دفتروں میں کام کرنے والے بہت سے لوگ صرف چند گھنٹوں کام کرنے کے بعد تھکے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ دفتروں کے اندرونی ماحول ہو سکتا ہے۔
یہ تصور جسے آن لائن آفس ایئر تھیوری کہا جاتا ہے، اس وقت مقبول ہوا جب ایک امریکی ٹک ٹاکر نوا ڈون لان جو خود کو کارپوریٹ گرل کہتی ہیں، نے ویڈیوز پوسٹ کیں جن میں انہوں نے دکھایا کہ دن بھر کے کام کے بعد ان کی ظاہری حالت میں واضح تبدیلی آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس رجحان کا پہلی بار احساس چار سال پہلے اس وقت ہوا جب انہوں نے کل وقتی ملازمت شروع کی۔
کئی جگہ نوکری کے باوجود بھی انہیں اپنے اندر ایسی ہی صورتحال نظر آئی۔ ان کے دوست اور رشتہ دار جو کہ دفاتر میں ہی کام کرتے ہیں، انکا بھی تجربہ اسی قسم کا تھا۔ جب انہوں نے اپنی یہ بات ٹک ٹاک پر شیئر کی تو بہت سے لوگوں نے بھی اسی طرح کے تجربات کا ذکر کیا۔
ماہرین کے مطابق اس کی وجوہات کافی سادہ ہو سکتی ہیں۔ ایک ممکنہ وجہ فلوریسینٹ روشنی ہے، جو دفاتر میں عام ہوتی ہے۔ نیو یارک کے ایک اسپتال کے شعبہ امراض جلد کے سربراہ ڈاکٹر راس لیوی کے مطابق کچھ فلوریسینٹ بلب معمولی مقدار میں الٹرا وائلٹ شعاعیں خارج کرتے ہیں، الٹرا وائلٹ شعاعیں جلد کی عمر بڑھنے کی ایک بڑی وجہ اور اسکن کینسر میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ لیکن روشنی ممکنہ طور پر مسئلے کا صرف ایک حصہ ہے۔
ماہر امراض جلد ڈاکٹر حزال جعفری کے مطابق دفتر کی ہوا، خاص طور پر جب وہ خشک ہو اور مسلسل گردش میں رہے، جلد پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔
انھوں نے کہا دفتری ماحول اکثر یک جا ہوکر کئی قسم کے اثرات مرتب کرتے ہیں اور یہ تمام عوامل آہستہ آہستہ انسان کی ظاہری شکل پر اثر انداز ہوتے ہیں، جن میں خشک ہوا، ناقص فلٹریشن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بلند سطح شامل ہیں۔
انکے مطابق یہ سب آپ کی جلد، بالوں اور آنکھوں پر اثر ڈالتے ہیں۔ یہ بے رونقی، جلن اور دن کے اختتام پر نظر آنے والی تھکن کا باعث بن سکتے ہیں۔ جبکہ مجموعی طور پر یہ نام نہاد نظریہ محض ایئر کنڈیشننگ، مصنوعی روشنی اور خراب اندرونی فضائی معیار کے باہمی اثرات کا ایک ظاہری نتیجہ ہو سکتا ہے۔