• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماہ رمضان کے بعد ہمارے معمولات زندگی اور دین و دنیا میں کامیابی کا راستہ

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی

عمل کی قبولیت کی جو علامتیں علمائے کرام نے قرآن وحدیث کی روشنی میں تحریر فرمائی ہیں، ان میں سے ایک اہم علامت عمل صالح کے بعد دیگر اعمال صالحہ کی توفیق اور دوسری علامت اطاعت کے بعد نافرمانی کی طرف عدم رجوع ہے۔ نیز ایک اہم علامت نیک عمل پر قائم رہنا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کو محبوب عمل وہ ہے جس میں مداومت یعنی پابندی ہو خواہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو۔ (بخاری ومسلم)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حضور اکرم ﷺ کے عمل کے متعلق سوال کیا گیا کہ کیا آپ ﷺ ایام کو کسی خاص عمل کے لئے مخصوص فرمایا کرتے تھے؟ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نہیں، بلکہ آپﷺاپنے عمل میں مداومت (پابندی) فرماتے تھے۔ اگر کوئی ایسا کرسکتا ہے تو ضرور کرے۔ (صحیح مسلم) 

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عبداللہ! فلاں شخص کی طرح مت بنوجو راتوں کو قیام کرتا تھا، لیکن اب چھوڑدیا۔ (بخاری ومسلم) لہٰذا ماہِ رمضان کے ختم ہونے کے بعد بھی ہمیں برائیوں سے اجتناب اور نیک اعمال کا سلسلہ باقی رکھنا چاہئے، کیونکہ اسی میں ہماری دونوں جہاں کی کامیابی وکامرانی مضمر ہے۔

نماز ‘ ایمان کے بعد دین اسلام کا سب سے اہم اور بنیادی رکن ہے جس کی ادائیگی ہر عاقل وبالغ مسلمان پر فرض ہے۔ لیکن انتہائی تشویش وفکر کی بات ہے کہ مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد اِس اہم فریضے سے بے پروا ہے۔

رمضان کے مبارک ماہ میں تو نماز کا اہتمام کرلیتے ہیں، مگر رمضان کے بعد پھر کوتاہی اور سستی کرنے لگتے ہیں۔ حالاںکہ قرآن وحدیث میں اِس فریضے کی بہت زیادہ اہمیت اور تاکید وارد ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر وقت (رمضان اور غیر رمضان) نماز کا پابند بنائے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یقینا نماز مؤمنوں پر مقررہ وقتوں پر فرض ہے۔ (سورۃ النساء ۱۰۳)حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن آدمی کے اعمال میں سب سے پہلے فرض نماز کا حساب لیا جائے گا۔ اگر نماز درست ہوئی تو وہ کامیاب وکامران ہوگا اور اگر نماز درست نہ ہوئی تو وہ ناکام اور خسارہ میں ہوگا۔ (ترمذی، ابن ماجہ، نسائی، ابوداود ، مسند احمد) 

حضرت عبادہ بن صامت ؓروایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے بندوں پر پانچ نمازیں فرض فرمائی ہیں، جو اِن نمازوں کو اس طرح لے کر آئے کہ ان میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کی ہو تو حق تعالیٰ شانہ کا عہد ہے کہ اسے جنت میں ضرور داخل فرمائے گا۔ اور جو شخص ایسا نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کا کوئی عہد اس سے نہیں، چاہے اسے عذاب دے، چاہے جنت میں داخل کردے۔ (موطا مالک، ابن ماجہ، ابوداود ، مسند احمد) 

حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے آخری وصیت یہ ارشاد فرمائی: نماز، نماز (یعنی نماز کا اہتمام کرو)۔ جس وقت آپ ﷺنے یہ وصیت فرمائی آپ ﷺکی زبانِ مبارک سے پورے لفظ نہیں نکل رہے تھے۔ (مسند احمد) 

حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے گورنروں کو یہ حکم جاری فرمایا کہ میرے نزدیک تمہارے امور میں سب سے زیادہ اہمیت نماز کی ہے۔ جس نے نماز کی پابندی کرکے اس کی حفاظت کی ،اس نے پورے دین کی حفاظت کی اور جس نے نماز کو ضائع کیا ،وہ نماز کے علاوہ دین کے دیگر ارکان کو زیادہ ضائع کرنے والا ہوگا۔

