خواجہ بے وفا لاہوری میرے پرانے دوست ہیں ان کی زندہ دلی شہر بھر میں مشہور ہے چنانچہ شہر بھر کے زندہ دل شام کو ان کی بیٹھک میں جمع ہوتے ہیں اور رات گئے تک گپ شپ کی محفل جاری رہتی ہے۔
خواجہ صاحب کی بے مثال خوبی اپنی ذات پر طنز کرنا ہے بلکہ وہ اپنے ساتھ عملی مذاق کرنے سے بھی باز نہیں آتے جس کی ایک مثال یہ ہے کہ وہ اب تک اپنے تین نام خود ہی بدل چکے ہیں، چند برس پیشتر وہ ایک حکومتی پارٹی کے رکن تھے اور ہر جلسے میں اپنے لیڈر کو مخاطب کر کے کہتے تھے ’شاہ جی ، ڈرو نہیں ، پے جاؤ‘ ( شاہ جی مخالفوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ، ان پرحملہ آور ہو جائیں) ان دنوں خواجہ صاحب نے از راہ تفنن خود کو خواجہ ’پے جالا ہوری‘ کہلانا شروع کر دیا۔ شاہ صاحب کی حکومت کمزور ہوئی تو انہوں نے جملہ بدل لیا ، اب وہ ہر میٹنگ میں اپنے لیڈر کو مخاطب کر کے کہتے ’’شاہ جی ہن بے جاؤ ( اب بیٹھ جاؤ )‘‘ چنانچہ اس دوران وہ خواجہ بے جالا ہوری کے نام سے دوستوں کے حلقے میں مشہور ہو گئے ۔ جب ان کی حکومت گئی تو موصوف نے اگلے ہی روز چھلانگ لگا کر حکومت اور اپنے سابقہ لیڈر شاہ جی کے لتے لینا شروع کر دیے اور اپنے ساتھ عملی مذاق اس سے زیادہ کیا ہو سکتا تھا کہ اس کے بعد انہوں نے کھلم کھلا خود کو خواجہ بے وفالا ہوری کہلانا شروع کر دیا بلکہ ایک موقع پر تو وہ خود کو خواجہ کی بجائے خواجہ سرا کہلانا چاہتے تھے مگر دوستوں نے منع کر دیا۔ دوستوں کا کہنا تھا کہ یہ مذاق مناسب نہیں، کیونکہ اس مذاق کی رینج بہت زیادہ ہے۔
خواجہ پے جالا ہوری ، خواجہ بے جالا ہوری اور اب خواجہ بے وفا لا ہوری اپنی زندگی سے بہت مطمئن ہیں، وہ کہتے ہیں کہ انسان کو ضمیر وغیرہ کے چکر میں نہیں پڑنا چاہئے اور وہ اس ضمن میں ایک جملہ بھی کوٹ کرتے ہیں کہ ضمیر انسان کو گناہ سے نہیں روکتا، صرف گناہ کا مزا کرکرا کرتا ہے ۔ اس حوالے سے خواجہ صاحب کا ایک با قاعد تھیسز ہے، وہ بتاتے ہیں کہ جب وہ سیاست میں آئے اس وقت ان کے پاس صرف سائیکل تھی۔ انہوں نے حکومت وقت کی حمایت کی تو وہ سائیکل سے کار پر آگئے نئی حکومت کا ساتھ دیا تو ایک بڑی حویلی کے مالک بن گئے اور اس کے بعد آنے والی حکومتوں کا ساتھ دینے کے نتیجے میں اب وہ کروڑوں کے مالک ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ سب کچھ ناجائز ذریعے سے کیا۔ ٹھیک ہے اب عام لوگ انہیں لوٹا لوٹا کہتے ہیں مگر جنہوں نے ساری عمر رزق حلال پر گزارا کیا اور ساری زندگی اپنے اصولوں کے مطابق گزاری معاشرے نے انہیں کون سے سرخاب کے پر لگا دیئے ہیں، وہ بھی بغیر کسی ثبوت کے ایک الزام کی مار ہیں۔ میں گزشتہ روز خواجہ بے وفا لا ہوری کی مزیدار باتیں سننے ان کی بیٹھک پر گیا تو وہاں اور بھی زندہ دلانِ لاہور موجود تھے، میں نے کہا خواجہ صاحب، آپ کی حد تک تو ٹھیک ہے کہ آپ ماشاء اللہ کھلے بے غیرت ہیں لیکن لاہوری کے ساتھ ” بے وفا تو نہ لگا ئیں اس سے ہم لاہوریوں کو فیصل آباد، ملتان، پشاور اور کراچی والے مہنے مارتے ہیں‘‘ اس پر خواجہ صاحب نے اپنا روایتی بھر پور قہقہہ لگایا اور کہا’’لوگوں کے مہنے ہی پڑتے ہیں نا پولیس کے ڈنڈے اور چھتر تو نہیں پڑتے ‘‘
محفل میں چوہدری افسر بے اصول صاحب بھی موجود تھے۔ وہ بھی بڑے زندہ دل انسان ہیں اور انہوں نے بھی کچھ عرصے سے اپنا اصلی نام بدل کر خود ہی چوہدری افسر بے اصول رکھ لیا ہے۔ چوہدری صاحب نے مجھے مخاطب کیا اور بولے ” جناب ہمیں چین سے روٹی کھانے دیں، آپ ایسی باتیں کرتے ہیں تو کئی کئی دن اس بازار میں پھجے کے پائے کھانے کے لئے جانے کو دل نہیں چاہتا‘‘ میں نے کہا ’’چوہدری صاحب ، اب تو پھجا بھی اس بازار سے باہر آ گیا ہے‘‘ اس جملے پرچوہدری صاحب نے میرا منہ چوم لیا اور کہا’’ یار تم بڑے مخولئے ہو‘‘ میرے استاد محترم انصاف مرحوم ، خواجہ بے وفالا ہوری کے چچیرے بھائی تھے۔ خواجہ صاحب کو ان کی زندگی میں ان کے ساتھ کچھ اختلافات تھے جو انصاف کے اس دنیا سے اٹھ جانے پر ختم ہو گئے ۔ خواجہ صاحب کہنے لگے کچھ لوگوں کی موت ان کی زندگی سے بہتر ہوتی ہے بالکل اسی طرح جس طرح زندہ ہاتھی لاکھ کا اور مرا ہوا سوالاکھ کا ہوتا ہے۔ میرا چچیرابھائی انصاف اب سوالاکھ کا ہے تم دیکھنا اس کے ریٹ میں دن بدن اضافہ ہوگا ۔