• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ تحریر بڑے گلوکاروں اور بڑے بڑے کنسرٹس کے بارے میں نہیں۔ یہ کہانی کارپوریٹ ایونٹس اور سرمایہ دار اشتہاری کمپنیوں کے بارے میں بھی نہیں۔یہ قصہ برینڈ بن کر اپنے ماضی کو بھولنے والے گلوکاروں کے متعلق بھی نہیں ہے۔ یہ روشن خیال پولیس اور افسر شاہی کے بارے میں بھی نہیں ہے۔ یہ کہانی تاریک گلیوں، چھوٹے شہروں اور ٹوٹی پھوٹی کچی سڑکوں پر آباد دیہات اور قصبوں کی ہے یہ چند ہزار کمانے والے لوک گلوکاروں کی روزمرہ زندگی کی جھلک ہے یہ ننگے پاؤں اور بغیر استری پھرے کپڑے پہننے والے گلوکاروں کی المیہ داستان ہے۔جب شوہدے لوک گلوکار کسی غریب کی شادی میں منڈلی لگاتے ہیں ،تاریک نظر پولیس کارندے ان کی پکڑ دھکڑ کرتے ہیں بہانہ2016ساؤنڈایکٹ ہے جس کے مطابق اگر آپ اونچی آواز میں وعظ کرتے ہیں یا گاتے ہیں تو یہ جرم قابل دست اندازی ہے۔ مگر لوک فن کار وہ افتاد گان خاکWretched of the earthہیںجن پر ہرکوئی ہاتھ اٹھا سکتا ہے۔ چھوٹے دیہات اور تنگ گلیوں میں جہاں غربت ، تنگ دستی اور بدحالی کاراج ہے وہاں اگر لوگ چند لمحوں کی خوشی کے لئے موسیقی سننے کا اہتمام کرلیں تو مقامی پولیس کے موٹے موٹےاہل کار آکر ساؤنڈ ایکٹ کے تحت فنکشن کو نہ صرف بند کروادیتے ہیں بلکہ اس لوک گلوکار کو مارتے ، پیٹتے اور گرفتار کرکے لے جاتے ہیں دراصل یہ قانون ان کی کمائی اور طاقت کے اظہار کا ذریعہ بن گیاہے۔

ملک کی اشرافیہ، امرا اور درمیانے طبقے کے لوگ موسیقی سنیں تو ریاست نہ انہیں روکتی ہے اور نہ روک سکتی ہے مگر غریب مست نظر آئے تو شرابی بناکر گرفتار کرلئے جاتے ہیں بیچارے سڑک پر بیٹھ کر تاش کھیلیں تو جوئے کے مرتکب ٹھہرتے ہیں۔ رات کو موٹر سائیکل اور پیدل چلنے والےکو ہر ناکے پر روکا جاتا ہے مگر بڑی گاڑی والوں کو کوئی روکنے کی جرات ہی نہیں کرپاتا کہ پولیس والا خود کہیں معطل یا بر طرف ہی نہ ہوجائے ۔غریبوں کے ساتھ طاقتوروں، پولیس والوں، نوکر شاہی اور شہریوں کا رویہ منافقانہ ہے ہم مشہور انگلش کہانی ڈولز ہاؤس کی ٹیچر کی طرح غریبوں کو اور ، امیروں کو اور نظر سے دیکھتے ہیں ہمارا لہجہ طاقتوروں کے سامنے کمزور اور کمزوروں کے سامنے رعونت آمیز ہوتا ہے۔ مغرب میںجمہوری ممالک نے یہ یقینی بنایا ہوا ہے کہ ریاست کی نظر میں امیر اور غریب برابر ہیں قانون اور انصاف سب کے لئے برابر ہیں مگر مشرق میں امیروں اور غریبوں کے لئے قانون اور انصاف کے پیمانے الگ الگ ہیں ہم لباس، معاشرتی رتبے اور لہجے وزبان کو دیکھ کر طے کرتے ہیں کہ وہ کتنا قابل عزت ہے۔ حالانکہ احترام انسانیت اور مذاہب غریبوں کیلئے خصوصی محبت کا پیغام لیکر آئے۔مسیحیت میںغریبوں، کمزوروں اور بے کسوں سے محبت پر بہت زور دیا گیا، رحمت الالعالمین رسول اکرمﷺ غلاموں، غریبوں اور بے کسوں کے ساتھ خصوصی شفقت اور محبت کرتے تھےمگرہمارے ہاں تو بڑے بڑے باریش مومن بھی غریبوں پر ناک بھوں چڑھاتےنظر آتے ہیں۔

