• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا میں اس وقت مختلف جنگیں لڑی جا رہی ہیں جنہوں نے عالمی امن تہ و بالا کر کردیا ہے بدقسمتی سے ان جنگوں کی حدت پاکستان میں شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ان پر دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی لکھا جا رہا ہے۔اس جنگی دھول میں کینسر کے خلاف جاری جنگ گم ہو کر رہ گئی ہے۔اس موذی بیماری کے خلاف جدوجہد اہل خیر کے تعاون سے ممکن ہوتی ہے۔کہیں ایسا نہ ہو بڑی بڑی عالمی جنگوں کے دوران ہم اس اہم انسانی جنگ کو فراموش کر بیٹھیں۔اگر ایسا ہوا تو یہ بھی جنگ خلیج کی طرح ایک بڑا انسانی سانحہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کینسر موجودہ دور کی خطرناک اور پیچیدہ بیماریوں میں شمار ہوتا ہے جو دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور مختلف طبی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ہر سال لاکھوں افراد کینسر کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق ملک میں سالانہ تقریباً چار سے پانچ لاکھ نئے مریض سامنے آتے ہیں جبکہ ہزاروں افراد اس موذی مرض کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ آبادی میں مسلسل اضافہ، ماحولیاتی آلودگی، غیر متوازن غذا، تمباکو نوشی، کیمیکل سے بھرپور خوراک اور طبی آگاہی کی کمی اس بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ پاکستان میں بریسٹ کینسر، پھیپھڑوں کا کینسر، جگر کا کینسر، خون کا کینسر اور منہ کا کینسر عام پائے جاتے ہیں۔ خاص طور پر خواتین میں بریسٹ کینسر کی شرح جنوبی ایشیا کے کئی ممالک سے زیادہ بتائی جاتی ہے جس نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

پاکستان میں کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر مختلف سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اس بیماری کی تشخیص، علاج اور آگاہی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان اداروں میں سرکاری سطح پر بڑے طبی مراکز اور تحقیقاتی ادارے موجود ہیں جو کینسر کی تشخیص اور علاج کے لیے خدمات فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ فلاحی اور غیر منافع بخش تنظیمیں بھی اس میدان میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف علاج فراہم کرتے ہیں بلکہ عوام میں شعور بیدار کرنے، ابتدائی تشخیص کے پروگرام شروع کرنے اور تحقیق کے ذریعے اس مرض کے سدباب کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔پاکستان میں کینسر کے علاج کیلئے قائم نمایاں اداروں میںشوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر، آغا خان ہسپتال،انمول ہسپتال، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز،انڈس ہسپتال،گھرکی ہسپتال اور کئی دیگر سرکاری و غیر سرکاری ادارے اور مراکز شامل ہیں۔ ان اداروں نے جدید طبی سہولیات فراہم کرنے، تحقیق کو فروغ دینے اور مریضوں کے لیے علاج کو نسبتاً آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بعض ادارے مکمل طور پر فلاحی بنیادوں پر کام کرتے ہیں جہاں مستحق مریضوں کو مفت یا انتہائی کم خرچ پر علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ان تمام اداروں میںشوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کو ایک منفرد اور نمایاں مقام حاصل ہے۔ یہ ادارہ پاکستان میں کینسر کے علاج، تحقیق اور تربیت کے میدان میں ایک مضبوط اور مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ اس ہسپتال کا قیام اس مقصد کے تحت عمل میں لایا گیا کہ ملک کے ایسے مریض جن کے پاس مہنگا علاج کروانے کی استطاعت نہیں، انہیں جدید ترین طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اس ہسپتال کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا جدید طبی نظام اور عالمی معیار کی سہولیات ہیں۔ یہاں کینسر کی تشخیص کے لیے جدید لیبارٹریاں، جدید ریڈیالوجی یونٹس، کیموتھراپی اور ریڈیوتھراپی کے جدید آلات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ہسپتال میں تجربہ کار ڈاکٹروں، سرجنوں، ماہرین امراض خون اور دیگر طبی عملے کی ایک بڑی ٹیم موجود ہے جو ہمہ وقت مریضوں کی خدمت میں مصروف رہتی ہے۔ ان ماہرین کی تربیت کا معیار بھی بین الاقوامی سطح کے اداروں کے مطابق ہے جس کے باعث علاج کا معیار بہت بہتر سمجھا جاتا ہے۔یہ ہسپتال نہ صرف علاج بلکہ تحقیق کے میدان میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہاں مختلف اقسام کے کینسر پر تحقیق کی جاتی ہے تاکہ اس مرض کی وجوہات اور بہتر علاج کے طریقوں کو سمجھا جا سکے۔کینسر کے خلاف جنگ میں آگاہی انتہائی اہم عنصر ہے۔ اس حوالے سے شوکت خانم ہسپتال عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے مختلف مہمات بھی چلاتا ہے۔ مثال کے طور پر بریسٹ کینسر سے آگاہی کے لیے سیمینارز، واکس اور معلوماتی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ خواتین کو اس بیماری کی ابتدائی علامات کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔ شوکت خانم ہسپتال کی خدمات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں مریضوں کو علاج کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اور سماجی مدد بھی فراہم کی جاتی ہے۔ کینسر ایک ایسا مرض ہے جو نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی اور جذباتی طور پر بھی مریض کو متاثر کرتا ہے۔ اس لیے ہسپتال میں کونسلنگ کی سہولت بھی موجود ہے جہاں ماہرین مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو ذہنی طور پر مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ اس سے مریضوں کے علاج کے عمل میں مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔وقت کے ساتھ ساتھ اس ادارے نے اپنے دائرہ کار کو بھی وسیع کیا ہے۔لاہور کے بعد پشاور اور کراچی میں بھی ہسپتال تعمیر ہو چکے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ مریضوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ ان مراکز میں بھی وہی معیار برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے جو مرکزی ہسپتال میں موجود ہے۔ یہ ادارہ اس بات کی روشن علامت ہے کہ اگر نیت خالص ہو اور معاشرہ تعاون کرے تو بڑے سے بڑا طبی چیلنج بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ کینسر کے خلاف اس جدوجہد میں ایسے ادارے امید کی کرن ہیں جو ہزاروں مریضوں کو نئی زندگی دینے میں مصروف ہیں اور مستقبل میں بھی صحت کے میدان میں اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔رمضان المبارک کے آخری ایام میں اہل خیر اور عوام الناس کی توجہ اس جانب مبذول کروانا بہت ضروری ہے۔اہل خیر اور مخیر حضرات کو ادارہ جاتی سرپرستی جاری رکھنی چاہئے۔

تازہ ترین