• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجابی کے کلاسیکی شاعر اورسیف الملوک کے خالق میاں محمد بخش ؒ نے مشرقی روایت کے مطابق خود کو ملامت کرتے ہوئے لکھا۔

میں جاناں جھوٹا رب سچا، رب دی سچی سرکار

میں کیتیاں خطا واں لکھاں، رب سب دا پردہ دار

(مجھے علم ہے کہ میں جھوٹا ہوں اور خدا سچا ہے ، میں نے ان گنت خطائیں کی ہیں لیکن خدا سب کے پردے رکھتا ہے۔)

جب میرے کالم کی ایک ادارے نے یہ کہہ کر تردید کی کہ ’’یہ جھوٹ تھا‘‘ تو میں نے یہ ملامت میاں محمد بخش ؒکی پیروی میں اپنے گلے میں ڈال کر خود کو ’’سرٹیفائیڈ جھوٹا‘‘ کہنا شروع کر دیا اور ریکارڈ کیلئے راقم نے ہمیشہ یہ کہا کہ تاریخ فیصلہ کرے گی کہ سچا کون ہے اورجھوٹا کون؟

اندازہ ہے کہ رمز،کنائے، شعر و ادب اور مشرقی روایتوں کو سمجھنے والے بہت کم ہیں مگر مزا تب آیا جب میرا خود کو ’’سرٹیفائیڈ جھوٹا‘‘ کہنا ایک بہادر انصافی دوست اور اقتدار کے اعلیٰ ترین مہربان، دونوں کو اچھا لگا ایک نے سرکاری ری ٹویٹ کی اور انصافی بہادر نے وی لاگ کر ڈالا۔ یہ جانے اور سمجھے بغیر کہ بلھے شاہ نے خود کو کنجری سے تشبیہ دی۔

’’کنجر ی بن دیاں میری عزت نہ گھٹ دی‘‘

غالب نے خود کو بادہ خوار، نکما اور بدنام کہا علامہ اقبال نے کہا ’’من اپنا پرانا پاپی ہے‘‘ شاہ حسین نے لکھا ’’حسینا دیوانہ ہویا، لوکاں نوں لگدا پاگل‘‘۔ طاقتوروں اور بڑے بڑے ناموں والوں کی ان مثالوں کو پڑھ کر کیا کبھی انکی ملامت کو انکے اعمال سے یانام سے منسوب کیا گیا؟ تو پھر جنابان عالی مقام! اس گناہ گار کو ’’سرٹیفائیڈ جھوٹا‘‘ کے اعلیٰ ترین مقام پر کیوں فائز کر نا چاہتے ہیں۔بلھے شاہ اور جھلے شاہ کی خواہش کی دنیا بنانے پر بھی توجہ دیدیں، میاں محمد بخش اور قلم گھسیٹ کے مطابق پیار و محبت کے گیت بھی گا دیں۔ شاہ حسین اور شاہ مسکین کی خواہش پر غریب اور امیر کی تقسیم بھی ختم کر دیں۔

اس کالم نگار نے سیاسی اختلاف کیا ہے اور کرتا رہے گا لیکن کبھی ذاتی اختلاف میں نہیں پڑا۔ مگر ہمارے کچھ قابل احترام ساتھیوں نے ہر بات کی خود ساختہ تشریح کر کے ذاتی تنقید کی روایت ڈال دی ہے نہ اینکر، رائٹر یا مصنف سے پوچھتے ہیں نہ اسکی بات کو سمجھتے ہیں۔ کسی کی مدد لے کر ، کتاب پڑھ کر، استاد سے سیکھ کر یا چیٹ جی پی ٹی سے ہی سمجھ لیا کریں کہ خود کو ’’سرٹیفائیڈ جھوٹا‘‘ کہنا طنز و مزاح ہے، ملامتی روش کی پیروی ہے۔یاد رکھیں سچ اور جھوٹ کا فیصلہ تاریخ کرتی ہے صرف رب سچا ہے انسانوں کے پاس ا پنے اپنے جھوٹ ہیں جن میں سے اصل کا فیصلہ صرف رب کائنات کے پاس ہے۔ میاں محمد بخش نے یہی کچھ اپنی مصرع میں بیان کیا ہے۔

بلھے شاہ کیخلاف قصور کے قاضی، ملا اور عوام سب اکٹھے ہو گئے۔ جھلے شاہ تو انکی خاک کی بھی خاک ہے اسے مزہ تب آیا کہ اقتدار اور انصافی دونوں اس کیخلاف اکٹھے بول پڑے، حق و صداقت کی آج کے زمانے میں اس سے بڑی نشانی کیا ہو سکتی ہے کہ انا اور ضد کے بھنور میں پھنسے دونوں بھگوان بیک وقت جھلے شاہ کیخلاف صف آرا ہو جائیں ۔وجہ یہ ہےکہ دونوں ماضی میں ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے تھے بہادر بھگوڑے سارے کے سارے اقتدار اورطاقت کی نرسری میں ہی پیدا ہوئے ہیں خود سوچنے سمجھنے، پڑھنے لکھنے اور غیر جانبدارانہ تجزیے کرنے سے عاری ہیں مگر خود کو عقل کل سمجھتے ہیں جبکہ علم کی پہلی سیڑھی خود کو جاہل سمجھ کرہی عبور کی جاتی ہے۔

