• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فائل فوٹو
فائل فوٹو

عبدالرشید طلحہ نعمانی

امیر المؤمنین فی الحدیث امام ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری اپنی صحیح میں صحابیٴ رسول، حضرت سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: وہ وقت بھی آنے والا ہے جب زمانے ایک دوسرے کے قریب ہوں گے، علم اٹھا لیا جائے گا، فتنے پھوٹ پڑیں گے، بخل ڈالا جائے گا اور ہرج زیادہ ہوگا۔ صحابہؓ نے یہ سن کر عرض کیا:اے اللہ کے رسولﷺ!”ہرج“ کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا”قتل و غارت گری“۔

حدیث بالا کی روشنی میں جب ہم اپنے ماحول پر ایک طائرانہ نظرڈالتے ہیں، گِرد وپیش کا سرسری جائزہ لیتے ہیں اور روز مرہ پیش آنے والے واقعات کو پڑھتے یا دیکھتے ہیں تو صاف طور پر محسوس ہوتا ہے کہ ان دنوں قتل وخوں ریزی کی وبا عام ہے، دنیا کی چند کوڑیوں یا مختصر سی زمین وجائیداد کے لیے کسی کوقتل کر ڈالنا معمول بن چکا ہے،چھوٹی چھوٹی بات کو لے کرباپ بیٹے سے، بھائی بھائی سے،شوہر بیوی سے اور پڑوسی پڑوسی سے آمادہٴ پیکار ہے۔

جوں جوں زمانہ ترقی کرتا جارہاہے انسانیت مٹتی جارہی ہے، مروّت مائل بہ زوال ہے، قرابت کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی،بے لوث دوستی کا تصور بھی محال ہوچکا ہے، انسانی جان تو مچھر اور مکھی سے بھی کم تر وحقیر ہوگئی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ جب معاشرے میں ایک دوسرے کی جان کا احترام نہیں رہے گاتو تمدن کی جڑیں کھوکھلی ہوجائیں گی، بدامنی و انارکی پھیل جائے گی اور ظلم وسرکشی کا ہرسمت بول بالا ہوگا۔ 

یہ وہ نکتہ ہے جو سورۃ المائدہ میں ہابیل اور قابیل کے واقعے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایاہے کہ: ”جس کسی نے ایک انسان کی جان بھی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے لیے لی تو اس نے گویا پوری نوعِ انسانی کو قتل کر دیا اور جس نے ایک انسان کوزندگی دی (اس کی جان بچائی) اس نے گویا پوری نوعِ انسانی کی جان بچائی“، اس لیے کہ حقیقتاً قتل ِناحق انسانی تمدن کی جڑوں کو کاٹتا ہے۔

یہ کس درجہ حیرت کا مقام ہے کہ وہ دین جو دنیا میں سراپا عدل، انصاف اور پیام امن بن کر آیا تھا، وہ رسول ﷺ جو رحمۃ لّلعالمین بناکر بھیجے گئے تھے اور وہ صحابہ رضی اللہ عنہم جو محبت اور شفقت سے نوع انسانی کی خدمت کے خوگر تھے اب انہی کے نام لیوا ایسے ایسے مظالم ڈھارہے ہیں اور ظلم و بربریت کا وہ شرم ناک مظاہرہ کررہے ہیں، جن کے ذکر سے کلیجہ منھ کو آنے لگتا ہے۔

قرآن وحدیث کی تعلیمات پرغور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس درندگی وخوں ریزی کے پیچھے براہ راست یا بالواسطہ تین عوامل کارفرما ہیں اور یہ تینوں عوامل وہی ہیں، جن کی جڑ سے عموماً تمام انسانی کمزوریاں جنم لیتی ہیں اور انسانیت کو تباہ وبرباد کردیتی ہیں، آپ انسانی جرائم کی تاریخ پڑھ ڈالیے سب کی تہہ میں عموماً یا تو ”شہوت ِ بطن“کا جذبہ ہوگا یا ”نفسانی خواہشات“ کا یا پھر ”عزت وجاہ“ کی حد سے بڑھی ہوئی ہوس کا۔

اللہ اور اُس کے رسولﷺ کے نزدیک بندۂ مومن کے جسم و جان اور عزت و آبرو کی اہمیت خانہٴ کعبہ سے بھی زیادہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک مومن کی حرمت کو کعبے کی حرمت سے زیادہ محترم قرار دیا ہے۔

امام ابن ماجہ نقل کرتے ہیں،حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ کو خانۂ کعبہ کاطواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا: (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوش بوکتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حُرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت اللہ کے نزدیک تیری حُرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہیے۔

امام ترمذیؒ اپنی جامع میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے منقول یہ حدیث ذکرکرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل سے پوری دنیا کا ناپید (اور تباہ) ہو جانا ہلکا ہے۔

مشہور محدّث امام بیہقی حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا: اگر تمام اہلِ زمین اور تمام اہلِ آسمان ایک مومن کے قتل ناحق میں شریک ہوجائیں تو بھی اللہ تعالیٰ سب کو جہنم میں جھونک دیں گے۔

ظاہر ہے کہ آسمان جس برگزیدہ اور معصوم مخلوق سے معمور ہے کون نہیں جانتا۔ زمین کی پُشت پر کیسی کیسی مقدس ہستیاں آباد ہیں، کیا ان کے بارے میں کبھی قتل مومن کا وسوسہ بھی آسکتا ہے، لیکن مومن کی جان کی عظمت ایسی ہے کہ اس کا بیان بجزو اس تعبیر کے اور کس طرح کیا جاسکتا ہے؟

قرآن وحدیث میں متعدد مقامات پر مختلف پیرایے میں اس امر کی وضاحت کی گئی ہےکہ اسلام میں انسانی جان علیٰ الاطلاق محترم ہے۔ چناں چہ ہر ذی روح کی جان کا احترام ضروری ہے، نہ تو کسی جان دار کو بلاوجہ مارنے کی اجازت ہے اور نہ ایذا رسانی کی۔ اس حوالے سے ذیل میں چند آیات وروایات ملاحظہ فرمائیں!حق تعالیٰ شانہ کا فرمان ہے: اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے۔

جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اورلعنت بھیجے گا اور اللہ نے اس کے لیے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے۔(سورۃالنّساء) ایک اور مقام پر تنبیہ خداوندی ہے: اور جو اللہ کے ساتھ کسی بھی دوسرے معبود کی عبادت نہیں کرتے اور جس جان کو اللہ نے حُرمت بخشی ہے اسے ناحق قتل نہیں کرتے اور نہ وہ زنا کرتے ہیں اور جو شخص بھی یہ کام کرے گا اُسے اپنے گناہ کے وبال کا سامنا کرنا پڑے گا، قیامت کے دن اس کا عذاب بڑھا کر دو گنا کر دیاجائے گا اور وہ ذلیل ہو کر اس عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔(سورۂ فرقان)

اسی طرح رحمۃ لّلعالمین حضرت محمد ﷺ نے بھی ناروا قتل پر سخت وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں اور اس گناہ کبیرہ سے باز رہنے کا حکم فرمایا ہے۔حضرت انس رضی الله عنہ نے رسول اکرم ﷺ کا یہ ارشاد نقل فرمایا ہے: کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور کسی انسان کو ناحق قتل کرنا، والدین کی نافرمانی کرنااور جھوٹی بات کہنا۔(صحیح بخاری) ایک جگہ توقتل ناحق کو کفر قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: کسی مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اوراسے قتل کرنے کے لیے لڑنا کفر ہے۔(بخاری) 

حضرت عبادہ بن صامت ؓسے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہر گناہ کے بارے میں امید ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے معاف فرما دے، سوائے اس شخص کے جو مشرک ہونے کی حالت میں مرا ہویا جس نے کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کیا ہو۔(مجمع الزوائد)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:کوئی شخص دوسرے کے پاس جاکر اسے قتل کردے تو مقتول جنت میں ہوگا اور قاتل جہنم میں۔(مجمع الزوائد)

قتل کی سنگینی کے باعث اسلام نے اسلحے کے ذریعے مذاق اور اسلحے کی نوک سے کسی معصوم کی طرف اشارہ کرنے سے بھی منع فرما دیا، چناں چہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: کوئی بھی اپنے بھائی کی طرف اسلحہ سے اشارہ نہ کرے، کیوں کہ اسے نہیں معلوم کہ شیطان اس کے ہاتھ کو چوک لگا دے اور وہ جہنم کے گڑھے میں جا گرے۔(بخاری و مسلم)

نیز نبی پاک ﷺ نے یہ بھی فرمایا: جو شخص اپنے کسی بھائی کی طرف خنجر سے بھی اشارہ کرے تو فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں، چاہے وہ اس کا سگا بھائی کیوں نہ ہو۔(مسلم، ترمذی)

مختصر یہ کہ قتل کے پیہم واقعات کا رونما ہونا‘ قوتِ برداشت کے فقدان، غصے میں آپے سے باہر ہوجانے اور اسلامی تعلیمات سے جہالت وناواقفیت کا نتیجہ ہے جو مسلم معاشرے کے لیے کسی بدنما داغ سے کم نہیں۔

اقراء سے مزید