• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماہِ شوال کے روزے باعثِ اجر و ثواب عمل

ڈاکٹر نعمان نعیم

اللہ عزوجل اپنے بندوں پر ہر آن مہر بان ہے، وہ بندوں پر اپنی رحمتیں، نعمتیں بر ساتا رہتا ہے۔ وہ بڑا کریم پروردگار ہے کہ اس نے ہمیں رمضان المبارک جیسا بابرکت مہینہ عطا کیا۔ روزہ، تلاوت قرآن، نوافل، صدقات وخیرات کی توفیق عطا فرمائی اور ہمیں نیک اعمال کی توفیق عطا فر مائی۔ اس پر ہم اپنے پروردگار کے بے حد شکر گزار ہیں۔ اس کا اظہار نماز عید الفطر میں سجدۂ شکر ادا کر کے کرتے ہیں۔

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: جس نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ساری زندگی کے روزے رکھنے کی طرح ہے۔ (صحیح مسلم : 2815)

ماہِ صیام کے روزوں کے بعد اہل ایمان کے لیے شوال کے چھ روزے رکھنے کی احادیث میں بہت فضیلت آئی ہے ۔’’شوال المکرم ‘‘رمضان المبارک کے بعد وہ اسلامی مہینہ ہے جس کا آغاز اہل ایمان کی ماہِ رمضان میں کی گئی عبادات بالخصوص ماہِ صیام کے روزوں کی جزا کے طور پر عیدالفطر سے ہوتا ہے، یہ دن روزوں کی جزا کے طور پراہل ایمان کو انعام و اکرام کے طور پر عطا کیا گیا۔

عید کا دن اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے اظہار کا موقع ہے، اس دن اپنے مسلمان بھائیوں اور پڑوسیوں کا خیال کرنا چاہیے، صدقہ فطر اور عیدی کے ذریعے، تاکہ وہ بھی خوشیوں میں برابر کے شریک ہو سکیں۔

احادیث میں شوال کے چھ روزوں کی بہت فضیلت آئی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے شوال کے چھ روزے رکھیں، جس میں فضل عظیم اور بہت بڑا اجرو ثواب ہے، کیونکہ جو شخص بھی رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال المکرم میں بھی چھ روزے رکھے تو اس کے لیے پورے سال کے روزے کا اجر وثواب لکھا جاتا ہے۔

یہاں یہ واضح رہے کہ شوال کے چھ روزے رمضان المبارک کے روزوں کے ساتھ مشروط ہیں، یعنی رمضان کے ساتھ شوال کے بھی چھ روزے رکھے جائیں، تب پورے زمانے کا ثواب ملے گا۔ ایسا نہیں کہ رمضان کے روزے نہیں رکھے اور شوال کے چھ روزے رکھ لیے تو پورے زمانے کا ثواب ملے گا؟ بلکہ رمضان کے بھی روزے رکھے پھر شوال کے رکھے۔ تب یہ سعادت حاصل ہوگی۔

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے،: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: جس نے رمضان المبارک کے چھ روزے رکھے تو گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے۔

ایک حدیث میں شوال کے چھ روزے رکھنے کو’’ پور ے زمانے کے روزے‘‘ اور دوسری حدیث میں ’’پورے سال کے روزے‘‘ رکھنے کے مانند قرار دیا گیا ہے۔ ایک نیکی کا کم ازکم اجر دس گنادیا جاتاہے۔ مسلمان جب رمضان المبارک کے پورے مہینے کے روزے رکھتا ہے، تو ایک مہینے کے روزے دس مہینوں کے برابر بن جاتے ہیں۔

اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے جائیں تو یہ دو مہینے کے روزوں کے برابر ہو جا تے ہیں، گو یا رمضان اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے پورے سال کے روزوں کے برابر ہو جاتے ہیں۔

اگر مسلمان کی زندگی کا یہی معمول بن جائے کہ وہ ر مضان المبارک کے ساتھ ساتھ شوال کے روزوں کو بھی مستقل رکھتا رہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے پوری زندگی روزوں کے ساتھ گزاری ہو، لہٰذا ہمیں ایسی فضیلت حاصل کرنے کی کوشش کر نی چاہیے۔

شوال کے یہ روزے جائز اور مستحب ہیں۔ فرض و واجب نہیں۔ ان نفلی روزوں کو رکھیں تو اجرو ثواب حاصل ہوگا، لیکن اگر کوئی نہ رکھے تو برا بھی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ایک مسلمان کا ہر عمل نبی کریم ﷺکی تعلیمات اور ہدایات کے مطابق ہو نا چاہیے۔

اللہ عزوجل نے انسانوں کو عبادت کے لیے پیدا فرمایا اور اللہ کے نبی ﷺ نے عبادت کے طریقے بتا ئے۔ فرائض و واجبات تو ہر حال میں ادا کرنا ہے۔ نہ کر نے پر سخت عذاب کی وعیدیں ہیں۔ اس کے علا وہ نفلی عبادات اور ذکر الٰہی سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ ذکر واذکار سے غم دور ہوتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ترجمہ: وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں، سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔ (سورۂ رعد)

اللہ کے ذکر سے دلوں کوطبعی سکون و قرارحاصل ہوتا ہے۔ کثرت سے اللہ کی عبادت کر نے والوں، والیوں کے لیے رب کائنات نے بخشش کے ساتھ اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ ار شاد باری تعالیٰ ہے۔ تر جمہ: تو جب نماز سے فارغ ہو تو دعا میں محنت کرو۔اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت کرو۔

روزہ تزکیہ نفس کا بہترین ذریعہ ہے اس سے انسان کو اللہ عزوجل کی بے شمار رحمتیں ،نعمتیں نصیب ہو تی ہیں۔ شوال کے چھ روزوں کی فضیلت بہت زیادہ ہے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد چھ دن شوال میں رکھے تو گناہوں سے ایسا نکل گیا، جیسے آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔(المعجم الاوسط)

بہرحال جس طرح ممکن ہو، یہ روزے رکھنے چاہئیں،اس لئے کہ ان روزوں کی فضیلت میں نبی کریم ﷺکے متعدد ارشادات وارد ہوئے ہیں۔ چنانچہ شیخ الحدیث مولانا زکریارحمہ اللہ نے ایک حدیث نقل فرمائی ہے کہ: ’’حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں، نبی اکر مﷺ نے فرمایا! جس نے رمضان کے روزے رکھنے کے بعدشوال کے چھ روزے رکھ لئے تووہ گناہوں سے ایساپاک ہوگیا، جیسے وہ ماں کے پیٹ سے پیدائش کے دن(گناہوں سے)پاک تھا‘‘۔(اوجزالمسالک بحوالہ طبرانی)

یہ اللہ کا ہم پر فضل و احسان ہے کہ اس نے ہمارے لیے یہ فضیلت رکھی کہ رمضان کے بعد چھ روزے شوّال میں بھی رکھ لیں تو ہمیں پورے سال کا ثواب مل جائے گا۔

اقراء سے مزید