جان لیوا بیماری برین ٹیومر کی 7 ایسی علامات ہیں جن کے بارے میں جاننا ہر ایک کیلئے ضروری ہے۔
کوئین میری یونیورسٹی آف لندن کے وولفسن انسٹیٹیوٹ آف پاپولیشن ہیلتھ کی ڈاکٹریل ریسرچر (محقق) لورا اسٹینڈن کے مطابق سر درد سب کو ہوتا ہے، ہر کوئی کبھی نہ کبھی اپنا فون کہیں رکھ کر بھول جاتا ہے یا کبھی کبھی کوئی نام یاد نہیں آتا۔
انھوں نے کہا زیادہ تر مواقع پر یہ لمحات بے ضرر ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ، تھکن یا مصروف ذہن کا نتیجہ ہوتے ہیں، لیکن یہی علامات بعض اوقات بہت کم صورتوں میں کسی زیادہ سنگین مسئلے جیسے دماغی رسولی (برین ٹیومر) کی طرف بھی اشارہ کر سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں آپ کیسے فرق کریں کہ یہ عام سر درد ہے، ذہنی دباؤ، نیند کی کمی، یا موبائل پر کسی سے بات چیت یا پھر کچھ زیادہ سنجیدہ مسئلہ؟
انھوں نے کہا کہ دماغی رسولیوں کی جلد تشخیص پر اپنی تحقیق کے دوران ایسے مریضوں سے بات کی جنہیں اس بیماری کی تشخیص ہو چکی تھی۔ ان کے تجربات سے ایک بات بار بار سامنے آئی کہ مریض اور عام معالج اکثر ابتدائی علامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے تشخیص میں تاخیر ہو جاتی ہے۔
انھوں نے کہا یہ بات ایک سابقہ تحقیق سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ لوگ اکثر ان علامات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ یہ ایک مسئلہ ہے کیونکہ اگر دماغی رسولی کی بروقت تشخیص نہ ہو تو اس کا علاج زیادہ پیچیدہ اور تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔
انکے مطابق دماغی رسولی کی علامات اکثر روزمرہ کی کیفیتوں سے ملتی جلتی ہوتی ہیں۔ جیسے تھکن، ذہنی دباؤ، مائیگرین، یا سن یاس (مینوپاز)۔ یہ عام بیماریوں جیسے بے چینی، سائنَس انفیکشن، یا دائمی سر درد سے بھی مشابہت رکھتی ہیں۔
جب علامات مبہم یا ہلکی ہوں، تو انہیں نظر انداز کرنا یا کسی عام وجہ سے جوڑ دینا آسان ہو جاتا ہے۔ ایسے نظام صحت میں جہاں ڈاکٹر سے وقت لینا مشکل ہو۔ انھوں نے کہا ایک مریض نے بتایا کہ ہم اکثر اس وقت تک انتظار کرتے ہیں جب تک علامات ناقابل نظر انداز نہ ہو جائیں، کیونکہ کہ مجھے کم از کم دو تین مہینے پہلے سے علامات محسوس ہو رہی تھیں۔
لورا اسٹینڈن کے مطابق یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ ان میں سے ایک یا زیادہ علامات کا ہونا لازمی طور پر یہ نہیں ظاہر کرتا کہ آپ کو دماغی رسولی ہے۔ لیکن اگر آپ کو محسوس ہو کہ کچھ مسلسل ٹھیک نہیں ہے یا آپ کے معمول سے ہٹ کر ہے، تو ڈاکٹر سے معائنہ کروانا بہتر ہے۔ اس حوالے سے سات ایسی علامات ہیں جنکے بارے میں ہر ایک کو جاننا ضروری ہے۔
1۔ الفاظ تلاش کرنے میں دشواری: کچھ لوگوں نے محسوس کیا کہ انہیں مخصوص الفاظ سوچنے، مکمل جملے بنانے یا گفتگو میں بغیر تاخیر کے شامل ہونے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔ ایک مریض نے کہا کہ یہ تجربہ عجیب اور غیر معمولی محسوس ہوا، مگر انہوں نے اسے نظر انداز کر دیا۔
