• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کہیں میں نے پڑھا تھا کہ ایک بوڑھا ملاح کہا کرتا تھا’’سمندر کبھی خاموش نہیں ہوتا، وہ صرف سننے والوں کی کمی کا شکار ہوتا ہے۔‘‘ اُس وقت میں نے اس بات کو ایک قصہ سمجھ کر چھوڑ دیا تھا، مگر آج جب میں دنیا کے نقشے پر جھکتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ سمندر واقعی بول رہے ہیں۔اور اُن کی آواز میں ایک عجیب سی بے چینی ہے، جیسے کوئی راز ہے جو خود کو ظاہر کرنے پر تُلا ہوا ہو۔ ہم نے ہمیشہ تاریخ کو خشکی پر تلاش کیا۔پہاڑوں کی چوٹیوں پر، میدانوں کی وسعت میں، سرحدوں کی لکیر میں۔مگر سچ یہ ہے کہ تاریخ ہمیشہ پانی پر لکھی گئی، لہروں کے درمیان، اُن راستوں پر جہاں سے گزر کر دنیا نے اپنا چہرہ بدلا۔

جو قومیں لہروں کی زبان سمجھ گئیں، وہی دنیا کی زبان بھی سمجھ گئیں، اور باقی سب کناروں پر کھڑے صرف دیکھتے رہے۔جیسے تماشائی، جو شور تو سنتے ہیں مگر معنی نہیں سمجھتے۔ آبنائے ہرمز… ایک نام، مگر دراصل ایک دروازہ، ایسا دروازہ جسکے پار تیل بہتا ہے، اور تیل کے ساتھ ساتھ طاقت بھی۔ میرے گاؤں کے ایک بوڑھے استاد کہا کرتے تھے’’جس کے پاس آگ ہو، وہ سردی سے نہیں ڈرتا‘‘ آج کی دنیا میں یہ آگ تیل ہے، اور ہرمز اس آگ کا راستہ ہے، ایک ایسا راستہ جسکی چوڑائی چند کلومیٹر ہے مگر اس میں پوری دنیا کی معیشت سمٹی ہوئی ہے، جیسے کسی باریک شیشے کی نالی میں ایک پورا سمندر بند کر دیا گیا ہو۔ کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں جہاں سے گزرنے کیلئےصرف جہاز نہیں، قسمت بھی قطار میں کھڑی ہوتی ہے۔ہرمز بھی ایسا ہی راستہ ہے، جہاں ہر گزرتا ہوا ٹینکر صرف ایندھن نہیں لے جا رہا ہوتا بلکہ کسی نہ کسی ملک کی سانسیں اپنے ساتھ لے جا رہا ہوتا ہے۔ اور پھر باب المندب ہے۔آنسوؤں کا دروازہ۔ایک ایسا نام جو خود اپنی کہانی سناتا ہے، جسے سن کر دل میں ایک سرد لہر دوڑ جاتی ہے۔ روایت کہتی ہے کہ جس راستے کا نام غم سے جڑا ہو، وہاں سے کبھی آسانی نہیں گزری، اور باب المندب بھی ایسا ہی ہے۔جہاں سے گزرنے والے صرف تجارت نہیں کرتے بلکہ تاریخ کا بوجھ بھی اپنے ساتھ اٹھائے چلتے ہیں، جیسے ہر جہاز اپنے ساتھ صدیوں کی تھکن لے جا رہا ہو۔

