• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خلیج کی سرزمین ایک بار پھر کشیدگی، بے یقینی اور طاقت کے مظاہرے کی آماجگاہ بنی تو دنیا بھر کی نظریں اُن ممالک پر جا ٹکیں جو نہ صرف اس خطے سے جغرافیائی و نظریاتی قربت رکھتے ہیں بلکہ امن کے قیام میں کوئی مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایسے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پر اثر تگ و دو کے بعد اگر کوئی ادارہ متحرک دکھائی دیا تو وہ پاکستان کا دفترِ خارجہ تھا جو تاریخ کے نازک موڑ پر ایک فعال، متحرک اور قائدانہ کردار ادا کرتا دکھائی دیا۔ اس پورے منظرنامے میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی شخصیت ایک ایسے تجربہ کار اور پُرعزم سفارتکار کے طور پر ابھری جو نہ صرف حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہیں بلکہ اُن سے نمٹنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ سفارتکاری محض بیانات دینے یا رسمی ملاقاتوں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کیلئے مسلسل جدوجہد، فکری پختگی اور شب و روز کی محنت درکار ہوتی ہے۔ اسحاق ڈار نے اس اصول کو عملی جامہ پہناتے ہوئے عمر کے اس حصے میں بھی غیر معمولی توانائی کا مظاہرہ کیا، جہاں اکثر لوگ آرام کو ترجیح دیتے ہیں۔ مگر یہاں ایک مختلف منظر دیکھنے کو ملا،دن رات کے سفر، ایک ملک سے دوسرے ملک تک مسلسل پروازیں، عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں اور ہر فورم پر پاکستان کا مؤقف واضح انداز میں پیش کرکے ثابت کر دیا کہ وہ ایک منجھے ہوئے سفارتکار ہیں۔اسحاق ڈار ہمیشہ بحران کے دور میں نمایاں ہوتے ہیں میاں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دور میں جب سیاسی و معاشی بحران سر اٹھانے لگا تھا تب بھی دن رات کی پروا کیے بغیر انہوں نے کام کیا یہاں تک کہ ڈاکٹرز نے زبردستی انہیں آرام کے لیے بھیجا۔اب اس بحرانی دور میں بھی وہ مسلسل مصروف ہیں اور اپنی عمر اور صحت کی پروا کیے بغیر کام کر رہے ہیں \خلیجی بحران کے دوران پاکستان نے جس حکمتِ عملی کو اپنایا، اُس کی بنیاد توازن، غیر جانبداری اور خیر سگالی پر مبنی تھی۔ ایک طرف امریکہ،سعودی عرب اور خلیجی اتحادی ممالک کے ساتھ دیرینہ تعلقات، تو دوسری طرف ایران کے ساتھ ہمسائیگی اور مذہبی و ثقافتی رشتہ،ان دونوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ایک نازک کام تھا۔ لیکن یہی وہ مقام تھا جہاں دفترِ خارجہ نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اسحاق ڈار کی قیادت میں پاکستان نے نہ صرف دونوں اطراف کے ساتھ رابطے برقرار رکھے بلکہ ایک ممکنہ ثالث کے طور پر بھی اپنی حیثیت منوائی۔ایران کا پاکستان پر اعتماد اس سفارتی حکمتِ عملی کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر سامنے آیا۔ خطے کی پیچیدہ سیاست میں جہاں شکوک و شبہات عام ہوتے ہیں، وہاں کسی ملک کا دوسرے پر اعتماد کرنا ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کیا جاتا ہے۔ اس کامیابی نے بھارتی حکومت کو جھنجھلا کر رکھ دیا اور بھارتی میڈیا نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔

اسی تسلسل میں پاکستان میں وزرائے خارجہ کی ایک اہم کانفرنس کا انعقاد بھی ایک سنگِ میل ثابت ہوا۔ یہ کانفرنس محض ایک رسمی اجتماع نہیں تھی بلکہ ایک ایسے پلیٹ فارم کی شکل اختیار کر گئی جہاں خطے کے اہم ممالک نے ایک دوسرے کے مؤقف کو براہِ راست سنا اور مشترکہ حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اسلام آباد کی میزبانی نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ پاکستان نہ صرف ایک ذمہ دار ریاست ہے بلکہ ایک ایسا ملک بھی ہے جو مکالمے، مفاہمت اور امن کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات اٹھاتا ہے۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسحاق ڈار نے روایتی سفارتکاری سے ہٹ کر ایک متحرک اور براہِ راست انداز اپنایا۔انہوں نے پارلیمنٹ میں انکشاف کیا کہ وہ وزراء خارجہ کے ساتھ واٹس ایپ پر فوری رابطوں میں ہیں۔اور غیر روایتی انداز اختیار کر کے ایک پیچیدہ صورتحال کو سلجھانے میں مصروف عمل ہیں۔اُنہوں نے محض بیانات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عملی سطح پر اقدامات کیے۔ مختلف ممالک کے دورے، ہنگامی اجلاسوں میں شرکت، عالمی رہنماؤں سے براہِ راست مکالمہ اور میڈیا کے ذریعے پاکستان کا مؤقف پیش کرنا،یہ سب اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اس بحران میں محض ایک تماشائی نہیں بلکہ ایک فعال کردار ادا کرنے والا ملک ہے۔

ان کی سفارتی سرگرمیوں میں ایک اور نمایاں پہلو تسلسل تھا۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بحران کے ابتدائی دنوں میں سرگرمی دکھائی جاتی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ رفتار برقرار نہیں رہتی۔ مگر اسحاق ڈار کے معاملے میں صورتحال مختلف رہی۔ اُنہوں نے ابتدا سے لے کر موجودہ مرحلے تک ایک مستقل اور مربوط حکمتِ عملی کو جاری رکھا۔ یہی تسلسل پاکستان کے مؤقف کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوا اور عالمی برادری میں اس کی سنجیدگی کا

تاثر قائم ہوا۔پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی سفارتی سرگرمیوں نے نہ صرف ملک کے امیج کو بہتر بنایا بلکہ عالمی سطح پر اس کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ اسلام آباد ایک بار پھر سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن کر ابھرا، جہاں مختلف ممالک کے نمائندے جمع ہوئے اور خطے کے مستقبل پر گفتگو کی۔

آج جب دنیا ایک غیر یقینی دور سے گزر رہی ہے اور علاقائی تنازعات عالمی امن کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں، ایسے میں پاکستان کا یہ کردار نہایت اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ خلیجی جنگ کے اس نازک مرحلے پر ملک کی عسکری قیادت اور دفترِ خارجہ کی قیادت نے یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان نہ صرف ایک ذمہ دار ریاست ہے بلکہ ایک ایسا ملک بھی ہے جو امن، استحکام اور مکالمے کے فروغ کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ اور اس تمام جدوجہد میں اسحاق ڈار کا نام ایک متحرک، سنجیدہ اور باوقار سفارتکار کے طور پر تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔

تازہ ترین