• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہائی کولیسٹرول دبلے افراد میں بھی دل کے دورے کا سبب بن سکتا ہے، ماہر امراض قلب

ہم میں سے اکثر لوگوں کے ذہن میں ایک مخصوص تصور ہوتا ہے کہ دل کے دورے کا شکار صرف موٹے، زیادہ وزن والے درمیانی عمر کے ورزش نہ کرنیوالے اور تلی ہوئی چیزیں کھانے والے ہی ہوتے ہیں۔

لیکن معروف ماہر امراضِ قلب ڈاکٹر اولیور گٹ مین کا کہنا ہے کہ یہ تصور خطرناک حد تک غلط ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق دل کی بیماری کا ایک بڑا اور خطرناک سبب ہائی کولیسٹرول ہے اور یہ ان لوگوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے جو بظاہر دبلے پتلے، فٹ اور صحت مند نظر آتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگرچہ غیر صحت بخش عادات جیسے زیادہ چکنائی والی غذا کھانا، زیادہ شراب نوشی اور ورزش سے گریز دل کے دورے کے خطرے کو بڑھاتے ہیں، لیکن انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف جسمانی ساخت سے مکمل اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

کولیسٹرول پر صرف وزن اثر انداز نہیں ہوتا۔ جینیات، خوراک، عمر اور جسمانی سرگرمی، یہ تمام عوامل کولیسٹرول کی سطح پر اثر ڈالتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ کولیسٹرول اکثر کوئی علامات ظاہر نہیں کرتا، یہاں تک کہ بہت دیر ہو جاتی ہے۔ ہائی کولیسٹرول کو اکثر خاموش قاتل کہا جاتا ہے کیونکہ یہ دل کے دورے، فالج اور دیگر قلبی بیماریوں کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔

واضح رہے کہ ہائی کولیسٹرول جو برطانیہ میں موت اور معذوری کی سب سے بڑی وجہ ہے اور ہر سال تقریباً 170,000 افراد اس وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں

اس حوالے سے ڈاکٹر گٹ مین نے حقائق اور غلط فہمیوں کو واضح کرنے کے حوالے سے کہا کہ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کولیسٹرول کیا ہے۔ یہ ایک چکنائی جیسا مادہ ہے جسے لیپڈ کہا جاتا ہے اور یہ جسم کے ہر خلیے میں پایا جاتا ہے، تمام کولیسٹرول نقصان دہ نہیں ہوتا۔

ایچ ڈی ایل کولیسٹرول جسے مفید کولیسٹرول کہا جاتا ہے، خون میں موجود اضافی کولیسٹرول کو جگر تک لے جاتا ہے جہاں اسے ختم کر دیا جاتا ہے۔ لیکن نقصاندہ ایل ڈی ایل کولیسٹرول، مختلف طریقے سے کام کرتا ہے۔ یہ شریانوں کی دیواروں میں جمع ہو کر چکنائی کی تہہ بناتا ہے، جس سے خون کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں اور دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر ایچ ڈی ایل کی مقدار کم ہو، تو یہ نقصان دہ کولیسٹرول زیادہ آسانی سے جمع ہو سکتا ہے۔ 

ڈاکٹر گٹ مین کے مطابق صرف کل کولیسٹرول کا عدد مکمل تصویر نہیں دکھاتا۔  بلکہ دو افراد کا کل کولیسٹرول ایک جیسا ہو سکتا ہے، لیکن ان کے دل کی بیماری کے خطرات مختلف ہو سکتے ہیں۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ اچھے اور برے کولیسٹرول کا توازن کیسا ہے دیگر عوامل جیسے بلڈ پریشر، عمر، سگریٹ نوشی، ذیابیطس اور فیملی ہسٹری بھی دیکھتے ہیں۔ لہٰذا صرف ایک نمبر پر توجہ دینا کافی نہیں۔

انھوں نے کہا بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ دبلے اور متحرک ہیں تو انہیں کولیسٹرول کی فکر نہیں کرنی چاہیے، لیکن یہ سوچ غلط اور خطرناک ہو سکتی ہے۔ دبلا ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ آپ کا کولیسٹرول صحت مند ہے۔ کولیسٹرول پر صرف وزن نہیں بلکہ کئی دیگر عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

صحت سے مزید