پنجاب اور سندھ کی موجودہ حکومتیں فنون کے فروغ کے سلسلے میں ترجیح رکھتی ہیں وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے فلم اور ڈرامے کی ترقی وترویج کے لئے خصوصی اقدامات کئے ہیں فلم، ڈرامہ ،تھیٹر، موسیقی اور خطاطی کےغریب آرٹسٹوں کو سالانہ اربوں روپے دئیے جارہے ہیں فن وادب کے ساتھ اس فیاضانہ حکومتی رویے کے باوجود گلی محلے اور دیہات میں لوک فن کاروں کی پکڑ دھکڑ جاری ہے، بہانہ 2016ء کے ساؤنڈ ایکٹ کو بنایا جاتا ہے۔پنجاب حکومت کو فوراً اس ایکٹ پر نظر ثانی کی ضرورت ہے موسیقی کی محفل کو رات بارہ بجے سے پہلے ختم کرناہے تو سرکاری اجازت کی ضرورت ہی کیاہے؟ لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر کچھ حدود لگائی جاسکتی ہیں مگر یہ پکڑ دھکڑ اور فن سے نا آشنا پولیس والوں کو اختیار دینا نہ صرف حکومت کیلئے بدنامی کا باعث ہے بلکہ غریب فن کاروں کے لئے دووقت کی روٹی کمانا بھی مشکل ہورہا ہے۔ وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا سیاسی اور ثقافتی پس منظر یہ ثابت کرتا ہے کہ و ہ بھی فن وثقافت کی ترویج پر کامل یقین رکھتی ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس ایکٹ کے ذریعے ہونے والی زیادتیوں کا فوری خاتمہ کیا جائےگا ۔

ریاست وہ اچھی ہوتی ہے جو لوگوں کے ذاتی اور سماجی رسوم میں کم سے کم مداخلت کرے مگر تیسری دنیا کے ممالک میں ذاتی اور سماجی رسومات میں ریاستی مداخلت کو جائز سمجھا جاتا ہے تب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اپنے تئیں غریبوں کی خاطرون ڈش اور ٹائمنگ کو شادیوں کے لئے لازم بنادیا۔ اس سے شادی کے فنکشن کی اہم ترین سماجی رسم کھانے کی روایت کو شدید نقصان پہنچا ہے امیروں کی شادیوں میں آرائش اور روشنیوں پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں مگرکھانا ون ڈش دینا قانونی مجبوری بن گیا ہےاس قانون کے اطلاق سے پہلے ماضی کی شادیوں میں ذکر ہوتا تھا کہ فلاں کی شادی کا کھانا کمال کاتھا اب لوگ شادیوں کا کھانا تک نہیں کھاتے۔حالانکہ پہلے بھی غریب اپنی استطاعت کے مطابق کھانا کھلاتے تھے اور امیر اپنی استطاعت کے مطابق ۔ایک اور نقصان جواس قانون کا ہوا ہے کہ شادیاں فارم ہاؤسز میں منتقل ہوگئی ہیں جہاں ون ڈش کا قانون اور ٹائمنگ کی شرط سرے سےلاگو ہی نہیں ہوتی۔اب وہ شادی گھر جن پر قانون لاگو ہوتا ہے وہ ویران ہورہے ہیں لاہور کے فائیو اسٹار ہوٹلوں نے کئی کئی شادی ہال بناکر ہوٹلوں کو پرہجوم بناکر ماحول خراب کردیا تھا آج کل وہاں کے حالات یہ ہیں کہ لوگ ہوٹلوں کی بجائے فارم ہاؤس پر شادی کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں اس لئےکروفر والے ہوٹلوں کے شادی ہالوں میں الو بول رہے ہیں۔ سماجی رسومات کو ریاستی قوانین سے بدلنے کا یہی حشر ہوتا ہے جو ون ڈش اور ٹائمنگ والے قانون کا ہورہا ہے لوگوں نے اپنی پرانی سماجی رسم کو برقرار رکھنے کے لئے نئے نئے راستے اور حیلے بہانےنکال لیے ہیں۔

حکومتیں چونکہ شہروں میں ہوتی ہیں اس لئے یہ شہروں ہی کی ہوتی ہیں حکومت شہروں سے باہر کی آواز کو نہ سنتی ہے نہ ان تک یہ آواز پہنچ پاتی ہے پنجاب میں گندم ،مالٹے اور آلو کے کاشت کارتباہ ہوگئے ان کی آہ وبکا ابھی تک لاہور کے حکومتی ایوانوں تک پہنچ نہیں پائی۔ چھوٹے شہروں اور قصبوں میں بلدیاتی نظام نہ ہونے کے سبب اختیارات نوکر شاہی کے پاس ہیں اس لئے مضافات کی شکایات بڑھ گئی ہیں ستھرا پنجاب اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کا فائدہ البتہ ضرور دیہات اور قصبوں تک پہنچا ہے۔ دیہات اور شہر کا یہی تفاوت قانون کے نفاذ میں ہے شہر میں محفل موسیقی کروانے پر پولیس گرفتاریاں نہیں کرتی مگر گاؤں کے غریب لوگ یہ ’’جرم‘‘ کرلیں تو اندیشہ نقص امن میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔

پاکستان میںمذہبی تنگ نظری اور سماجی گھٹن پہلے ہی زیادہ ہے جس سے انتہا پسندی کو فروغ مل رہا ہے تنگ نظری اور گھٹن کا سستا اور آسان علاج سماجی رسوم کو فروغ دینے میں ہے نہ کہ انہیں روکنے میں ۔شادی بیاہ، ڈھول ڈھمکے ،عرس میلے اور رقص وموسیقی اس خطے کا ثقافتی اور تاریخی ورثہ ہیں اگر ماضی میں کوئی غلط قانون بن گیا ہے تو اسے فوری طور پر ختم کرکے ایک متوازن معاشرے کے قیام میں مدد کرنی چاہئے۔

تازہ ترین