ایک پلیٹ گول گپے عام طور پر چٹ پٹے کھانوں کے شوقین افراد کا موڈ صرف سیکنڈز میں خوشگوار بنا دیتے ہیں، لیکن بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے ایک گاؤں میں کچھ افراد کو گول گپے کھانا مہنگا پڑ گیا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ضلع گرڈی میں ایک ریڑھی پر فروخت ہونے والے گول گپے کھانے کے بعد گاؤں کے متعدد افراد کی طبیعت بگڑ گئی اور 18 افراد اسپتال میں داخل ہوئے جن میں سے ایک 7 سالہ معصوم بچہ زندگی کی بازی ہار گیا۔
اس واقعے نے گرمی کے موسم میں کھانے میں احتیاط برتنے کے حوالے سے بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ماہرین صحت کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ گول گپے بظاہر تو صرف سادہ اسنیک ہیں مگر ان میں استعمال ہونے والے اجزاء اگر صاف ستھرے اور تازہ نہ ہوں تو یہ صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اس ڈش میں استعمال ہونے والا پانی اگر صاف اور فلٹر شدہ نہ ہو تو اس میں نقصان دہ بیکٹیریاز پیدا ہو سکتے ہیں۔
ماہرین صحت نے مزید کہا کہ گرم موسم میں بیکٹیریاز بہت تیزی سے نشونما پاتے ہیں، لہٰذا تھوڑا سا غیر محفوظ پانی بھی چند گھنٹوں میں صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
ماہرین صحت نے بتایا کہ گول گپوں میں استعمال ہونے والے ابلے ہوئے آلو اور چنے بھی گرمیوں میں زیادہ دیر تک کسی ایسی جگہ پڑے رہیں جہاں کا درجہ حرارت زیادہ ہو تو خراب ہو جاتے ہیں۔
ماہرین صحت نے مزید کہا کہ یہ بات بھی اہم ہے کہ ریڑھیوں اور اسٹالز پر اس طرح کی اشیاء فروخت کرتے وقت حفظان صحت کے اصولوں کا کتنا خیال رکھا جاتا ہے۔
ماہرین صحت نے مشورہ دیا ہے کہ اسٹریٹ فوڈ سے مکمل پرہیز ضروری نہیں، لیکن احتیاط کرنا ضروری ہے، باہر سے چاٹ، گول گپے یا چپس وغیرہ خریدتے ہوئے ایسے اسٹال کا انتخاب کیا جائے جہاں کھانا آپ کے سامنے تیار کیا جائے، صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہو اور اجزاء کو ڈھانپ کر رکھا گیا ہو۔