یہ راستے ہمیں بتاتے ہیں کہ دنیا کی طاقت صرف زمین پر نہیں، پانی میں بھی بستی ہے، مگر ہم نے ہمیشہ پانی کو کم سمجھا۔جیسے وہ صرف عکس دکھانے کیلئے ہو، حالانکہ وہ تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہ خاموشی میں بھی فیصلہ کر سکتا ہے کہ کون اوپر رہے گا اور کون نیچے ڈوب جائے گا۔ آج ایران کی بات ہو رہی ہےکہ اس نے آبنائے ہرمز کو بند کیا ہوا ہے اور باب المندب کو بند کرنے کی بات کر رہا ہے۔یہ صرف ایک سیاسی بیان نہیں، یہ دنیا کی شہ رگ پر ہاتھ رکھنے کی بات ہے، جیسے کوئی اچانک دل کی دھڑکن کو اپنی مٹھی میں لے لے اور پوچھے کہ اب بتاؤ، زندگی کس کی ہے؟ میرے خیال میں اگر یہ ہاتھ واقعی مضبوط ہو جائے تو دنیا کو جھکنا پڑے گا۔امریکہ کو بھی، اسرائیل کو بھی۔کیونکہ طاقت ہمیشہ بندوق سے نہیں، راستے سے پیدا ہوتی ہے، اور جسکے پاس راستہ ہو، وہی منزل کا مالک ہوتا ہے۔ میرے ایک دوست نے کہا تھا’’دنیا ایک مشین ہے، اور یہ سمندری راستے اس کے پیچ ہیں، اگر ایک پیچ بھی ڈھیلا ہو جائے تو پوری مشین کانپنے لگتی ہے۔‘‘اُس وقت میں نے یہ بات ہنسی میںاڑا دی تھی، مگر آج جب میں یہ سب دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ وہ ٹھیک کہہ رہا تھا، کیونکہ اگر ہرمز بند ہو جائے تو تیل رک جائے گا۔

اگر باب المندب بند ہو جائے تو تجارت رک جائے گی، اور اگر دونوں خاموش ہو جائیں تو دنیا کا شور بھی خاموش ہو جائے گا، جیسے کسی نے اچانک وقت کی گھڑی روک دی ہو۔ مگر ایک اور راستہ بھی ہے۔جو نظر نہیں آتا۔سمندر کے نیچے بچھا ہوا، باریک تاروں کی صورت میں، فائبر آپٹک کیبلز۔جن میں دنیا کی آواز دوڑتی ہے، جیسے رگوں میں خون۔ ایک بزرگ کہا کرتے تھے’’سب سے مضبوط چیز وہ ہوتی ہے جو نظر نہ آئے۔‘‘یہ کیبلز بھی ویسی ہی ہیں۔خاموش مگر طاقتور۔اگر یہ کٹ جائیں تو صرف انٹرنیٹ بند نہیں ہوگا، انسان ایک دوسرے سے کٹ جائیں گے، بینک خاموش ہو جائیں گے، جہاز راستہ بھول جائیں گے، اور شاید انسان کو دوبارہ لفظوں کو کاغذ پر لکھ کر بھیجنا پڑے گا، جیسے وہ اپنی ہی رفتار سے شرمندہ ہو گیا ہو۔ ہم ایک عجیب دنیا میں رہتے ہیں۔ہمیں لگتا ہے ہم نے سب کچھ قابو میں کر لیا ہے، ہم مضبوط ہیں، ہم ترقی یافتہ ہیں، مگر سچ یہ ہے کہ ہماری پوری تہذیب چند باریک راستوں پر کھڑی ہے۔چند کلومیٹر چوڑی گزرگاہیں، چند نادیدہ تاریں، چند بے چین لہریں۔اور ہم ان سب کو نظرانداز کر کے خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ ایک کہاوت ہے’’جب پہاڑ ہلتے ہیں تو آواز آتی ہے، مگر جب سمندر بدلتا ہے تو دنیا بدل جاتی ہے‘‘ آج سمندر بدل رہے ہیں۔وہ خاموش نہیں ہیں، وہ بول رہے ہیں۔اور ان کی زبان میں ایک ہی پیغام ہے’جو انہیں سمجھ لے گا، وہی کل کو سمجھ پائے گا‘۔ شاید یہی ’’سمندری راستوں کی جنگ‘‘ کا اصل مطلب ہے۔یہ جنگ توپوں اور میزائلوں کی نہیں، یہ جنگ راستوں کی ہے، کنٹرول کی ہے، اس بات کی ہے کہ دنیا کی نبض کس کے ہاتھ میں ہوگی۔کیونکہ آخرکار، دنیا ہمیشہ اُن کے ہاتھ میں رہی ہے جو پانی کے بہاؤ کو روکنا نہیں، بلکہ سمجھنا جانتے ہیں۔

تازہ ترین