• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ان دنوں بہت سے حلقے اور احباب اس نوع کے سوالات اٹھاتے ہیں کہ ایران امریکا جنگ کیوں شروع ہوئی؟ اس حوالے سے ایران اور اسرائیل کی کیا ٹسل چل رہی ہے؟ اب تک کس کا کتنا نقصان ہو چکا ہے؟ اور کس کا پلہ بھاری ہے؟ چائنا اور رشیا اس جنگ میں ایران کو کیا معاونت فراہم کر رہے ہیں؟ ایران، امریکا اور اسرائیل کے ساتھ عرب خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرونز حملے کیوں کر رہا ہے؟ امریکا ہنوز آبنائے ہرمزسے ایرانی قبضہ و کنٹرول ختم کروانے میں کیوں ناکام ہے؟ ٹرمپ کا بارہ روزہ جنگ کے دوران دعویٰ تھا کہ انہوں نے ایرانی نیوکلیئر یورینیم کو اس حد تک تباہ کر دیا ہے کہ اب وہ کئی برسوں تک ایٹم بم نہیں بنا سکے گا تو پھر اب اصفہان مرکز پر بنکر بسٹر بموں کے شدید حملے کیوں کیے جا رہے ہیں؟

کیا امریکا ایرانی معاشی شاہ رگ، خارگ جزیرے پر بوٹ اتارنے کا رسک لے گا؟ جنگ کے ساتھ ساتھ جو بالواسطہ سفارتکاری چل رہی ہے اسکی اصلیت یا آؤٹ پٹ کیا ہے؟ سب سے بڑھ کر یہ کہ جنگ کب ختم ہوگی؟ طول پکڑے گی یا جلد ختم ہوگی؟ درویش ان تمام سوالات کا غیر جانبدارانہ و بے لاگ جائزہ پیش کرنا چاہتا ہے لیکن سب سے پہلے ہماری پاکستانی سیاسی وعسکری قیادت کی معتدل خارجی پالیسی اور مشکل ترین حالات میں بہتر سفارتکاری پر ایک نظر۔

