• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا اسرائیل نے ایران کے جوابی میزائل حملوں کی طاقت کو کم سمجھا؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

ایرانی میزائلوں نے اسرائیل کے اہم شہروں اراد اور دیمونا کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کم از کم 180 افراد زخمی ہوئے جبکہ سیکڑوں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے صورتحال کو بہت مشکل رات قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ جنگ اسرائیل کے مستقبل کی جنگ ہے۔

ایرانی حملہ کیوں مؤثر ثابت ہو رہا ہے؟

دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کا میزائل پروگرام مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا اور متنوع پروگرام ہے، جس میں بیلسٹک اور کروز میزائل شامل ہیں، ایران نے حالیہ حملوں میں ایسے میزائل استعمال کیے جو ہدف کے قریب پہنچ کر متعدد چھوٹے بموں (کلسٹر وار ہیڈ) میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔

یہ کلسٹر وار ہیڈ ایک بڑے دھماکے کے بجائے درجنوں چھوٹے دھماکوں میں تبدیل ہو کر بڑے علاقے کو متاثر کرتے ہیں، جس سے دفاعی نظام کے لیے انہیں روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اسرائیلی دفاعی نظام کیوں ناکام ہوا؟

اسرائیلی فوج کے مطابق کچھ ایرانی میزائل دفاعی نظام کو چکمہ دینے میں کامیاب رہے۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے بیک وقت بڑی تعداد میں میزائل فائر کیے، کلسٹر بموں نے ایک میزائل کو کئی اہداف میں تبدیل کر دیا، اسرائیل ممکنہ طور پر اپنے مہنگے انٹرسیپٹرز بچانے کی حکمتِ عملی اپنا رہا ہے۔

جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کا خدشہ

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے نطنز نیوکلیئر پلانٹ پر حملے کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے، جواب میں ایران نے ناصرف اسرائیل بلکہ خطے میں اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کا عندیہ دیا ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور خلیجی ممالک میں اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی نے عالمی سطح پر تشویش بڑھا دی ہے۔

کیا اسرائیل نے ایران کو کمزور سمجھا؟

تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل ایران کی میزائل صلاحیت سے مکمل طور پر لاعلم نہیں تھا، لیکن حالیہ حملوں نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ایران کی جوابی کارروائی زیادہ مؤثر اور منظم ہے، جنگ پہلی بار اسرائیل کے اندر گہرے اثرات چھوڑ رہی ہے، شہری علاقوں میں نقصان نے نفسیاتی دباؤ بڑھا دیا ہے۔

ایران نے ثابت کیا ہے کہ وہ جدید میزائل ٹیکنالوجی کے ذریعے اسرائیل کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم جنگ کا حتمی نتیجہ ابھی غیر واضح ہے کیونکہ امریکا کی شمولیت اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید