• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فی الحال تو ایران کے پانچ نکات امریکہ کے 15 نکات پر حاوی ہو گئے ہیں۔ حالیہ جنگ کے سب فریق امن چاہتے ہیں مگر اپنی اپنی شرائط پر۔

ایران کے پانچ نکات ملاحظہ ہوں۔1۔ ایران پر لگی پابندیاں فورا ً ہٹائی جائیں2. امریکہ یہ مان لے کہ ایران کو پرامن ایٹمی توانائی کا حق حاصل ہے یورونیم کی افزودگی کی اجازت دی جائے 3. علاقائی معاملات میں مداخلت بند کی جائے ایران کی خود مختاری کا احترام کیا جائے 4. علاقے سے غیر ملکی فوجوں کا انخلاامریکہ عراق اور شام سمیت اس علاقے سے اپنے فوجی واپس بلا ئے ۔5۔نقصانات کا معاوضہ: امریکہ کو چاہیے کہ اس کے فوجی حملوں اور پابندیوں سے ایران کو جو نقصانات پہنچے ہیں ان کا معاوضہ ادا کرے۔ بہت جامع بہت معروضی۔ یہ کسی شکست خوردہ قوم کی شرائط نہیں بلکہ خون کے آخری قطرے تک مزاحمت کرتی کسی جری قوم کے فخریہ نکات ہیں۔

آئیے اب دیکھتے ہیں کہ امریکہ کے 15 نکات کیا تھے۔1۔ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو محدود کرے 2. ۔یورینیم کی افزودگی بند کرے 3. ۔افزودہ یورینیم انٹرنیشنل ایٹمی ایجنسی کے حوالے کرے 4. ۔ایران علاقے میں اپنی ملیشیا یعنی مسلح گروہوں کی حمایت بند کرے۔ 5 ۔ایران مختلف ملکوں پر حملے بند کرے۔ 6 ۔ایران آبنائے ہرمز سے اپنا قبضہ ہٹائے اور اسے سب ملکوں کے لیے کھولے 7. ۔امریکہ ایران پر لگائی پابندیاں ختم کرے گا 8. ۔امریکہ ایران کو بو شہر پلانٹ میں ایٹمی توانائی فراہم کرے گا 9. ۔ایران انٹرنیشنل ایٹمی ایجنسی کو اپنی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرنے دے گا 10. ۔ایران علاقے میں اپنی پراکسی کی حمایت بند کرے گا 11۔ 30 روز کی جنگ بندی کی جائے گی جس میں مذاکرات جاری رہیں گے 12. ۔ایران اپنے میزائل پروگرام کی پہنچ محدود کرے 13. ۔مستقبل میں میزائل صرف اپنے دفاع میں استعمال کرے 14. ۔اگر ایران نے ان نکات پر عمل درآمد نہ کیا تو پابندیاں پھر از خود عائد ہو جائیں گی 15. ۔سیکورٹی کی ضمانتیں تمام پابندیوں کے خاتمے کے ساتھ یہ ضمانت ہوگی کہ جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوگی ۔

عالمی تجزیہ کار یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکہ یہی شرائط پہلے بھی ایران کو 2025 میں پیش کر چکا ہے ایران نے اس وقت بھی انہیں مسترد کیا تھا۔ اب یہ نکات پاکستان کے ذریعے ایرانی قیادت کو پہنچائے گئے ہیں پاکستان نے صرف ایک قاصد کا کردار ادا کیا ہے یہ نہیں دیکھا کہ شرائط نئی ہیں یا ان میں حالیہ جنگ کے حوالے سے کوئی تبدیلی کی گئی ہے۔امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر چھیڑی گئی جنگ نے صرف خلیج اور جنوبی ایشیا کو متاثر نہیں کیا بلکہ پوری دنیا کی معیشت دگر گوں ہو رہی ہے۔ تجارتی اور معاشی نتائج بہت شدت سے نظر آرہے ہیں اس لیے مذاکرات کیلئے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ پاکستان نے ثالثی کا ذمہ لے کر ایک تاریخی چیلنج قبول کیا ہے۔ الحمدللّٰہ ایک واحد اسلامی ایٹمی طاقت کی حیثیت تو پاکستان کو حاصل ہے ۔یہ بھی دیکھنا ہے کہ ہماری سیاسی قیادت کو پہلے اس عالمی سطح کی ثالثی کا کوئی تجربہ ہے اور کیا داخلی طور پر مفاہمت میں اس قیادت نے کوئی کردار ادا کیا ہے ۔