اس امر میں کوئی اشتباہ نہیں کہ سعودی عرب سے پاکستان کی دوستی ہمیشہ سے ہماری خارجہ پالیسی کا محور چلی آ رہی ہے بالخصوص مڈل ایسٹ کی بدلتی صورتحال میں پاکستان اور سعودیہ میں جس نوع کا دفاعی معاہدہ ہوا ہے اس میں یہ طے تھا کہ سعودی عرب پر کسی طرف سے بھی حملہ ہوگا تو اسے پاکستان پر حملہ تصور کیا جائیگا اس کا بدیہی تقاضا تھا کہ ان دنوں ریاض سمیت سعودی عرب کے مختلف مقامات پر ایرانی میزائلوں کے جو حملے ہوئے ہیں ہم انہیں پاکستان پر حملے گردانتے ہوئے ایران پر چڑھ دوڑتے لیکن اس کی گنجائش کم از کم ان حالات میں نہ ہونے کے برابر تھی چنانچہ ہم نے ڈپلومیسی کے ذریعے سعودیہ پر ہونے والے حملے رکوائےکہ یہ حملے سوعدیہ پر نہیں اسکی حدود میں موجود امریکی اڈوں پر ہو رہےتھے دوسری طرف پاکستان ایرانی صدر مسعود پز شکیان اور فارن منسٹر عباس عراقچی پر جتنا اثرانداز ہو سکتا تھا،ہوابلکہ اس سے بڑھ کر امریکی پریزیڈنٹ ٹرمپ سے رابطہ کرتے ہوئے جنگ بندی کیلئے ان کی پندرہ تجاویز ایرانی قیادت تک پہنچائیں اور پھر ایرانی رجیم کے مطالبات امریکیوں تک پہنچائے ایک وقت میں تو اس نوع کے اشارے بھی ملے کہ ایرانی مجلس کے اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی مذاکراتی وفداسلام آباد لینڈ کرنے والا ہے جس کے جواب میں امریکی وفد مذاکرات کار اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر، نائب صدر جے ڈی وینس یا سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کی قیادت میں اسلام آباد پہنچے گا لیکن پھر ایرانی سیاسی قیادت نے اپنے طاقتور حلقوں کے دباؤ پر اس نوع کے مذاکرات کا حصہ بننے سے انکار کر دیا یوں امریکی اعلیٰ سطحی وفد کے آنے کی گنجائش نہ رہی البتہ سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے اسلام آباد پہنچ کر جنگ بندی کی تجاویز اور کسی مشترکہ لائحہ عمل کی تیاری پر اپنے ممالک کے نقطہ ہائے نظر واضح کیے۔ اس سلسلے میں چائنا کے بالواسطہ رول سے بھی کسی کو انکار نہیں سو اسلام آباد اجلاس کے فوری بعد پاکستانی وزیر خارجہ چائنا پہنچے جہاں ایرانی صدر کے اس مطالبے پر بھی گفتگو ہوئی کہ ان کا ملک جنگ بندی کا خواہاں ہے لیکن انہیں دوبارہ جارحیت نہ کرنے کی ضمانتیں درکار ہیں، یہ کہ ٹرمپ دوبارہ اس طرح کی چھیڑ خانی نہیں کریں گے اس نوع کی خطرناک یقین دہانی دنیا میں شاید کوئی بھی کروانے سے قاصر رہے گا، چاہے اس نوع کی یقین دہانی امریکی صدر خود بھی کروا دیں پھر بھی ان کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا بیجنگ میں پاکستانی اور چینی وزرائے خارجہ نے جو مذاکرات کیے ہیں ان کے مشترکہ اعلامیہ میں جو پانچ نکات سامنے آئے ہیں ان میں یہ کہا گیا ہے کہ امریکا اور ایران تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے اور جنگ بندی پر آمادہ ہونے کیلئے فوری مذاکرات کا آغاز کریں خلیجی ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، قومی آزادی اور سلامتی کا تحفظ یقینی بنایا جائے چین اور پاکستان ہر دو متحارب ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شہریوں اور غیر فوجی اہداف پر حملے فوری طور پر روک دیں ،بین الاقوامی قانون اور ہیومن رائٹس کی پابندی کریں توانائی، پانی صاف کرنے کے پلانٹس، بجلی کی تنصیبات سمیت اہم انفراسٹرکچر نیز پر امن جوہری تنصیبات پر حملوں سے باز رہیں آبنائےہرمز کھول دی جائے اوروہاںپھنسے جہازوں اور عملے کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔

فریقین مذاکرات کے دوران طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کریں، یہ تو رہی دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ مل کر پاکستان کی سفارتکاری پر مبنی کاوش۔ تاہم خدا نخواستہ اگر جنگ طویل پکڑ گئی یا خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب پر ایرانی حملے مزید بڑھے تو پاکستان کی مشکلات بھی بڑھ جائیں گی۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ یہ جنگ ایک طرح سے تیسری ورلڈ وار کی صورت اختیار کرتی چلی جا رہی ہے، جس میں ایران قطعی تنہا نہیںبھرپور ایرانی مزاحمت کے پیچھے بہت سی وہ طاقتیں ہیں جو امریکی صدر ٹرمپ کی سیمابی شخصیت اور نت نئے بدلتے بیانات اور پالیسیوں سے سخت نالاں ہیں ایرانی مزائلوں نے بشمول اسرائیل مڈل ایسٹ میں جو طوفان برپا کر رکھا ہے اس امر میں روس اور چین کی پشتیبانی کا اشتباہ ہے کہ جس کے بغیر ایران کے لیے ایسی جاندار مزاحمت ممکن نہ تھی۔

تازہ ترین