• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرقِ وسطیٰ... وہ خطہ جس نے دنیا کو تہذیب کے پہلے سبق پڑھائے، آج وہی خطہ بارود کی بو اور دھوئیں کے بادلوں میں چھپا ہوا ہے۔ یہ محض زمین کے ایک ٹکڑے کی جنگ نہیں ، یہ انسانیت کے وجود کی جنگ ہے۔ تصور کیجیے ان اسکولوں کا، جہاں کل تک بچوں کے قہقہے گونجتے تھے، جہاں قلم کی جنبش سے مستقبل لکھا جا رہا تھا، آج وہاں ایسی خاموشی جو ملبے تلے دبی ہوئی چیخوں سے زیادہ ہولناک ہے۔ وہ اسپتال، جو زندگی کی آخری امید ہوتے ہیں،آج وہ خود قبرستان بن چکے ہیں۔ غزہ کی گلیوںمیں بہنے والا لہو اب لبنان کی سرحدوں کو پار کر کے ایران کے آنگن تک جا پہنچا ہے۔ یہ آگ پھیل رہی ہے اور اس میں صرف عمارتیں نہیں عالمی ضمیر بھی جل کر راکھ ہو رہا ہے۔آج ہم جس موڑ پر کھڑے ہیں، وہاں خاموشی بھی ایک جرم ہے۔ غزہ میں شروع ہونیوالی تباہی اب ایک علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ لبنان میں کشیدگی عروج پر ہے اور ایران کی شہری تنصیبات، اسکولوں اور عوامی مقامات پر ہونے والے حملوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اب کوئی بھی حد، حد نہیں رہی۔ اس دوران ایک آواز حق اور انصاف کیلئے بلند ہوئی ہے۔ یہ آواز ہے ترکیہ کی، یہ آواز ہے صدر رجب طیب ایردوان کی۔ انہوں نے استنبول میں یومِ طب کے موقع پر جو الفاظ ادا کیے، وہ صرف ایک تقریر نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے اخلاقی چیلنج ہے۔ انہوں نے اسرائیل اور امریکہ کے گٹھ جوڑ کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔صدر ایردوان نے جب استنبول یونیورسٹی کی فیکلٹی آف میڈیسن میں خطاب کیا، تو انکے لہجے میں غم بھی تھا اور غصہ بھی۔ انہوں نے دنیا کو وہ اعداد و شمار یاد دلائے جو شاید ہم ہیڈلائنز میں پڑھ کر بھول جاتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس جنگ میں اب تک 1700 سے زائد طبی کارکنان اپنی جانیں گنوا چکے ہیں؟ یہ وہ ڈاکٹرز تھے جنہوں نے بمباری کے سائے میں آپریشن کیے۔ یہ وہ نرسیں تھیں جنہوں نے اپنی آخری سانس تک مریضوں کا ہاتھ نہیں چھوڑا۔ یہ وہ ایمبولینس ڈرائیورز تھے جنکی گاڑیاں امداد پہنچانے سے پہلے ہی نشانہ بنا دی گئیں۔ ایردوان نے سوال اٹھایا کہ کیا اسپتالوں پر حملے کرنا جنگ ہے؟ نہیں۔ یہ جنگ نہیں، یہ ریاستی دہشت گردی ہے۔ جب انکیوبیٹرز میں پڑے نومولود بچوں کی آکسیجن چھین لی جائے، جب آپریشن تھیٹر کی بجلی کاٹ دی جائے، تو اسے فوجی کارروائی نہیں، انسانیت کیخلاف جرم کہا جاتا ہے۔ ترکیہ کے صدر نے واضح کیا کہ جب بیگناہوں کا خون بہتا ہے، تو عالمی قوانین کی کتابیں محض ردی کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔ایردوان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران میں شہری تنصیبات اور اسکولوں کو نشانہ بنانا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ ایردوان کو غصہ اس بات پر ہے کہ عالمی برادری ان حملوںپرخاموش ہے؟ صدر ایردوان نے اسےانسانیت کی شرمندگی قرار دیا ہے کہ آج کے جدید دور میں بھی طاقتور ممالک کمزوروں کے اسکولوں پر بم برسا رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی طاقتوں کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتے ہوئے پوچھا کہ انسانی حقوق کے علمبردار اس وقت کہاں چھپ جاتے ہیں جب بمباری کا شکار مسلمان بچے ہوتے ہیں؟ ایردوان کا یہ موقف واضح ہےکہ ’دنیا پانچ سپُر قوتوں سے عظیم تر ہے‘۔ وہ ایک ایسے عالمی نظام کا مطالبہ کر رہے ہیں جہاں انصاف صرف طاقتور کی لونڈی نہ ہو۔ انقرہ نے اس بحران کو روکنےکیلئے سفارتی محاذ پر ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ صدر ایردوان جانتے ہیں کہ اگر ایران اور اسرائیل کی یہ کشیدگی ایک باقاعدہ علاقائی جنگ میں بدل گئی، تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور امن کو تباہ کر دیں گے۔ ترکیہ نے ہمیشہ مذاکرات کی بات کی ہے۔ چاہے وہ روس یوکرین جنگ ہو یا اب یہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران، ترکیہ ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ لیکن ایردوان نے خبردار کیا ہے کہ ترکیہ اپنے ہمسایوں کیخلاف ہونے والی ناانصافی پر خاموش تماشائی نہیںبنے گا۔ انہوں نے امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی اندھی حمایت خطے کو ایسی آگ میں دھکیل رہی ہے جسے بجھانا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ ایک طرف وہ طاقت ہے جو بارود سے سچائی کو دبانا چاہتی ہے، اور دوسری طرف وہ آواز ہے جو انسانیت کی بقا کی بات کر رہی ہے۔ غزہ کے ملبے پر بیٹھی وہ ماں جو اپنے بچے کیلئے رو رہی ہے، لبنان کا وہ زخمی جو اسپتال کی تلاش میں ہے، اور ایران کا وہ طالب علم جو اپنے اسکول کی تباہی دیکھ رہا ہے، یہ سب آج ایک منصفانہ دنیا کے طلبگار ہیں۔ جنگیں ہمیشہ ختم ہو جاتی ہیں، لیکن تاریخ یہ یاد رکھتی ہے کہ جب انسانیت کا قتلِ عام ہو رہا تھا، تو کون ظالم کیساتھ تھا اور کون مظلوم کے حق میں کھڑا تھا۔ ترکیہ نے اپنا انتخاب کر لیا ہے۔ اب سوال ہمارا ہے، سوال عالمی ضمیر کاہے... کیا ہم اب بھی خاموش رہیں گے؟ یا ہم اس آواز کا ساتھ دیں گے جو کہتی ہےکہ ایک جان بچانا پوری انسانیت کو بچانا ہے!اسرائیل اور امریکہ کے ان اقدامات نے خطے کو جس نہج پر پہنچا دیا ہے، اس کا علاج صرف سفارت کاری نہیں بلکہ ایک متحد عالمی موقف ہے۔

تازہ ترین