مشرقِ وسطیٰ ایک ایسا خطہ ہے جسکی تاریخ طاقت، تصادم اور تسلط کی کہانیوں سے بھری ہوئی ہے، لیکن اس کیساتھ ساتھ یہ خطہ ہمیشہ امن کی تلاش میں بھی سرگرداں رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس خطے کو ایک ایسے نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک معمولی چنگاری بھی ایک ایسی عالمی جنگ کو جنم دے سکتی ہے جسکے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں جب عالمی طاقتیں اپنی اپنی صف بندیوں میں مصروف تھیں اور سفارت کاری کے دروازے بند ہوتے جا رہے تھے، دنیا کو ایک ایسے کردار کی ضرورت تھی جو نہ صرف اعتماد پیدا کر سکے بلکہ ایک پل کا کردار ادا کرتے ہوئے دشمنوں کو مکالمے کی میز تک لا سکے۔اس کردار کو پاکستان نے ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہےاور اس طرح یہ اب عالمی سفارت کاری کا ایک ایسا مرکز بنتا جا رہا ہے جہاں سے ایک نئی سوچ جنم لے رہی ہے۔
اس سوچ کو ماہرین اب "اسلام آباد ڈاکٹرائن" کا نام دے رہے ہیں۔جب خطے میں میزائلوں کی گھن گرج سنائی دے رہی تھی اور ہر فریق اپنی طاقت دکھانے میں مصروف تھا پاکستان نےایک مختلف راستہ اختیار کیا، ایک ایسا راستہ جو شور سے نہیں بلکہ خاموشی سے نتائج پیدا کرتا ہے۔ یہی خاموش سفارتکاری تھی جس نے تہران سے واشنگٹن اور ریاض سے انقرہ تک ایک ایسا سفارتی رابطہ قائم کیا جس نے دنیا کو چونکا کر رکھ دیا۔یہ کامیابی کسی ایک دن کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل، سوچے سمجھے اور انتہائی محتاط عمل کا حصہ ہے۔ پاکستان کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ وہ ایک ایسے تنازع میں اپنا کردار ادا کرے جہاں اسکے دونوں طرف اہم شراکت دار موجود تھے۔ ایک جانب دوست ملک ایران تھا، دوسری جانب امریکہ اور خلیجی ممالک ، جو پاکستان کی معیشت، دفاع اور عالمی سفارتی تعلقات میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کی اس حکمت عملی کا مرکز "اعتماد" تھا، اور یہی وہ عنصر تھا جس نے اسے دیگر ممالک سے ممتاز کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان ہونے والا طویل ٹیلیفونک رابطہ دراصل اسی اعتماد کی بنیاد تھا۔یہ ایک ایسا سفارتی لمحہ تھا جس میں پاکستان نے ایران کو یہ یقین دلایا کہ وہ اس نازک وقت میں ایک مخلص ثالث کا کردار ادا کرئیگا۔ اس رابطے کے بعد ایران کی جانب سے پاکستان کیلئےکیے گئے اقدامات نے اس اعتماد کو مزید مضبوط کیا، خاص طور پر آبنائے ہرمز سے پاکستانی کارگو جہازوں کو گزرنے کی خصوصی اجازت دینا ایک ایسا فیصلہ تھا جسکے سفارتی اور معاشی دونوں پہلو انتہائی اہم ہیں۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت محض ایک تجارتی رعایت نہیں ایک اسٹریٹجک پیغام ہے کہ ایران، پاکستان کو ایک ایسا پل تسلیم کرتا ہے جو اسے باقی دنیا سے جوڑ سکتا ہے۔
اسلام آباد میں منعقد ہونے والی چار ملکی کانفرنس اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ اتوار کو مصر، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی کرنےکے بعد اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ تمام وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا ہے کہ یہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اور خطے میں امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کو چین سمیت عالمی حمایت حاصل ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانےکیلئے مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔انھوں نے یہ بات ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کے دوران کی۔وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق ترکی کے وزیرِ خارجہ حقان فیدان اور مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی نے اتوار کے روز وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔یہ ممالک مسلم دنیا کے اہم ستون ہیں اور انکی مشترکہ کوششیں عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔اس کانفرنس کا اصل ایجنڈا ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست جنگ کو روکنا اور غزہ سمیت خطے میں مستقل جنگ بندی کیلئے ایک قابلِ عمل فارمولا تیار کرنا ہے۔عالمی برادری کی نظریں اس کانفرنس پر مرکوزرہیں ۔ پاکستان کی قیادت میں ہونے والی یہ کوشش نہ صرف اسکے سفارتی قد کو بلند کر رہی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کر رہی ہے کہ دنیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کے اثرات صرف سیاسی سطح تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اسکے معاشی نتائج بھی انتہائی دور رس ہو ہونگے۔ خطے میں امن کا مطلب ہے کہ تجارتی راستے محفوظ ہونگے، توانائی کے منصوبے مکمل ہونگے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہونگے۔
سی پیک جیسے منصوبے، جو پہلے ہی پاکستان کی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، مزید مستحکم ہوں گے، جبکہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن جیسے منصوبے بھی حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں۔ پاکستان نے جس عزم اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے، اس سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ وہ اب صرف حالات کا مشاہدہ کرنے والا ملک نہیں بلکہ ایک ایسا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے جو تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔ اگر اسلام آباد سے اٹھنے والی یہ آواز تہران اور واشنگٹن تک پہنچ گئی، تو یہ نہ صرف ایک جنگ کو روکنے میں کامیاب ہوگی بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دے گی کہ امن اب بھی ممکن ہے، بشرطیکہ نیت، حکمت اور حوصلہ موجود ہو۔اگر یہ کوشش کامیاب ہو گئی، تو آنے والی نسلیں اسے ایک ایسے لمحے کے طور پر یاد رکھیں گی جب ایک ملک نے نہ صرف اپنے لیے بلکہ پوری دنیا کیلئے امن کا راستہ ہموار کیا۔