ماہرین نے نئی ذمہ داریاں سنبھالنے والے والدوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اہلِ خانہ کی دیکھ بھال کے ساتھ اپنی ذہنی اور جسمانی صحت پر بھی خصوصی توجہ دیں۔
اگر آپ حال ہی میں باپ بنے ہیں اور ذہنی دباؤ یا دیگر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق باپ بننے کے بعد بڑھتی ہوئی ذمہ داریاں مردوں کی ذہنی صحت کو متاثر کر سکتی ہے۔
طبی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق مردوں میں باپ بننے کے ایک سال کے اندر ڈپریشن اور ذہنی دباؤ سے متعلقہ عوارض کا خطرہ تقریباً 30 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
اس تحقیق کے لیے سائنسدانوں نے سوئیڈن میں 2003ء سے 2021ء کے دوران ہونے والی تقریباً 19 لاکھ پیدائشوں اور تقریباً 11 لاکھ باپوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ شریکِ حیات کے حمل اور بچے کی پیدائش کے فوراً بعد مردوں میں نفسیاتی بیماریوں کی تشخیص کا امکان 5 گنا تک کم ہو جاتا ہے۔ تاہم، چند ماہ بعد یہ شرح دوبارہ معمول پر آ جاتی ہے اور پھر بچے کی پہلی سالگرہ کے قریب پہنچتے ہی تقریباً 30 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، جب باپ ڈپریشن اور بے چینی جیسے مسائل کا سامنا کرنے لگتے ہیں۔
تحقیق کی سربراہ جِنگ ژو کا کہنا ہے کہ باپ بننے کا مرحلہ مثبت تجربات کے ساتھ ساتھ نئے دباؤ بھی لے کر آتا ہے۔
ان کے مطابق ایک طرف باپ اپنے بچے کے ساتھ قریبی لمحات سے لطف اندوز ہوتے ہیں، تو دوسری جانب شریکِ حیات کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں اور نیند کا معیار بھی خراب ہو سکتا ہے، جو ذہنی صحت کے مسائل میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
نیویارک میں نارتھ ویل ہیلتھ کے ایک پروگرام کی میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر ختیہ کا کہنا ہے کہ باپوں کی ذہنی صحت کی اسکریننگ نہایت اہم ہے، تاہم اس پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حمل کے دوران خواتین باقاعدگی سے ڈاکٹر کے پاس جاتی ہیں اور بچے کی پیدائش کے بعد بھی متعدد طبی معائنے ہوتے ہیں، جبکہ باپوں کی ذہنی صحت کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نئے باپ اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنی صحت کا بھی خیال رکھیں تاکہ وہ بہتر انداز میں اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