امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کر دہ جنگ کو ایک ماہ ہونے کو ہے اور کوئی بھی فریق جنگ جیت سکا ہےاور نہ ہی کوئی شکست تسلیم کرنے کیلئے تیارہے ۔ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران کو تباہ کرنے کے دعوے توکئے جا رہے ہیں لیکن ایران ہے کہ ابھی تک میدان جنگ میں ڈٹا ہوا اور مسلسل یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ ا مریکہ اور اسرائیل نے جنگ کا آغاز کیا، اب جنگ بندی کا فیصلہ وہ کرئیگا۔اس جنگ میں آبی گزر گاہ ’’ ہرمز ‘‘ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے ہزاروں سال تک یہ چھوٹا سا آبی راستہ عالمی تجارت کی شہ رگ رہا ہے اورآج بھی اتنا ہی اہم ہے،بلکہ اب تو یہ عالمی توانائی کی سپلائی لائن اور جغرافیائی کشیدگی کے سب سے بڑے ہاٹ اسپاٹ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی تو پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں یہ اسٹرٹیجک آبی بندرگاہ دنیا میں تیل کی ترسیل کی سب سے اہم چوکی یاپوائنٹ ہے ۔یہ پہلا موقع نہیں کہ ایران تیل کی ترسیل کی اس گزر گاہ کو بند کر کے اپنے دفاعی اہداف حاصل کر سکا۔آبنائے ہرمز عمان اور ایران کے درمیان واقع ہے جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔اس کے شمالی ساحل پر ایران اور جنوبی ساحل پر متحدہ عرب امارات اور عمان واقع ہیں۔اس آبی گزر گاہ سے دنیا کا 20فیصد تیل گزرتا ہے۔اوپیک کے ارکان سعودی عرب، ایران ، متحدہ عرب امارات ، کویت اور عراق اپنا زیادہ ترخام تیل آبنائے ہرمز سے برآمد کرتے ہیں خاص طور پر ایشیائی ممالک کو اس آبی راستے سےتیل فراہم کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ دنیا کیلئے مائع قدرتی گیس (LNG)کا ایک تہائی اس آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے، آبنائے ہر مز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہےکہ اسے دنیا کی تیل کی’’ شریان‘‘ بھی کہا جاتا ہے بظاہر ایران نے آبنائے ہرمزاس پر حملہ کرنے والے ملکوںکے سوا تمام ملکوں کے بحری جہازوں کی آمد ورفت کیلئے کھلا رکھنےکا اعلان کر رکھا ہے لیکن عملاً صورتحال مختلف ہے تیل اور گیس سے بھرے ہوئے سینکڑوں بحری جہازکھلے سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں جس سے نہ صرف پوری دنیا میں تیل کا بحران پیدا ہوگیا ہے بلکہ خوراک کی کمی بھی محسوس ہونے لگی ہے ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ،جو ایران کو تباہ کرنے کے دعوے کر رہا ہے ،نے یورپی ممالک سے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے لیکن کوئی مثبت جواب نہیں ملا ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک طرف ایران کو48گھنٹے کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے کی دھمکی دے رکھی تھی بصورت دیگر ایران کے مختلف پاور پلانٹس کو تباہ کرنےکا اعلان کر رکھا تھا اور امریکہ ایران کو خوفزدہ کرنے کیلئے دنیا کے نقشے سے مٹا دینے کی دھمکیاںدے کر اسے مرعوب کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ایران بھی امریکہ کو ترکی بہ ترکی جواب دے رہا ہے ایران نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ہمارے بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں پر عمل درآمدکیا تو اسٹرٹیجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو مکمل طور بند کر دیا جائیگا جب کہ اسرائیل اور خطے میں موجود ان ممالک کے بجلی گھروں کوبھی نشانہ بنایا جائیگا جہاں امریکی اڈے موجود ہیںلیکن پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بند کرانے کی کوششوں کے نتیجے میں اچانک اپنی دھمکیوں پر دس روز کیلئے عمل درآمد روک دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں دوست ممالک کی طرف سے پیغامات موصول ہوئے ہیںجن سے یہ ظاہر ہوتا ہے امریکہ جنگ ختم کرنے کیلئے مذاکرات کی درخواست کر رہا ہے لیکن ایران نے ابھی تک اس بارے میں کوئی جواب نہیں دیا جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے امریکہ اور ایران کے درمیان پچھلے دو روز میں نہایت مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ،جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا مکمل اور حتمی حل تلاش کرنا ہے امریکہ کی جانب دھمکی آمیز بیانات کے بعد ایران کوجنگ بندی کیلئے 15شرائط پیش کر دی ہیں لیکن ایران نے امریکی تجاویز کو نامناسب قرار دے کرمسترد کر دیا ہے ایرانی حکام کا کہنا ہے ایران صدر ٹرمپ کو جنگ کے خاتمہ کاوقت متعین کرنے کی اجازت نہیں دے گا ایران نے جنگ کےخاتمے کی پہلی شرط حملوں کا بند ہونا اور ایرانی عہدیداروں کاقتل بندکرنا رکھی ہے ،جنگ بندی کا فیصلہ صرف ایرانی شرائط پر ہو گا ایران جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنے کی ٹھوس ضمانت اور جنگ سے ہونے والے نقصانات کا تعین اور ادائیگی کی ضمانت چاہتا ہے جب کہ امریکہ اپنی 15تجاویز میں ایران کے جوہری و میزائل پروگرام کا خاتمہ چاہتا ہے جب کہ ایران آبنائے ہرمز پر ایران کی خود مختاری کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے امریکہ کی 15نکاتی تجاویز میں ایران پر پابندیاں نرم کرنا بھی شامل ہےجس پر اسے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے امریکی تجاویز میں آبنائے ہرمز کھولنا بھی شامل ہے لیکن ایران آبنائے ہر مز پر خود مختاری کے مطالبےپر ڈٹا ہوا ہے امریکی تجاویز میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی(آئی اے ای اے) کی طرف سے ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی شامل ہے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی جس کا فریقین نے خیر مقدم کیا ہےتاہم ابھی تک امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کی میز نہیں سجی وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحق ڈار نےامریکہ ایران مذاکرات بارے میں قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا دونوں ممالک کی جانب سے مثبت جواب موصول ہونے پر اسلام آباد میں مذاکرات ہو سکتے ہیں ۔بہر حال اس وقت پاکستان کو خلیجی جنگ بند کرانے کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں میں غیرمعمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ کوششیں کس حد تک باور ثابت ہوتی ہیں اس سوال کا جواب رواں ہفتہ و عشرہ میں مل جائے گا۔