• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ حقیقت درست ہے کہ پاکستان کے شیعہ عوام ایران سے گہری جذباتی وابستگی رکھتے ہیں،یہ امر بھی تسلیم کہ مشہد اور قم کی زیارات کے ساتھ قوم کی گہری روحانی وابستگی ہے،اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ 1979 کے انقلاب ایران نے شیعہ قوم کو ایک نئی شناخت عطا کی۔یہ بات بھی اپنی جگہ پر درست ہے کہ القدس کے معاملے پر ایران مزاحمت کا ایک استعارہ ہے،یہ بھی ایک بدیہی حقیقت ہے کہ پاکستان میں ماضی کے فرقہ وارانہ تنازعات میں دیگر مسالک کی طرح اہل تشیع کے کئی نامور افراد شہید ہوئے،لیکن ایران سے محبت کی آڑ میں پاکستان میں جلاؤ گھیراؤ کی حمایت نہیں کی جا سکتی،آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی بنیاد پر مسلح افواج کے خلاف منظم نفرت انگیز مہم کو کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا،کراچی میں امریکن قونصلیٹ اور اسکردو میں سول و عسکری تنصیبات پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔اس تناظر میں گزشتہ دنوں آرمی چیف نے شیعہ علما کرام سے ملاقات کی۔

یہ ملاقات اس حوالے سے منفرد تھی کہ یہ پہلا موقع تھا کہ صرف ایک مکتب کے علما کے ساتھ خصوصی ملاقات رکھی گئی،ماضی میں عموماً تمام مکاتب فکر کو اکٹھا ہی بلایا جاتا رہا ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گھر کی باتیں گھر میں رہتیں،اور یہی ماضی کی روایت بھی ہے۔لیکن سینٹ میں قائد ایوان راجہ ناصر عباس نے اس روایت کو توڑا اور پھر بےبنیاد باتوں کا ایک پینڈورا بکس کھل گیا۔اس ملاقات کے بعد یوں لگا جیسے کچھ احباب غیر ملکی قوتوں کے آلہ کاروں کی زبان بولنے لگے۔نہ معاملے کی حساسیت کا ادراک نہ علاقائی صورتحال کا اندازہ۔اس افسوسناک مہم نے فہمیدہ حلقوں کو چونکا دیا۔عمومی طور پر شیعہ علما دلیل اور منطق کے ساتھ بات کرتے ہیں اور گفتگو کا معیار بہت بلند ہوتا ہے لیکن یہ شعلے اگلتی گفتگو نہ صرف منطق اور دلیل سے عاری تھی بلکہ افسوسناک الزامات پر مبنی تھی۔اس گفتگو کو کسی بھی صورت میں علما کی نمائندہ گفتگو نہیں کہا جاسکتا بلکہ ایک حساس موضوع پر غیر محتاط تقریر کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔

حالیہ دنوں آرمی چیف کی جانب سے شیعہ علما سے ملاقات ایک معمول کی سرگرمی نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے ایک خاص پس منظر اور گہری تشویش کارفرما تھی۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران کے حوالے سے جذباتی وابستگی،

اور بعض افسوسناک واقعات جیسے اسکردو اور کراچی میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے ریاستی اداروں کو یہ احساس دلایا کہ اگر بروقت رہنمائی نہ کی گئی تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت اعلیٰ ایرانی قیادت کی شہادت نے ایک جذباتی فضا پیدا کی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کے کسی اور مسلم ملک میں اپنی تنصیبات پر حملے ہوئے؟کیا ترکی،بنگلہ دیش،انڈونیشیا ملائشیا کے مسلمانوں نے وہی رویہ اختیار کیا جو یہاں کے چند نادان اور جذباتی لوگوں نے اختیار کیا ہوا تھا؟کیا اس جذباتی کیفیت کو اس حد تک بڑھا دینا درست ہے کہ اپنے ہی ملک میں بدامنی کو ہوا ملے؟ایرانی پارلیمان میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں،ایرانی وزیر خارجہ پاکستان کا شکریہ ادا کر رہے ہیں،ایران کے روحانی پیشوا اپنے والد کی پاکستان کے ساتھ گہری وابستگی بیان کر رہے ہیں پھر یہ نادان دوست کس کے ایجنڈے پر منافرت بڑھا رہے ہیں؟

پاک فوج کے سپہ سالار فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترجیحات اس وقت بالکل واضح ہیں۔ پاکستان کو اندرونی طور پر مستحکم کرنا، دہشت گردی اور انتشار کا خاتمہ کرنا، اور بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنا۔ پاک فوج اس وقت کئی محاذوں پر مصروف عمل ہے۔ ایسے میں اگر اندر سے ہی اختلاف اور مزاحمت کی فضا پیدا کی جائے تو یہ قومی مفاد کے خلاف ہوگا۔یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ انکی پالیسی میں کوئی ابہام نہیں۔وہ اندرونی اور بیرونی سازشوں سے آگاہ ہیں اور انکا مقابلہ کرنے کا عزم واضح ہے۔

قوم کی اکثریت آج بھی اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ پاک فوج نے اس ملک کی بقا اور سلامتی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ شہدا کا خون اس بات کا گواہ ہے کہ یہ ادارہ صرف ایک فوج نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے،پاکستان کے تحفظ کا نظریہ۔ اس لیے جب کوئی اس ادارے کے خلاف زبان درازی کرتا ہے تو وہ دراصل قوم کے جذبات کو مجروح کرتا ہے۔

شیعہ علما کرام سے گزارش ہے کہ وہ اپنے پیروکاروں کو یہ سمجھائیں کہ ایران یا کسی بھی دوسرے ملک سے محبت اپنی جگہ، مگر پاکستان ہماری پہلی اور آخری ترجیح ہونی چاہیے۔ کسی دوسرے ملک کے لیے اپنے وطن میں انتشار پیدا کرنا نہ صرف غیر دانشمندانہ ہے بلکہ شرعی اور اخلاقی طور پر بھی محلِ نظر ہے۔’سیاسی علما‘اپنا سیاسی ایجنڈا ضرور بڑھائیں، اپنی سیاسی جماعت کی نمائندگی بھی کریں لیکن خدا کے لیے موجودہ صورت حال کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کریں۔اسلام ہمیں امن، اتحاد اور اپنے معاشرے کی بہتری کا درس دیتا ہے، نہ کہ فساد اور بدامنی کا۔یہ وقت اتحاد کا ہے، نہ کہ تقسیم کا۔ یہ وقت ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے، نہ کہ اس کے خلاف صف آرا ہونے کا۔ اگر ہم نے اس موقع پر دانشمندی کا مظاہرہ نہ کیا تو اس کے نتائج نہ صرف آج بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑیں گے۔

تازہ ترین