• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہیپاٹائٹس ای کے خلاف نئی دوا مؤثر ثابت ہونے کی امید

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

حالیہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ ہیپاٹائٹس سی کے لیے کلینیکل ٹرائلز میں زیرِ آزمائش ایک دوا ہیپاٹائٹس ای وائرس کے خلاف بھی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے.

یہ نتائج 6 مارچ 2026 کو معروف طبی جریدے گٹ میں شائع ہوئے، جنہیں ماہرین صحت نے وائرل ہیپاٹائٹس کے خلاف جدوجہد میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔

ہیپاٹائٹس ای دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 70 ہزار اموات کا سبب بنتا ہے۔ یہ جگر کا مہلک انفیکشن ہے، اب تک نہ تو اس کی کوئی منظور شدہ ویکسین موجود ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص علاج۔ تاہم محققین کا کہنا ہے کہ اب اس حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔

یہ تحقیق جرمنی کے شہروں بوخوم اور ہائیڈلبرگ کے ساتھ ساتھ بیجنگ میں موجود سائنس دانوں کی مشترکہ ٹیم نے انجام دی۔

تحقیق کے دوران “Bmnfosbuvir” نامی مرکب کو ہیپاٹائٹس ای وائرس کے خلاف انتہائی مؤثر پایا گیا۔ یہ مرکب نیوکلیوٹائیڈ / نیوکلیوسائیڈ اینالاگ ادویات کے ذخیرے میں سے منتخب کیا گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق چونکہ یہ دوا پہلے ہی ہیپاٹائٹس سی کے لیے آزمائشی مراحل سے گزر رہی ہے، اس لیے اسے نسبتاً کم وقت میں ہیپاٹائٹس ای کے علاج کے طور پر متعارف کرایا جا سکتا ہے۔

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ مزید تحقیق اور کلینیکل آزمائشیں ابھی ضروری ہیں، تاہم اگر نتائج کامیاب رہے تو یہ دریافت مستقبل قریب میں لاکھوں جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

صحت سے مزید