• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبنائے ہرمز میں نیا بحری راستہ: عمانی ساحل کے قریب سے 3 بڑے آئل ٹینکرز بچ نکلے

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتِ حال کے دوران 3 بڑے بحری جہازوں نے عمان کے ساحل کے ساتھ متبادل راستہ اختیار کرتے ہوئے گزرنے کی کوشش کی جسے عالمی توانائی منڈی کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

میری ٹائم ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق 2 سپر آئل ٹینکرز اور 1 ایل این جی بردار جہاز گزشتہ روز مشرقی سمت میں آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے، یہ تینوں جہاز دنیا کے بڑے ترین آئل ٹینکرز میں شمار ہوتے ہیں جبکہ جنگ شروع ہونے کے بعد خلیج سے نکلنے کی کوشش کرنے والا یہ پہلا ایل این جی کیریئر بتایا جا رہا ہے۔

تمام جہاز عمان شپ مینجمنٹ کمپنی کے زیرِ انتظام ہیں اور سفر کے دوران خود کو عمانی ملکیت ظاہر کر رہے تھے۔ 

جہازوں نے عمان کے مسندم جزیرہ نما کے قریب پہنچتے ہی تقریباً صبح 9 بج کر 30 منٹ پر لندن کے وقت کے مطابق اپنی خودکار لوکیشن کے سگنلز بند کر دیے جس کے بعد ان کی درست پوزیشن واضح نہیں رہی۔

رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز عملی طور پر تنازع کے آغاز سے محدود ہو چکی ہے تاہم ایران چند دوست ممالک سے تعلق رکھنے والے جہازوں کو اپنی نگرانی میں مخصوص شمالی راستے سے گزرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ 

ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان جہازوں کی آمد و رفت کی نگرانی کے لیے نیا پروٹوکول تیار کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فی سفر تقریباً 2 ملین ڈالرز تک فیس عائد کرنے کی تجویز بھی دے رہا ہے جس سے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور سیاسی دباؤ بڑھ گیا ہے، خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر۔

جہازوں کی نقل و حرکت کی نگرانی سگنل جیمنگ اور جعلی سگنلز کے باعث مشکل ہو گئی ہے، دونوں آئل ٹینکرز تقریباً 2 ملین بیرل خام تیل لے جا رہے ہیں جبکہ گیس بردار جہاز خالی بتایا گیا ہے۔

ایک ٹینکر سعودی عرب سے تیل لے کر میانمار کی بندرگاہ کیاؤک پیو جا رہا تھا جہاں سے پائپ لائن کے ذریعے تیل مغربی چین منتقل کیا جاتا ہے جبکہ دوسرا جہاز ابوظبی سے روانہ ہوا جس کی منزل ظاہر نہیں کی گئی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید