• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کوئی مانے یا نہ مانے ایران جون 2025 کی جنگ جیتا تھا اور اب حالیہ جنگ بھی اسی نے جیتی ہے۔ جس طرح ایرانی قوم اور پوری اُمّتِ مسلمہ کے عوام (حکمران نہیں) آیت اللہ علی خامنئیؒ کی شہادت کے بعد امریکہ اسرائیل کے خلاف متحد ہوئے، ناقابلِ یقین ہے۔ شیعہ سنی اور فرقہ پرستی سے مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی تمام سازشیں ناکام ہو گئیں۔اُمّت کو شدت سے احساس ہو گیا ہے کہ ہمارے آپسی اختلافات جیسے بھی ہوں، اتنے بڑے اور سنجیدہ نہیں کہ ایسے کڑے وقت میں پسِ پشت نہ ڈالے جا سکیں۔ 7اکتوبر2023کے واقعہ کو مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ مسائل کی ابتداء گرداننے والے کیسے بھول گئے کہ فلسطینی تو 1948 سے ہی صیہونیوں کے ظلم و ستم کا شکار تھے۔ہر طرف سے مایوس بیچارے طوعاً و کرہاً 1993 میں "اوسلو" میں دو ریاستی حل پر بھی راضی ہو گئے جو کسی بھی اصول اور ضابطے کے تحت سراسر نا انصافی پر مبنی تھا۔ یہ معاہدہ دراصل انگریز کی لگائی ہوئی آگ کا شاخسانہ تھا جو خلافتِ عثمانیہ کے ختم ہونے کے بعد یہودیوں اور صیہونیوں کو اپنے سر سے اتارنے کے لیے 1917کے ’’بالفور اعلامیہ‘‘ کے تسلسل ’’پِیل کمیشن‘‘ 1937میں تجویز کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق سرزمینِ فلسطین پر قائم کرنے کے لئے ناجائز صیہونی ریاست کو 20 فیصد یعنی 5000 ہزار مربع کلومیٹر جبکہ فلسطینی ریاست کو 70 سے 75 فیصد رقبہ دیا جانا تھا۔ باقی 5 سے 10 فیصد پر بفر کے لئے برطانیہ اپنا تسلط برقرار رکھتا۔ اسے صیہونیوں نے قبول کیا لیکن عرب قائدین نے یکسر مسترد کر دیا۔برطانیہ سے فلسطینی مسئلہ سنبھالا نہ گیا تو 1947 میں اقوامِ متحدہ کے حوالے کردیا۔ ہمیشہ کی طرح اقوامِ متحدہ نے مسلمانوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کا ساتھ دیا اور نئی تقسیم کے لیے 55 فیصد صیہونی ریاست اور 45 فیصد فلسطینی ریاست کے لیے تجویز کر دیا یعنی اسرائیلی ریاست کے لئے 5000 مربع کلومیٹر کی جگہ 14500 مربع کلو میٹر تک بڑھا دیا۔ آج مقبوضہ فلسطین کا 22000 مربع کلومیٹر رقبہ صیہونیوں کے قبضے میں ہے۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد مرگ ِانبوہ کے متاثرین کو یورپ اپنے پاس بسانے کو تیار نہیں تھا۔ یہودیوں اور صیہونیوں کے خلاف پورے خطے میں شدید نفرت تھی کیونکہ وہ ہندو بنیے کی طرح عام لوگوں، اداروں اور حکومتوں کو بھاری سود پر رقوم دیتے، پھر ایسے حالات پیدا کرتے کہ قرض کی واپسی ممکن نہ ہو۔ یوں وہ مقروض کے اثاثوں پر زبردستی قبضہ کر کے اسے بے دخل کر دیتے۔کمزور حکومتوں کو بھی قرض کی زنجیروں میں جکڑ کر مرضی کے فیصلے کراتے۔ آج بھی دنیا کا بینکنگ نظام انہی یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ عالمی بینک ہو یا آئی ایم ایف، امریکہ کا فیڈرل ریزرو بینک ہو یا برطانیہ کا بینک آف انگلینڈ سب پر یہودی سود خور قابض ہیں ،بعینی دنیا کا کاروبار سیاسی ہو یا معاشی سب انہی کے تابع منشاء ہے۔جنگ میں مار کھانے کے باعث، نفرت اور دشمنی میں یورپ نے ہٹلر کے ہاتھوں ستائے یہودیوں کے لیے متبادل آباد کاری کے لئے اپنے خطے سے دور مشرق ِوسطیٰ کے قلب میں اس کارِ بد کے لیے فلسطین کا انتخاب کیا۔ 1937کے "پِیل منصوبے" کی ناکامی کے بعد 10 سال تک ہٹلر سے جان بچانے والے یہودی و صیہونی برطانیہ کی مدد سے فلسطین پہنچائے جاتے رہے۔یہودی آبادی بڑھ جانے کے جواز پر اقوامِ متحدہ نے انصاف اور اصول کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسرائیل کا 20 فیصد رقبہ بڑھا کر 55 فیصد تجویز کیا۔ یوں اقوامِ متحدہ نے اپنے فارمولے میں بھی بے ایمانی کرتے ہوئے اسرائیل کے مجوزہ علاقے میں فلسطینی آبادی کو بھی شامل کر دیا۔ جبکہ فارمولے کے مطابق 33 فیصد یہودی آبادی کے حساب سے یہ رقبہ 8900 مربع کلومیٹر سے زیادہ نہ ہوتا۔ اسی لیے عرب قائدین نے ایک بار پھر یہ تجویز مسترد کر دی۔ یوں 1948 کا ظالمانہ" نقبہ" ہوا جب صیہونیوں نے مظلوم فلسطینیوں کواپنے گھروں سے بے دخل کر کےان کے 78 فیصد رقبے پر قبضہ کر لیا۔ نتیجتاً آٹھ لاکھ فلسطینی مہاجر کیمپوں کے مکین ہوگئے۔1967 میں مصر، اُردن اور شام کی اسرائیل سے چھ روزہ جنگ میں شکست ہوئی۔ اسرائیل نے ان ممالک کے اپنے سے تین گنا بڑے رقبے پر قبضہ کر لیا جس میں فلسطینی 22 فیصد رقبہ بھی شامل تھا۔ مصر کو اپنا رقبہ 1982 میں" کیمپ ڈیوڈ امن معاہدے" کے نتیجے میں اسرائیل تسلیم کرنے پر واپس ہوا جبکہ غزہ 2005 اور مغربی پٹی کا صرف 40 فیصد حصّہ" اوسلو معاہدے" کے نتیجے میں واپس کیا گیا۔ گولان ہائٹس اور مغربی پٹی کا 60 فیصد رقبہ آج بھی اسرائیل کے قبضے میں ہے۔

