• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت: اہل خانہ کی مرضی سے 13 سال سے کوما میں رہنے والے طالبعلم کی زندگی کا خاتمہ کردیا گیا

بھارت میں پیسیو ایوتھینیشیا کی اجازت پانے والے پہلے شخص ہریش رانا کی منگل کے روز دہلی کے ایمس اسپتال میں زندگی کا خاتمہ کردیا گیا۔ وہ 2013 سے کوما میں تھا اور 13 سال سے زائد عرصہ اسی حالت میں زندگی گزار رہا تھا۔

پس منظر

31 سالہ ہریش رانا، جو ریاست پنجاب کی ایک یونیورسٹی میں بی ٹیک کے طالب علم تھا، 2013 میں چوتھی منزل سے گرنے کے بعد شدید دماغی چوٹ کا شکار ہوا۔ اس کے بعد سے وہ صرف طبی غذائی سپورٹ اور کبھی کبھار آکسیجن کے ذریعے زندہ رہا۔

تاہم 11 مارچ کو بھارتی سپریم کورٹ نے پہلی مرتبہ کسی مریض کےلیے پیسیو ایوتھینیشیا کی اجازت دی، جس کے بعد 14 مارچ کو ہریش کو غازی آباد سے دہلی کے ایمس اسپتال کے پالی ایٹیو کیئر یونٹ میں منتقل کیا گیا۔

تین دن بعد عدالت کے حکم کے مطابق ان کی مصنوعی غذائی سپورٹ بتدریج ختم کر دی گئی۔

پیسو ایوتھینیشیا کیا ہے؟

پیسو ایوتھینیشیا میں مریض کو زندگی بچانے والے آلات یا علاج سے ہٹا دیا جاتا ہے تاکہ وہ باوقار انداز میں دنیا سے رخصت ہو سکے۔ عدالت نے ایمس کو ہدایت دی تھی کہ یہ عمل ایک منصوبہ بندی کے تحت عزت و احترام کے ساتھ مکمل کیا جائے۔

عدالتی فیصلہ اور طبی ٹیم

اس عمل کے لیے پروفیسر ڈاکٹر سیما مشرا کی سربراہی میں ایک خصوصی میڈیکل ٹیم تشکیل دی گئی، جس میں نیورو سرجری، آنکو اینستھیزیا، پالی ایٹیو میڈیسن اور سائیکاٹری کے ماہرین شامل تھے۔

بھارتی سپریم کورٹ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہریش صرف ’پرسکیوٹینیس اینڈوسکوپک گیسٹروسٹومی‘ ٹیوب کے ذریعے غذائی سپورٹ پر زندہ تھے اور طبی بورڈز نے متفقہ طور پر قرار دیا تھا کہ علاج جاری رکھنے سے صرف حیاتیاتی وجود برقرار رہتا ہے، صحتیابی کا کوئی امکان نہیں۔

خاندان کا موقف

ہریش کے والد اشوک رانا نے کہا کہ پیسیو ایوتھینیشیا سے بیٹے کی عزتِ نفس بحال ہو گی، کیونکہ وہ برسوں سے ناقابلِ علاج تکلیف میں تھا۔

خاندان نے واضح کیا کہ اس فیصلے سے انہیں کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہوگا لیکن یہ قدم عوامی مفاد میں دوسروں کے لیے مثال بن سکتا ہے۔

قانونی پس منظر

بھارتی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ 2018 کے ’کامن کاز‘ مقدمے اور اس میں 2023 کی ترمیم کے مطابق ہے، جس نے باوقار موت کے حق کو بنیادی حق تسلیم کیا تھا۔

عدالت نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ پیسیو ایوتھینیشیا پر جامع قانون سازی پر غور کرے۔

ہریش رانا کی موت کے ساتھ ہی بھارت میں پہلی مرتبہ پیسیو ایوتھینیشیا کا عملی نفاذ ہوا، جو بھارت میں ایک تاریخی اور جذباتی قانونی سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید