مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے پاور پلانٹس پر حملوں کی دھمکی کے بعد خطے میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جبکہ ایران نے بھی سخت جوابی اقدامات کا عندیہ دے دیا ہے۔
ٹرمپ کی وارننگ کیا تھی؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہ کھولا گیا تو امریکا ایران کے بڑے پاور پلانٹس کو نشانہ بنائے گا۔
بعد ازاں ٹرمپ نے عارضی طور پر 5 دن کے لیے ان حملوں کو روکنے کا اعلان کیا اور دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ مثبت بات چیت جاری ہے، تاہم ایرانی حکام نے اس کی تردید کر دی۔
ایران کا سخت مؤقف
ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران کے بجلی گھروں کو نشانہ بنایا گیا تو اسرائیل کے پاور پلانٹس کو بھی نشانہ بنایا جائے گا، خطے میں امریکی اڈوں کو بجلی فراہم کرنے والے مراکز پر حملے ہوں گے، توانائی، تیل اور بنیادی ڈھانچے کو جائز اہداف سمجھا جائے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ امریکی مالیاتی ادارے اور ٹریژری بانڈز سے منسلک ادارے بھی نشانے پر آ سکتے ہیں۔
ممکنہ اہداف کون سے ہیں؟
ماہرین کے مطابق ایران کے اسرائیل کے بڑے پاور پلانٹس، خصوصاً تل ابیب اور اشکلون کے قریب واقع تنصیبات ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ توانائی کا انفرااسٹرکچر، خلیجی ممالک کی آئل ریفائنریز، گیس فیلڈز، ایک این جی پلانٹس اور اہم بندرگاہیں شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق قطر اور سعودی عرب کی تنصیبات پہلے ہی حملوں کی زد میں آ چکی ہیں۔
ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایسے عالمی مالیاتی اداروں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے جو امریکی فوجی بجٹ یا خطے میں سرگرمیوں کی مالی معاونت کرتے ہیں۔
خطے میں پانی کی شدید کمی کے باعث ڈیسالینیشن پلانٹس (سمندری پانی کو صاف کرنے والے پلانٹس) انتہائی اہم ہیں اور ایران نے اشارہ دیا ہے کہ یہ بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کا بحران
ایران نے آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر بند کر دیا ہے، جو دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل و گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، اس اقدام کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ راستہ صرف امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے بند ہے، جبکہ دیگر ممالک کے جہاز محدود پیمانے پر گزر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا ایران کے پاور پلانٹس پر حملہ کرتا ہے تو اس کے جواب میں ایران پورے خطے میں توانائی، معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے ناصرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