فلسطینیوں نے 1917 سے آج تک مسلمانوں کے قبلہء اوّل کی حفاظت کے لیے قربانیاں دیں۔  دنیا بھر کے مسلمانوں کی قبلہء اوّل سے محبت اور لگاؤ کے باوجود فلسطینیوں کی مسجدِ اقصی ٰکی حفاظت کے لیے لازوال قربانیاں اور شہادتوں کا کوئی مقابلہ نہیں۔ آج بھی وہ اپنے مؤقف پر ڈٹے اُمّتِ مسلمہ کی ذمہ داری تن ِتنہا ادا کر رہے ہیں۔ جو مسئلہ فلسطین کو فلسطینیوں کی زمین کا مسئلہ سمجھتے ہیں انہیں ادراک نہیں کہ دراصل یہ مسلمانوں کے قبلہء اوّل کا مسئلہ ہے۔ یہ "الحرم الشریف" جسے مسجدِ اقصیٰ کہتے ہیں کی بقا کا مسئلہ ہے۔ صیہونی "الحرم الشریف" منہدم کر کے اس جگہ اپنا تیسرا مندر بنانے کی دھن میں ہیں۔جس جگہ مجوزہ مندربننا ہے وہاں معراج کی رات اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی محبوب ترین ہستی حضرت محمدؐ نے انبیاء کرام کی امامت کروائی، جس مقدس ٹکڑے پر ایک لاکھ 24 ہزار پیغمبروں کے سجدے ہیں، جہاں سے پیارے نبی محمد ؐمعراج کی سیر کو تشریف لے گئے۔ وہیں پر حضرت ابراہیمؑ نے حضرت اسماعیلؑ کی قربانی دینا چاہی جسے رب تعالیٰ نے قبول کیا اور بدلے میں دنبہ ذبح ہوا۔ وہی حضرت اسماعیلؑ جن کی نسل سے حضرت محمدؐ پیدا ہوئے جن کی بعثت کو یہودی اور صیہونی مسترد کرتے ہیں بلکہ ان کی اُمّت کے سخت ترین دشمن بھی ہیں۔ یہی وہ مسجدِ اقصیٰ ہے کہ قران پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:ـ پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی جس کے ماحول پر ہم نے برکتیں نازل کی ہیں تاکہ ہم انہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں بے شک وہ ہر بات سننے اور دیکھنے والا ہے 17:1 بنی اسرائیل۔ حضرت میمونہؓ بنت سعد سے مروی ہے کہ آپ نے درخواست کی کہ اے اللہ کے نبیؐ ہمیں بیت المقدس کے متعلق کچھ بتائیے۔حضرت محمدؐ نے فرمایا کہ مسجدِ اقصیٰ جاؤ اور وہاں نماز پڑھو۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو وہاں کے چراغوں میں جلانے کے لیے تیل ہی بھیج دو کیونکہ وہاں ہدیہ بھیجنے والا ایسا ہی ہے جیسے اس نے وہاں نماز پڑھی ہو۔ حدیث 27626 مسند احمد اور سنن ابی داؤد 457۔ آیت اللہ خمینیؒ نے 1979 میں رمضان کے آخری جمعہ کو "یوم القدس" منانے کی روایت ڈالی کیونکہ وہ اس کی اہمیت سے پوری طرح سے آگاہ تھے۔ اسی لیے ایران "ارض ِمقدس" کی آزادی کے لیے تمام مزاحمتی تحریکوں سے بھرپور تعاون بھی کرتا ہے۔ ہمیں بھی اللہ سبحانہ وتعالیٰ توفیق دے کہ ہم اپنے قبلہء اوّل کی قرآن اور احادیث کی روشنی میں اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے وہاں پر اپنی نماز کی ادائیگی کا اہتمام کریں۔ آمین  

؎ ہے خاکِ فلسطین پر یہودی کا اگر حق

ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں ایلِ عرب کا

تازہ ترین