• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

20 مارچ کو برطانوی وزیر اعظم سٹارمر نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دی۔ اگلے روز صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر امریکی جنگی مقاصد حاصل کرنے کے قریب ہونے کے دعوے کیے جن میں ایرانی میزائل پروگرام، ایران کی دفاعی پیداوار، اس کی بری و بحری قوت، ایرانی جوہری صلاحیت کا خاتمہ اور اپنے حواری ممالک اسرائیل، سعودی عرب، قطر، عرب امارات، بحرین، کویت اور دیگر کی اعلیٰ ترین درجے پر حفاظت کا حوالہ دیا۔ البتہ آبنائے ہرمز کی رکھوالی اور حفاظت کو اس کے استعمال کرنے والوں کی ذمہ داری بتایا۔ ٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے دو بیلسٹک میزائل 4 ہزار کلومیٹر دور امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ اڈے "ڈیگو گارسیا" پر داغ دیے جو جوہری اور روایتی وار ہیڈ لے جا سکتے ہیں۔ ایک تکنیکی خرابی کے باعث، دوسرا زمین سے فضا میں مار کرنے والے 15ملین ڈالر والے دو میزائل مار کر ناکارہ بنا دیا گیا۔ ایران کا یہ میزائل چلانے کا مقصد دنیا اور خصوصاً یورپ کو باور کرانا تھا کہ اب قریباً تمام یورپی دارالحکومتیں ایران کی زد میں ہیں۔ اگر ایران مشرق وسطیٰ کے برادر ممالک میں قائم امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے تو یورپی ممالک بھی نشانے پر ہیں۔ ڈیگو گارسیا میں دنیا کے مہنگے ترین امریکی بی ٹو بمبار لڑاکا طیارے کھڑے ہیں جنگی ہزاروں ٹن والے بنکر بسٹر بم پھینکنے کی صلاحیت ہے۔ جون 2025کی ایران جنگ میں امریکہ نے ان طیاروں سے ایران کے جوہری پلانٹ نطنز اور فردو پر بم گرا کر انہیں بھاری نقصان پہنچایا تھا۔ بعد ازاں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایرانی جوہری صلاحیت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ لیکن صرف آٹھ ماہ بعد ٹرمپ نے اپنے الفاظ چبا کر نیا بیانیہ دیا کہ اگر ایران پر امریکہ حملہ نہ کرتا تو وہ ایک ماہ میں جوہری بم بنا لیتا۔ اس سے پہلے ایران امریکہ کے درمیان مذاکرات کے کئی دور چلے لیکن جب معاملات نتیجہ خیز ہونے والے ہوتے تو اسرائیل کوئی لچ تل کر بات بگاڑ دیتا۔ واضح تھا کہ مذاکرات صرف اتمامِ حجت کے لیے تھے اصل مطمعٔ نظر کچھ اور تھا۔ دورانِ مذاکرات ہی 28فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر کے آیت اللہ علی خامنئیؒ اور ان کے ساتھیوں کو شہید کر دیا۔ آیت اللہ نے 47سال تک ایرانی انقلاب کے خد و خال سنوارے، بہت سی اونچ نیچ کا سامنا کیا۔ وہ انتہائی زیرک انسان، بردبار، صابر، حکمت و دانائی کا پیکر تھے۔ اسی لیے پاسدارانِ انقلاب جو امام خمینیؒ نے انقلاب کو بیرونی مداخلت سے بچانے کے لیے بنائی تھی، آیت اللہ خامنئی اسے نئی بلندیوں پر لے گئے۔ انہوں نے ایک ایسا نظام وضع کیا جس میں سپریم لیڈر کی ہلاکت اور رابطے منقطع ہونے کی صورت میں ایران کے 31صوبوں میں مدافعت کا خودکار نظام فعال ہو جاتا۔ پاسدارانِ انقلاب کے ہر صوبے کے کمانڈر کے پاس ایسی صورِتحال کے لیے مہربند لمحہ بہ لمحہ کی ہدایات موجود تھیں۔ یہ خود کار نظام اس وقت تک فعال رہتا جب تک نئے سپریم لیڈر نئی ہدایات نہ جاری کرتے۔ آیت اللہ علی خامنئیؒ کی شہادت کے بعد اس نظام پر حرف بہ حرف عمل ہوا! نئے سپریم لیڈر کے عہدے پر تعیناتی کے بعد اس میں مزید شدت اور تیزی آگئی یعنی جنگ کی ابتدا امریکہ اسرائیل نے کی لیکن اس کا اختتام ایران ہی کرے گا، "میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں کمبل مجھے نہیں چھوڑتا"۔ امریکہ ایران سے مذاکرات کو طول دے کر وقت لیتا رہا جبکہ اسرائیل اس دوران اہم شخصیات کو راستے سے ہٹاتا رہا۔ اسی لئے پورے خاندان اور قیمتی رفقاء کی قربانی دے کر نئے سپریم لیڈر جناب مجتبیٰ خامنئی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس ابلیسی گٹھ جوڑ سے کسی خیر کی امید نہ رکھی جائے۔ چنانچہ ایران آج تمام تر قوت اور جذبے سے اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ہر طرف سے گھرے ایران کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں! اگر وہ امریکی خواہشات کے آگے سرنگوں ہوتا ہے تو پاسدارانِ انقلاب اور تمام اہم ایرانی اہلکار مارے جائیں گے۔ مزید برآں ایران کے پانچ ٹکڑے کر کے اسے تقسیم کر دیا جائے گا تاکہ ایران مستقبل میں کبھی سر نہ اٹھا سکے۔