تلاوتِ قرآن کا روزانہ اہتمام کریں خواہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو۔ علمائےکرام کی سرپرستی میں قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کریں۔ قرآن کریم میں وارد احکام ومسائل کو سمجھ کر اُن پر عمل کریں اور دوسروں کو پہنچائیں۔ یہ میری، آپ کی اور ہر شخص کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم قرآن کریم کے معنی ومفہوم نہیں سمجھ پا رہے، تب بھی ہمیں تلاوت کرنی چاہئے کیونکہ قرآن کی تلاوت بھی مطلوب ہے۔

حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایک حرف قرآن کریم کا پڑھے، اس کے لئے اس حرف کے عوض ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجردس نیکی کے برابر ملتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ الٓمٓ ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف، لام ایک حرف اور میم ایک حرف۔ (ترمذی)

حرام رزق کے تمام وسائل سے بچ کر صرف حلال رزق پر اکتفا کریں، خواہ مقدار میں بظاہر کم ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کل قیامت کے دن کسی انسان کا قدم اللہ تعالیٰ کے سامنے سے ہٹ نہیں سکتا، یہاں تک کہ وہ پانچ سوالوں کے جواب دےدے۔ ان پانچ سوالات میں سے دو سوال مال کے متعلق ہیں کہ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟

اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ صرف حلال وسائل پر ہی اکتفا کرے، جیسا کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: حرام مال سے جسم کی بڑھوتری نہ کرو، کیونکہ اس سے بہتر آگ ہے۔ (ترمذی) اسی طرح حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ انسان جنت میں داخل نہیں ہوگا، جس کی پرورش حرام مال سے ہوئی ہو، ایسے شخص کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (مسند احمد) نیز نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ حرام کھانے، پینے اور حرام پہننے والوں کی دعائیں کہاں سے قبول ہوں۔ (صحیح مسلم)

عصر حاضر میں بعض ناجائز چیزیں مختلف ناموں سے رائج ہوگئی ہے، ان سے بچنا چاہئے، کیونکہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: حلال واضح ہے، حرام واضح ہے۔ اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں، جنہیں بہت سارے لوگ نہیں جانتے۔ جس شخص نے شبہ والی چیزوں سے اپنے آپ کو بچالیا اُس نے اپنے دین اور عزت کی حفاظت کی اور جو شخص مشتبہ چیزوں میں پڑے گا، وہ حرام چیزوں میں پڑ جائے گا، اس چرواہے کی طرح جو دوسرے کی چراگاہ کے قریب بکریاں چراتا ہے کیونکہ بہت ممکن ہے کہ چرواہے کی تھوڑی سی غفلت کی وجہ سے وہ بکریاں دوسرے کی چراگاہ سے کچھ کھالیں۔ (بخاری ومسلم)

ہماری یہ کوشش وفکر ہونی چاہئے کہ ہماری اولاد اہم وضروری مسائل شرعیہ سے واقف ہوکر دنیاوی زندگی گزارے اور اخروی امتحان میں کامیاب ہوجائے، کیونکہ اخروی امتحان میں ناکامی کی صورت میں دردناک عذاب ہے، جس کی تلافی مرنے کے بعد ممکن نہیں ہے، مرنے کے بعد آنسو کے سمندر بلکہ خون کے آنسو بہانے سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

یاد رکھیں کہ اگر ہم اخروی زندگی کو سامنے رکھ کر دنیاوی زندگی گزاریں گے تو ہمارا بچوں کی تعلیم میں مشغول ہونا، ان کی تعلیم پر پیسہ خرچ کرنا اور ہر عمل دنیا وآخرت دونوں جہاں کی کامیابی دلانے والا بنے گا، ان شاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ مغفرت اور رحمت والے مہینے میں کئے گئے ہمارے تمام اعمال صالحہ کو قبول فرمائے اور ہمارے لئے جہنم سے چھٹکارے کا فیصلہ فرمائے۔( آمین)

اقراء سے مزید