یہ قلم گھسیٹ عام طور پر ذاتی حملوں کا جواب دینے کا قائل نہیں تاریخ کا سفر اور زمانے کی گردش بہت سے سوالوں کے جوابات خود مہیا کر دیتی ہے مگر دو طرفہ حملے نے مجھے پریشانی کی بجائے حیرت میں ڈال دیا ہے بظاہر انصافی اور طاقتور باہم دست و گریبان ہیں۔ طاقتور، انصافیوں کے حق میں لکھی جانیوالی تحریروں اور بولنے والوں کو اپنا دشمن گردانتے ہیں اور انصافی طاقتور کے ساتھیوں یا حامیوں کو ہدف بناتے ہیں مگر قلم گھسیٹ کے معاملے میں یہ دونوں ایک کیسے ہو گئے؟ کیا انہیں دوست دشمن کی پہچان نہیں؟ کیا یہ عقل و فہم سے کام نہیں لیتے اور ایک ہی معاملے کے مختلف اور متضاد معانی نکالتے ہیں؟ کیا انہیں سادہ اردو زبان و تحریر کی تشریح میں بھی مشکل پیش آتی ہے؟ قلم گھسیٹ کے پاس ان سوالوں کے جوابات نہیں ہیں مگر اسے خوشی یہ ہے کہ دو آپس کے دشمن اِس کیخلاف اکھٹے ہو کرماضی کی دوستیتازہ کر رہے ہیں ۔ واہ بھئی واہ۔

ایک زمانہ تھا کہ لکھاری، سیاست دان اور قارئین سب باادب، باذوق اور فہمیدہ ہوتے تھے اب حکومتی پروپیگنڈا ہو یا انصافی اسیکنڈلز سب بے کیف ، بے ذوق اور بے ادب ہوتے ہیں ۔اپوزیشن رہنما نوابزادہ نصر اللہ خان لفظِ ضیاء کے معنی روشنی کو اندھیرے سے تشبیہ دے کر شاعری کیا کرتے تھے اور حکومت مخالفوں کو سیم اور تھور کہا کرتی تھی،پارلیمان میں شعر پڑھ کر طنز و مزاح کے مزے لیے جاتے تھے ۔ دنیا بھر کے معاشروں میں تحریر و تقریر ایک فن کا نام ہے کسی نرسری کے سفارشیوں کو اس فن کا کیا علم؟ وہ تو اسکائی لیب کی طرح صحافت میں آئے اور بھگوڑوں کی طرح پہلے ہلے میں بھاگ کر بہادر بن گئے خدا انہیں یہ رتبہ مبارک کرے ،یہ ڈالر کمائیں مگر جس فن سے روزی کما رہے ہیں اس کے اسرار و رموز تو جان لیں۔

یہ گھسیٹا کالم نگار اپنے باقی باعلم اور باذوق صحافیوں کے ہمراہ چار دہائیوں میں ایک ایک سیڑھی کے سفر کے بعد ابھی تک خود سیکھ رہا ہے مگر نام نہاد سیکھے سکھائے، نہ گہرائی کو سمجھتے ہیں نہ طنز اور نہ مزاح سے واقف ہیں تلمیح اور رموز تو خیر بہت آگے کی باتیں ہیں۔

مقدس مذہبی کتابیں ہوں یا مشرق و مغرب کے زبان و ادب ، سب میں قصے، کہانیاں رمز اور کنایہ کی آمیزش ملتی ہے ۔مغربی ادب میں جونا تھن سوئفٹ نے بونوں کے دیس کی کہانی لکھی ، وہاں کے دربار اور دربار شاہی کے جو آداب لکھے تھے وہ دراصل بونوں کے پردے میں برطانوی بادشاہوں اور انکے درباریوں پر ایک تنقید تھی۔ مولانا روم کے مرشد فرید الدین عطار نے منطق الطیر لکھ کر روح کے آفاقی سفر کو پرندوں کی اڑان سے تشبیہ دی، نطشے کا سپرمین اور اقبال کا شاہین بھی استعارے تھے۔ پاکستان کو مدینہ کے بعد دوسری اسلامی مملکت بھی ایک مثال کے طور پر کہا جاتا ہے، تحریک انصاف اپنےجیالوں کو چیتا کہتی ہے توکیا وہ واقعی اپنے جیالوں کو جانور بنانا چاہتی ہے؟ یہ استعارہ ہے۔ اسی طرح خود کو جھوٹا کہنا، پرندوں کی مثال، جانوروں سے تشبیہ سب تحریر کے فن میں صدیوں سے ہوتا آیا ہے اوریہی تحریر کا حسن کہلاتا ہے۔ یہ قلم گھسیٹا بالکل نالائق ہے اسلئے بھدے انداز میں اس فن کو استعمال کرنے پر شرمندہ شرمندہ رہتا ہے۔

یہ قلم گھسیٹا پھر سے دہرا رہا ہے کہ ’’میں سرٹیفائیڈ جھوٹا ہوں‘‘۔ اقتداریے اور انصافیے چاہے مذاق اڑائیں، طنز کریں اور مجھے نامعتبر اور جھوٹا جانیں کیونکہ ’’میں جاناں جھوٹا ، رب سچا‘‘ مجھے بے شک جو مرضی کہیں ان کا ہر پتھرمیرے لیے پھول ہے ، ہر الزام ایک میڈل ہے، ہر تمسخر باعث اطمینان ہے ،ہر زہرخند ہنسی تالیف قلب ہے ، ہر گالی اور ہر دشنام ، دعا کی طرح ہے بس گزارش اتنی ہے کہ ادھر جس قدر مرضی سنگ باری کریں ملک کی خاطر آپس میں ذاتی حملے بند کر دیں، سیاسی اختلاف رکھیں کیونکہ ذاتیات ضد بن جاتی ہے انا کسی کیلئے بھی فائدہ مند نہیں ہوتی اور ملک میں انائوں کی لڑائی ملک کو اوپر نہیں نیچے لےکر جا رہی ہے۔

تازہ ترین