرح مصر کے سارے قرضے معاف کروا دیئے تھے اس طرح کی کوئی خوش کن خبر ہمیںسننے کو نہیں ملی۔ چین ہمارا قریب ترین ملک ہے مگر چین کے تعاون سے چلنے والے منصوبے اب خرگوش نہیں کچھوے کی رفتار سے چل رہے ہیں، سڑکوں کے جال اور معاشی انقلاب کے جو خواب دیکھے گئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے۔ متحدہ عرب امارات، کویت ، قطر اور مڈل ایسٹ کے جو ان گنت دورے ہوئے ان سے کوئی معاشی فائدہ ہوا ہے یانہیں۔ کم ازکم ابھی تک تو کچھ سامنے نہیں آیا۔ سنٹرل ایشیا کے کئی ممالک سے ظاہری تعلقات تو بہت گہرے ہیں مگر معاشی گہرائی سرے سے ہے ہی نہیں۔ اگر وزیر اعظم شہباز شریف جیسا معاشی جینئس بھی اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھا پائے گاتو پھر کونسا سیاست دان اٹھا پائے گا؟

یاد رکھنا چاہئے کہ ملک کا دفاع مضبوط رکھنا ہے تو اس کیلئے مضبوط معیشت ناگزیر ہے۔ سوویت یونین سینکڑوں ایٹمی ہتھیاروں کے باوجود معیشت کی تباہی کی وجہ سے زمین بوس ہو گیا تھا۔ دفاع کو مضبوط رکھنے، فوج کو جدید اور دنیا کے مقابل بنانے کیلئےپیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔پاکستان کی جو مضبوط دفاعی ساکھ ہے اس کو برقرار رکھنے کیلئے صحت مند معیشت از حد ضروری ہے یہی وہ وقت ہے جس میں شہباز شریف نے فیصلہ کن اور فیصلہ ساز کردار ادا کرنا ہے۔

نون لیگ کو دوبارہ سے زمام اقتدار ملنے کی سب سے بڑ ی وجہ یہی تھی کہ عمران خان پاکستانی معیشت کو ڈیفالٹ کے دہانے پر لے آئے تھے اور مقتدرہ کا خیال تھا کہ نون لیگ ہمیشہ سے ایسی پالیسیاں بناتی ہے جس سے ملک معاشی طور پر بہتر ہوتا جاتا ہے اسی آئیڈیل تصور نےدوبارہ سے نون کو اقتدار دیا تاکہ وہ معیشت کو ماضی کی طرح پٹڑی پر چڑھا سکے۔ نون نے معیشت کو مستحکم تو کیا، ڈالر کے ریٹ کو بھی سنبھالا مگر نہ قرضے لینے بند کیے نہ کوئی بڑا معاشی قدم اٹھایاکہ جس سے ملک زمین سے اٹھ کر چلنا شروع کر دے ،ہماری معیشت مسلسل آکسیجن ٹینٹ میں ہے توقع تھی کہ نواز شریف، شہباز شریف اور اسحاق ڈار کی تین رکنی ٹیم دوبارہ سے معیشت کو اٹھا دے گی مگر تاحال اس میں کامیابی نہیں ہو سکی اب بھی امید ہے کہ یہ ٹیم ہی اس مسئلے کو حل کر سکتی ہے۔ تاہم اگر امریکہ ایران جنگ کے بعد پاکستان کو مڈل ایسٹ اور دنیا میں جو خالی جگہ ملی ہے اس کا دفاعی اور سفارتی وقار ہے ایسے میں بھی اگر معیشت کو اٹھایا نہ جا سکا تو نون سے جو امیدیں برسوں سے وابستہ ہیں وہ کہیں ٹوٹ نہ جائیں۔

شہباز حکومت کو دو سال گزر چکے اگر پی ڈی ایم والا ٹائم بھی شامل کیا جائے تو پھر یہ مدت (3) سال سے بڑھ جاتی ہے کیا اب فیصلہ کن لمحہ آ نہیں گیاکہ معیشت میں بدلائو آئے عوام قربانیاں دے دے کر تھک چکے انہیں کوئی ریلیف ملے گا تو حکومت کامیاب تصور ہو گی ورنہ اسے ناکام ہی تصور کیا جائے گا۔

تازہ ترین