دنیا کے انسانی تخلیق کردہ ناکام اور ڈوبتے نظام کو جِلا بخشنے اور اس میں سرمایہ کاری کرنے والے ولایتِ فقہی کے اس ایرانی نظام سے نبرد آزما ہیں جو اللہ تعالیٰ کی حکمرانی کے تابع ہے۔ یہ جمہوریت کو نظامِ حکومت چلانے کے لیے تو مناسب خیال کرتا ہے مگر قانون سازی، طرزِ حکمرانی اور حکمرانوں کے اختیارات کو تابع فقہ بناتا ہے۔ یہی وہ بنیادی نقطہ ہے جو ان تازہ خداؤں (نعوذ باللہ) کو قبول نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہی نظام تخلیق کریں ، جب چاہیں اس میں رد و بدل کریں اور دنیا ان کی غلام ہو۔ خود وہ بھی عوام کی طرح گوشت پوست کے ہیں لیکن یونانی دیوتاؤں کی مانند خود کو لازوال اور ماورائے قانون سمجھتے ہیں۔ ایپسٹین بھی انکی اسی ہمیشہ زندہ رہنے، تمام اصول، قوانین اور ضوابط سے مکمل آزادی کی خواہش کا فائدہ اٹھایا کرتا تھا۔ ایران کو آج امتِ مسلمہ کے تعاون کی اشد ضرورت ہے، وہ تنہا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حکمرانی منوانے کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اگر آج اسے (خدانخواستہ) شکست ہوئی تو عالمِ اسلام کا ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا! مالی، معاشی اور سیاسی بھی لیکن سب سے بڑھ کر نظریاتی! مشرق ِوسطیٰ کے عرب ممالک کے حکمران کاش سمجھ سکیں کہ امریکہ نے ان کی مدد کی ہے نہ کرے گا۔ وہ عرب ممالک جو اپنے یہاں بے عمل، بے اثر اور بے فائدہ امریکی اڈوں کے باعث بے انتہا نقصان سہہ رہے ہیں، ان کا واحد ذریعۂ معاش تیل کی برآمدات معطل ہیں۔ جبکہ ٹرمپ نے ایرانی تیل پر پابندی 19اپریل تک اٹھا کر جیسے پہلے روسی تیل کی خریداری پر پابندی نرم کر کے نیٹو کو ہیچ کیا اب عرب ممالک کے ساتھ بھی وہی کچھ کیا ہے۔ ٹرمپ نے یہ پیغام دے کہ آبنائے ہرمز جو استعمال کرتے ہیں وہی اس کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں 1974میں پٹرو ڈالر کا عربوں سے کیا معاہدہ ان کے منہ پر دے مارا ہے۔ لہٰذا عرب ممالک ایران سے اپنے معاملات خوش اسلوبی سے طے کریں۔ امریکہ کو دیس نکالا دے کر، امریکہ اسرائیل کی چنگل سے ہمیشہ کی آزادی حاصل کرلیں۔ ایران کی قربانی پوری امتِ مسلمہ کے لئے ہے اس کا بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ وہ ہمارا مسلم برادر ملک ہے پھر اس کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانے میں کیا مضائقہ؟

ادھر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شیعہ علماء سے خطاب میں سخت تنبیہ کی کہ ایسے کڑے وقت میں پاکستان کسی قسم کی فرقہ واریت، تشدد یا تقسیم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایسا کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ لیکن بعض افراد فیلڈ مارشل کی اس تنبیہ پر بدگمانی پھیلا رہے ہیں۔ انجانے میں وہ ایران مخالف قوتوں اور پاکستان دشمن بیرونی طاقتوں کا آلۂ کار بن رہے ہیں۔ انہیں محتاط ہونا چاہیے کہ ایسا رویہ ایران کو تنہا کر سکتا ہے جبکہ اسلامی ممالک میں پاکستان ہی ایران کے حوالے سے مثبت کردار ادا کر رہا ہے جس کا ایران بھی معترف ہے۔ مشتری ہوشیار باش

؎تری دوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میں

فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے

تازہ ترین