2۔ ذہنی دھند: کئی مریضوں نے عمومی دھندلاہٹ بیان کی ہے یعنی توجہ مرکوز کرنے، واضح سوچنے یا چیزیں یاد رکھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ ایک شخص نے ڈاکٹر سے ملاقات کا وقت لیا، مگر جب وقت آیا تو وہ بھول گیا کہ اس نے اپائنٹمنٹ کیوں لی تھی۔ ذہنی دھند کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسے مینوپاز، نیند کی کمی یا ذہنی دباؤ۔ لہٰذا اس مسئلہ پر توجہ دینا ضروری ہے۔
3۔ سن ہونا یا جھنجھناہٹ: کچھ لوگوں نے جسم میں جھنجھناہٹ یا سن ہونے کی شکایت کی، جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو رہی تھی۔ دو مریضوں نے بتایا کہ یہ صرف جسم کے ایک حصے میں تھی، چہرے کے دائیں نچلے حصے، زبان کے آدھے حصے اور منہ کے اندر کے آدھے حصے میں اثر تھا۔ یہ اس وقت ہو سکتا ہے جب دماغ کا وہ حصہ متاثر ہو جو جسم کے مختلف حصوں کو سگنلز بھیجتا اور وصول کرتا ہے۔ سن ہونے کی دیگر وجوہات جیسے اعصاب دب جانا، خون کی روانی کا مسئلہ یا مائیگرین سے بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کو ہمیشہ چیک کروانا چاہیے۔
4۔ نظر میں تبدیلی: نظر میں تبدیلی بھی ایک ابتدائی علامت تھی۔ ایک مریض کو ٹی وی دیکھتے وقت دہرا نظر آنے لگا انہوں نے سوچا کہ شاید نئے چشمے کی ضرورت ہے۔ ایک اور نے کہا کہ سیدھی لکیریں مڑی ہوئی نظر آ رہی تھیں۔ یوں لگا ہمیں خراب مگ ملے ہیں کیونکہ وہ سب بیضوی لگ رہے تھے۔ لوگ مجھے کہہ رہے تھے تمیں کیا ہوگیا ہے۔ نظر کی تبدیلی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسے آنکھوں کا دباؤ یا مائیگرین۔ لیکن اچانک یا غیر معمولی بگاڑ، خاص طور پر جب دیگر اعصابی علامات کے ساتھ ہو، جیسے سر درد، چکر، بولنے میں دشواری، جسم کے ایک طرف کمزوری یا سن ہونا، یا توازن کے مسائل، تو فوری چیک کرانا ضروری ہے۔
5۔ خراب یا بگڑی ہوئی لکھائی: کئی مریضوں نے محسوس کیا کہ ان کی ہاتھ اور آنکھ کے درمیان ہم آہنگی متاثر ہو رہی ہے۔ ایک نے کہا ایک لمحہ ایسا آیا جب میں لکھ نہیں پا رہا تھا۔ میں میٹنگ میں نوٹس لکھ رہا تھا اور اچانک میری لکھائی بہت خراب ہو گئی۔ چھوٹی موٹی ہم آہنگی کی تبدیلیاں تھکن یا توجہ کی کمی کی وجہ سے ہو سکتی ہیں، لیکن اگر لکھائی، باریک حرکات یا توازن مسلسل خراب ہو رہا ہو تو یہ دماغ کے موثر کنٹرول کے مسائل کی نشاندہی کر سکتا ہے۔
6۔ رویے یا مزاج میں تبدیلی: رویے یا مزاج میں تبدیلیاں بظاہر معمولی لگ سکتی ہیں لیکن اہم ہو سکتی ہیں۔ ایک مریض نے اپنی چڑچڑاہٹ اور حوصلہ کم ہونے کو صرف تھکن سمجھا اسے جوڑ کر نہیں دیکھا۔ اسکے مطابق میں ریٹائر ہونا چاہتا تھا، تھک چکا تھا۔ زندگی کے حالات یا دباؤ کی وجہ سے شخصیت میں تبدیلی آنا فطری ہے، لیکن اگر یہ تبدیلیاں اچانک یا نمایاں ہوں، خاص طور پر دیگر علامات کے ساتھ تو یہ کسی بڑے مسئلے کی علامت ہو سکتی ہیں۔
7۔ سر درد: سر درد عام ہوتا ہے اور اکثر پریشانی کی بات نہیں ہوتی۔ لیکن کچھ مریضوں کے لیے یہ درد مسلسل اور شدید تھا، جو ہفتوں تک جاری رہا۔ ایک مریض کے مطابق یہ ایک ہفتے سے زیادہ جاری رہا اور تقریباً روزانہ ہوتا تھا۔