• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میر پور خاص میٹرک و انٹر نتائج میں بدعنوانی، ناظم امتحانات ملازمت سے فارغ

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

میر پور خاص میٹرک و انٹر نتائج میں بدعنوانی پر ناظم امتحانات انور علیم خانزادہ کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔

انہیں میر پور خاص بورڈ میں میٹرک اور انٹر کے نتائج میں ہیرا پھیری اور جعلی سرٹیفکیٹس کے معاملے پر برطرف کیا گیا ہے۔

ان کے خلاف فروری 2026ء میں انکوائری رپورٹ میں ایس ایس سی اور ایچ ایس سی نتائج میں بڑے پیمانے پر ٹیمپرنگ کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

انورعلیم خانزادہ نے نہ تو شوکاز نوٹس کا جواب دیا اور نہ ہی ذاتی سماعت کے لیے پیش ہوئے جس کے بعد E&D رولز کے تحت انہیں برطرف کیا گیا۔ 

میر پور خاص میں 2021ء سے 2025ء تک کے 1068 میٹرک اور 1471 انٹر کے مارکس شیٹس اور سرٹیفکیٹس منسوخ کیے گئے ہیں، اس معاملے میں مزید ملوث افسران کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ 7 برس سے سندھ کے تمام تعلیمی بورڈز میں کنٹرولرز، ناظم امتحانات اور آڈٹ افسران کی مستقل اسامیاں خالی ہیں، بیشتر  اسامیوں پر جونیئر اور سفارشی افسران تعینات ہیں۔

حیدرآباد بورڈ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر شجاع احمد مہیسر کو 19 دسمبر 2025ء سے نتائج میں تاخیر کے الزام پر معطل کیا جا چکا ہے، جبکہ سکھر بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر زاہد علی چنڑ کو حیدرآباد بورڈ کے چیئرمین کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔

اس دہری ذمے داری نے انتظامی امور کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، حیدرآباد بورڈ میں بھی گزشتہ کئی برسوں سے نتائج کے حوالے سے بہت شکایات ہیں۔

قومی خبریں سے مزید