ثالثی کی تاریخی امانت داری میں یہ خیال بھی رکھنا ہوگا کہ اس جنگ میں سب سے زیادہ مظلوم اور متاثر کون سا ملک ہے۔ ایران اس جنگ میں اکیلا لڑ رہا ہے اس لیے اس کی ہلاکتیں زیادہ بھی ہیں اور نقصانات بھی۔ اعلیٰ سطح کی ایرانی قیادتیں شہید ہوئی ہیں اس کے علاوہ تین ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے کم از کم 200 شہروں پر لگاتار حملے کیے ہیں ۔یونیسکو کی تاریخی میراث قرار کردہ عمارتیں بھی مسمار ہوئی ہیں۔ فوجی تنصیبات ،ہسپتال، اسکول تباہ ہوئے ۔امریکہ کا خلیج میں فوجی اڈوں کا نقصان 800 ملین ہے۔ 13 اڈے ناقابل رہائش ہوئے 15 فوجی ہلاک ۔افراط زر 4.2 فیصد ہو گیا ہے۔اسرائیل میں 17 ہلاکتیں ،سڑکوں پلوں ایئرپورٹوں بندرگاہوں میں تباہی ۔متحدہ عرب امارات میں توانائی کے مراکز پر حملے ۔تجارت اور تیل کی قیمتوں پر دبائو۔ سعودی عرب میں تیل اور توانائی کے کارخانوں پر حملے۔ تیل کی برآمد میں رکاوٹوں سے نقصانات۔ قطر میں بھی انفراسٹرکچر پر حملے اور سب سے زیادہ ایل این جی کی پیداوار کی سہولتیں متاثر ہوئی ہیں۔ ہوا بازی اور سیاحت کی صنعت میں بہت زیادہ خسارہ ہوا ہے۔ ابھی تو جنگ جاری ہے ۔ لبنان میں 1094 ہلاکتیں ،متحدہ عرب امارات 11 ،کویت 178 ،قطر چار، سعودی عرب دو، فرانس ایک ،اردن 60 ،بحرین تین ،عمان تین، غزہ کی پٹی میں پچھلے دو سال میں 75 ہزار شہید کیے گئے جن میں بچے اور خواتین زیادہ ہیں۔ اسرائیل کو اب تک 112 بلین ڈالر کے جنگی اخراجات لاحق ہوئے ہیں اور 77 بلین ڈالر کے اقتصادی نقصانات۔ اس لیے اسرائیل کے عوام کا اپنی حکومت پر جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اسرائیل کا یہ اقتصادی اور فوجی نقصان دراصل امریکہ کا نقصان ہے کیونکہ امریکہ ہی اب تک اسرائیل کے جنگی اخراجات برداشت کرتا آیا ہے۔ امریکی صدر نے کانگریس سے جنگی اخراجات کے لیے رقم بھی مانگی ہے۔

یہودیوں کا خواب ہے گریٹر اسرائیل۔ اس کی تعبیر میں عرب ممالک تو رکاوٹ نہیں ہیں ان میں سے تو اکثر اسرائیل کو تسلیم کر کے اس سے معاونت کر رہے ہیں۔ اس میں رکاوٹ سب سے بڑی ایران ہے۔ اسرائیل اس کا برملا اظہار بھی کر رہا ہے اور وہ ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا ہے ۔ادھر ایران نے بھی تہیہ کر لیا ہے کہ اسرائیل کو جنگ میں اتنا برباد کر دیا جائے کہ وہ عظیم تر اسرائیل کے خواب دیکھنا بند کردے ۔اگلے انتخابات میں نیتن یاہو اس تباہی کے بعد شاید ہی کامیاب ہو سکیں۔

ایران اسرائیل کی جنگ میں شدت اس علاقے میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی سے آئی ہے۔ سب سے اہم اور بڑا اڈا قطر میں العدید جہاں 10ہزار امریکی فوجی متعین ہیں اور بے حساب لاؤ لشکر ۔بحرین میں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا۔ متحدہ عرب امارات میں الظفر ایئر بیس۔ کویت میں ہوائی اڈہ بھی اور ضروری فوجی ساز و سامان کی فراہمی کا مرکز بھی۔عراق میں عین الاسد ایئر بیس اربیل ایئر بیس، کردستان کی مدد کے لیے مصر اردن میں بھی امریکی اڈے ہیں۔

مشرق وسطیٰ خاص طور پر خلیج کے ماہرین اور تجزیہ کار جلد جنگ بندی کی امید نہیں کر رہے ہیں کیونکہ اسرائیل اپنے قیام سے آج تک جس وسیع تر اسرائیل کے عزائم بنتا رہا ہے وہ سمجھ رہا ہے کہ اب نہیں تو کبھی نہیں۔ اس لیے غزہ میں بھی جنگ بندی کے باوجود اب تک کلمہ گوؤں کو چین سے سونے نہیں دیا ۔خلیج میں بھی جنگ بندی کے باوجود ایران پر حملے جاری رکھے گا۔ امریکہ اس وقت اسرائیل کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ امریکی صدر کا چہرہ لہجہ اور اکھڑی اکھڑی باتیں صاف غمازی کر رہی ہیں کہ وہ نیتن یاہو کے ہاتھوں میں مجبور ہیں ۔پاکستان کو تاریخ نے یہ موقع دیا ہے تو سیاسی فوجی قیادت کو چاہیے کہ وہ اپنے عوام کو اعتماد میں لیں۔ قومی اسمبلی میں جنگ کی صورتحال اور دونوں طرف کے نکات پر بحث کی جائے۔ پاکستان کے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں۔ خیال رہے کہ ایران اور افغانستان ہمارے پڑوسی ہیں امریکہ 10 ہزار میل دور ہے۔

تازہ ترین