نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) کے تجربے کار خلاء باز کو خلاء میں بولنے کی صلاحیت سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ناسا کے خلاء باز مائیک فنک 7 جنوری کو رات کے کھانے کے بعد جب اسپیس واک کی تیاری کر رہے تھے تو اچانک وہ بغیر کسی درد یا انتباہی علامات کے عارضی طور پر بولنے سے قاصر ہو گئے۔
اس حوالے سے مائیک فنک کا کہنا ہے کہ جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت مجھے ایسا لگا جیسے کرنٹ لگا ہو اور یہ احساس تقریباً 20 منٹ تک رہا۔
اُنہوں نے بتایا کہ میں نے اس سے پہلے ایسا کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مائیک فنک کے ساتھا ایسا دل کا دورہ پڑنے یا سانس لینے میں دشواری جیسے مسئلے کی وجہ سے بھی نہیں ہوا کیونکہ اُنہیں اس وقت کسی بھی طرح کی کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس واقعے کو ماہرین ابھی تک سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خلاء باز کے ساتھ اچانک ایسا کیوں ہوا؟ کیا اس پراسرار واقعے کا تعلق مائیکرو گریویٹی کے طویل عرصے تک رہنے سے ہو سکتا ہے؟
واضح رہے کہ مائیک فنک اس مشن کے دوران تقریباً ساڑھے 5 ماہ تک آئی ایس ایس پر رہے اور مجموعی طور پر انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران خلاء میں 549 دن گزارے۔
خلاء بازوں کو مقررہ وقت سے 1 ماہ قبل 15 جنوری کو اسپیس ایکس کے خلائی جہاز کے ذریعے زمین پر واپس لایا گیا اور پھر ان کے تفصیلی طبی معائنے ہوئے۔
ناسا اس غیر معمولی طبی واقعے کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