• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی تو صدر ٹرمپ جو جنگ بندی کے لیے راستہ چاہتے تھے فوراً راضی ہو گئے۔ برادر ملک ایران بھی اپنے مطالبات بذریعہ پاکستان دینے پر آمادہ ہو گیا۔ اسلام آباد میں ثالثی کرانے کی تجویز گردش کرنے لگی تو ہندوستانی گودی میڈیا کو جیسے آگ لگ گئی۔ ادھر ہندوستانی وزیرِ خارجہ نے پاکستان کی آڑ میں ثالثی کرانے والے کو "دلال" کہہ کر صدر ٹرمپ کی آٹھ جنگوں میں ثالثی کرانے کی بھد آڑا دی۔ جبکہ مخالف میڈیا نے "موذی" کی خارجہ پالیسی کو آڑے ہاتھوں لے لیا ۔ مئی 2025 میں آپریشن سیندور کی بدترین ناکامی سے لے کر پاکستانی وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل کی دنیا بھر میں پذیرائی کو مسلسل موضع بحث بنایا۔ بہت سوں کو پاکستان کا بطور ثالث کردار ہضم نہیں ہو پا رہا تھا، کچھ نے کہا کہ پاکستان سے جنگ میں ناکامی کا "موذی" سامنا نہیں کر سکا تو کسی پر اس کے "وشو گرو" ہونے کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھل گئی۔ بہتوں کو ایران پر حملے سے دو روز قبل دورے پر اسرائیل کو فادر لینڈ کہنے پر اعتراض تھا جبکہ بعض نے آیت اللہ علی خامنئیؒ کی شہادت اور 185 ایرانی اسکول کی بچیوں کی شہادت کا اظہارِ افسوس نہ کرنے پر اپنی حکومت کو کوسا۔ کچھ نے "موذی" کو ایرانی بحریہ کے 100 سے زیادہ افسروں کا قاتل بھی ٹھہرایا۔

درحقیقت جب اسرائیل غزہ پر تباہ کن بمباری سے بے گناہ اور مظلوم فلسطینوں کا خون بہا رہا تھا تو ہندوستانی اسرائیل کے حق میں ریلیاں نکال رہے تھے، اسرائیلی فوج میں شامل ہو کر مسلمانوں کا خونِ ناحق بہانے میں پیش پیش تھے۔ حتیٰ کہ آیت اللہ علی خامنئیؒ جیسے86 سالہ بزرگ کی شہادت پر ان کے منہ سے افسوس کا ایک لفظ تک نہ نکلا۔ ایرانی قیادت کی شہادتیں ہوتی رہیں لیکن ہندوستان نے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رکھی۔ کچھ کہتے بھی کیسے کہ انہی نے تو ایرانی قیادت کی مخبری کی تھی۔ البتہ جیسے ہی آبنائے ہرمز کی بندش سے ہندوستانیوں کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ان کا بیانیہ ہی بدل گیا۔ صیہونی منصوبے کے مطابق اگر ایران تباہ و برباد ہو جاتا (خدانخواستہ) تو ہندوستانی اسرائیل کی واہ واہ کرتے۔ "موذی" نے ایران پر حملے سے دو روز پہلے اسرائیل جا کر "شیطن یاہو" کے ساتھ سازش تیار کی کہ ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دو لیکن چاہ بہار کو نقصان نہ پہنچے۔ پاکستان سے افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ بند ہونے کے بعد چاہ بہار بندرگاہ واحد ذریعہ ہے جسے ہندوستان افغانستان کو اسلحہ اور خوراک کی ترسیل کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ ایرانی بندرگاہ چاہ بہار پر نظریں گاڑے ہندوستان کو اندازہ ہی نہ ہوا کہ یوں بازی پلٹ سکتی ہے! ایران کا اتنا سخت ردِ عمل کسی کے گمان تک میں نہ تھا۔ آج جب آبنائے ہرمز سے ہندوستانی تیل بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں، قطر سے گیس بھی بند ہے تو ہندوستانیوں کی چیخیں سنائی دے رہی ہیں۔ یہ وہی ہیں جنہیں فلسطینیوں، ایرانی بچوں، عورتوں اور مظلوموں کی آہ و بکا، چیخ و پکار سنائی نہیں دیتی تھی ۔ آج اسرائیل کو ایران کے ہاتھوں خوفناک تباہی کا سامنا ہے، مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک پیچھے ہٹ چکے ہیں جبکہ یورپی ممالک اس جنگ میں شامل ہونے سے انکاری ہیں، ایسے میں ہندوستان تنہا کیا کر سکتا ہے؟ خطے میں اپنے ہمسایوں کو درخوئے اعتنا نۂ سمجھنے والا، توسیع پسندانہ عزائم والا ہندوستان جس کشتی میں سوار ہوا تھا وہ آبنائے ہرمز کے پانیوں میں ڈوبنے کو ہے۔ انشاء اللّٰہ! امریکہ و اسرائیل یہ جنگ ہار چکے ہیں، جتنے وسائل، ہتھیار اور فوجی مزید اس جنگ میں جھونک لیں نتیجہ نہیں بدلے گا۔ صیہونی ڈاکٹرائن "سیمپسن آپشن" جسے وہ آخری حربے کے طور پر بتاتے ہیں یعنی جان کی بازی لگا کر دشمن کو نیست و نابود کر دینا کو حقیقتاً ایرانیوں نے استعمال کر لیا۔ یہ بزدل، ہمیشہ زندہ رہنے کے خواہاں جو نہتوں اور لاچاروں پر ظلم کر کے اکڑا کرتے تھے یہ کیسے اپنی جانیں دے سکتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے "بلکہ ان کو تم اور لوگوں سے زندگی کے کہیں حریص دیکھو گے" البقرۃ (2:96)۔یہ لاکھوں شہیدوں کے لہو کا ہی اثر ہے جو آیت اللہ خامنئیؒ کی شہادت سے فعال ہو گیا۔ ان کی شہادت ایک ایسی کنجی تھی جس نے عالمِ اسلام اور ایران کی بند قسمت کا قفل صدیوں بعد کھول ڈالا۔ اب دنیا اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا نظارہ کرے گی۔ انشاء اللّٰہ! آبنائے ہرمز سے راہداری کے لئے ایران بھی ٹیکس وصول کرے گا جیسے دنیا میں مصر، پانامہ، ترکیہ، جرمنی، کینیڈا اور ہندوستان اپنے پانیوں سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ٹیکس وصول کرتے ہیں۔ ایران نے صلاحیت کے باوجود 28 فروری تک آبنائے ہرمز پر قبضے کی کوشش نہ کی۔ اب جب امریکہ اور اسرائیل نے اسے اپنی بقاء کی سب سے بڑی جنگ میں گھسیٹ لیا ہے تو آبنائے ہرمز پر اس کا قبضہ حق بجانب ہے؟ اسرائیل خود سرزمینِ فلسطین، لبنان، شام، مصر کے علاقوں پر قابض ہے جبکہ امریکہ نے تو ونزویلا کے صدر ہی کو اغوا کر کے پورے ملک پر قبضہ کر لیا ہے۔ ایران کے آیت اللہ کو شہید کر کے ٹرمپ کبھی رجیم بدلنے کا اعادہ کرتے ہیں تو کبھی نئے آیت اللہ کے ساتھ مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز کے معاملات چلانے کی باتیں۔ حتیٰ کہ خود کو آیت اللہ بنانے کے خواب تک دیکھ رہے ہیں۔

اب یہ معاملات ہار جیت، فتح و شکست کی سطح سے آگے جا چکے ہیں۔ یہ جنگ اب پورے خطے کی سمت کا تعین کرے گی۔ 47 سال تک ایران کو دبانے، پابندیوں سے گھیرنے اور کمزور کرنے کی حکمتِ عملی ناکام ہو چکی۔ یہ جنگ حقیقی خود مختاری، نظریاتی و قومی آزادی اور اپنے حقوق کے حوالے سے تاریخی مزاحمت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ مزاحمت عالمِ اسلام کی امنگوں، جمہوریت کے نام پر پھیلائے جال کے ہاتھوں مایوس عوام اور طاقتور کی لاٹھی کے زور پر جعلی انصاف سے تنگ لوگوں کی خواہشات کی نمائندہ ہے۔ یہ مزاحمت مشرقِ وسطیٰ میں عرب ممالک کو پراکسی کے ذریعے مخصوص حالات پیدا کر کے خاص نقطۂ نظر سے دیکھنے میں مجبور کرنے کے خلاف ہے۔ جو دراصل برادر ممالک میں بدگمانی پیدا کر کے گریٹر اسرائیل بنانے کی کوشش ہے ۔ یہ مزاحمت امریکی دفاعی چھتری کا بھانڈا پھوڑ چکی ہے کہ وہ کبھی مسلمانوں کی بقاء اور سلامتی کے ضامن نہیں ہوگا۔ یہ وقت خطے میں نئی صف بندیوں اور طاقت کے نئے توازن پیدا کرنے کا متقاضی ہے۔ اب نیا متبادل عالمی نظام قائم کرنا ہوگا۔ یہ وقت مستقبل میں غیر متوازی جنگوں کا طریقۂ کار اور رخ متعین کرنے کا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ پرانے اتحاد تج کر نئے اتحاد بنائے جائیں جس میں پاکستان، ایران، ترکیہ، سعودی عرب اور شاید مصر بھی اہم کردار ادا کر سکیں۔ ایران اللّٰہ کے بھروسے پوری امتِ مسلمہ کے لیے بلا خوف و خطر جنگ میں کود پڑا ہے ، پورے عالمِ اسلام کو اس سے بھرپور تعاون کرنا چاہیے۔ جنرل حمید گل کہتے تھے fear is no policy and surrender is no option!

؎کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

تازہ ترین