• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئی تحقیق میں ہر نئی نسل کے ذہنی صحت خراب ہونے کی وجوہات سامنے آگئیں

ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق ہر نئی نسل کے ساتھ ہماری ذہنی صحت خراب ہو رہی ہے، جس کی چار اہم وجوہات سامنے آئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً آدھے نوجوان ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہیں، جس کی وجہ کم عمری میں اسمارٹ فون کا استعمال، غیر صحت بخش (الٹرا پروسیسڈ) خوراک اور کمزور سماجی روابط بتائے جاتے ہیں۔ 

رپورٹ کے مطابق جتنا کوئی ملک امیر ہوتا ہے، وہاں کے نوجوانوں کی ذہنی صحت اتنی ہی زیادہ خراب ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق خواتین رات کے وقت بستر پر سونے سے قبل اسمارٹ فون پر پیغامات پڑھتی اور بھیج رہی ہوتی ہیں، جبکہ 35 سال سے کم عمر افراد میں سے تقریباً نصف ذہنی مسائل کا شکار ہیں۔ 

اس حوالے سے ایک بڑی بین الاقوامی تحقیق میں نوجوانوں میں ذہنی صحت کی گراوٹ کی وجوہات کا پتہ لگانے کے دوران یہ نتیجہ سامنے آیا کہ کم عمری میں اسمارٹ فون کا استعمال، الٹرا پروسیسڈ غذا اور کمزور ہوتے سماجی تعلقات اہم وجوہات میں شامل ہیں۔

ساپین لیبس کی جانب سے جاری کردہ گلوبل مائنڈ ہیلتھ رپورٹ میں بھارت سمیت 85 ممالک کے 25 لاکھ سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

سائنسدانوں نے مائنڈ ہیلتھ کیوٹینٹ نامی ایک پیمانہ استعمال کیا، جس کے ذریعے لوگوں کی ذہنی دباؤ سے نمٹنے، جذبات کو قابو میں رکھنے اور روزمرہ زندگی میں مؤثر طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت کو جانچا جس سے مذکورہ بالا صورتحال سامنے آئی۔

صحت سے مزید