2002 میں امریکی فوج نے ایک خلیجی ملک سےمصنوعی اور تخیلاتی جنگی مشق کی جس کا نام "ملنیم چیلنج 2000 "تھا۔امریکی فوج "بلو ٹیم" اور خلیجی ملک (ایران) "ریڈٹیم" کے نام سے میدان میں آئی۔ ریڈ ٹیم جس کے سربراہ امریکی جنرل پاؤل رائپر تھے نے ابتداء ہی سے غیر روایتی انداز میں چھوٹی کشتیوں، میزائلوں کی برسات اور اچانک حملوں سے" بلو ٹیم" کو بھاری نقصان پہنچایا۔ امریکی جوائنٹ فورسز کے بحری، بری اور فضائی اعلیٰ افسران "بلو ٹیم" کی قیادت کر رہے تھے جبکہ جنرل پاؤل رائپر اپنی غیر روایتی اور مختلف سوچ رکھنے کی بِنا پر "ریڈ ٹیم" کی سربراہی کے لیے چنے گئے تھے۔آغاز ہی سے "ریڈ ٹیم" نے اچانک تابڑ توڑ حملوں سے 16امریکی بحری جہاز غرق کر دیے ( یاد رہے یہ تخیلاتی مشقیں تھیں) جن میں ایک ایئر کرافٹ کیریئر، متعدد کروز، ڈسٹرائر اور دیگر جہاز شامل تھے۔ علاوہ ازیں بیس ہزار امریکی فوجی بھی مارے گئے ۔جرنل رائپر نے ایران کے زمینی حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے رابطوں کے جدید طریقۂ کار کی جگہ موٹر سائیکل سواروں کے ذریعے پیغام رسانی کی، مسجدوں کے لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے خفیہ اشارے دیےاورچھوٹی کشتیوں سے کروز میزائل حملوں کی حکمتِ عملی اپنائی۔ "ریڈ ٹیم" کے فوری حملوں سے "بلو ٹیم" کی دفاعی صلاحیت کو بھاری زک پہنچنے پر یہ مصنوعی مشق روک کر نئے قوانین وضع کیے گئے۔ اچانک حملوں کی تعداد محدود کرنے، ریڈار سسٹم فعال رکھنے کی شرط، بعض لڑاکا طیارے مار گرانے پر پابندی اور بسا اوقات "ریڈ ٹیم" کو اپنے خفیہ مقام ظاہر کرنے کا بھی حکم ہوا۔ جنرل رائپر نے نئے قوانین پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ جنگی مشق نہیں رہی بلکہ پہلے سے لکھا ڈرامہ ہے ۔2012میں "بروکنز انسٹیٹیوٹ "نے بھی جنگی مشق کروائی جس کا مقصد ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکہ و اسرائیل کے مشترکہ ہوائی حملوں کا نتیجہ نکالنا تھا۔ انسٹیٹیوٹ کے مطابق محدود جنگ کی صورت میں بھی پورے خطے میں جنگ شروع ہو جائے گی۔ ایران میزائل حملوں سے جوابی وار کرے گا جبکہ ایران پراکسی گروہ بھی بھرپور طریقے سے فعال ہو جائیں گے۔ تیل کی قیمتیں غیر یقینی سطح پر بڑھ جائیں گی اور خطے میں حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔ "سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز "نے کئی سال تک ایران سے متعدد تخیلاتی جنگی مشقوں سے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ ایران آبنائے ہرمز بند کر سکتا ہے، خطے میں امریکی اڈوں پر حملہ آور ہو سکتا ہے جس سے خطے کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان ساری جنگی مشقوں کا نتیجہ بالآخر امریکہ کو فتحیاب دکھانے پر نکلتا لیکن حقیقت کے قریب رکھتے ہوئے اسکو ہر دفعہ ناقابلِ تلافی نقصان کا سامنا بھی کرتے دکھایا گیا۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ محدود جنگ نہیں رہ سکتی۔ ان تمام تجزیوں کے مطابق جنگ کے 21 سے 30 روز تک امریکہ عسکری طور پر ایران پر حاوی ہو جائے گا اور اسکی مکمل فضائی برتری بھی قائم ہو جائے گی۔جبکہ ایران کی بحری قوت ختم اور میزائل پروگرام واجبی کارکردگی تک محدود رہ جائے گا۔ 30سے90روز میں امریکہ کی عسکری، بحری اور بری حملوں سے ایرانی رجیم کمزور ہونے کے باوجود مقابلہ کرتی رہے گی اور ہلکے درجے کی جنگ جاری رہے گی۔ سفارتکاری یا عارضی جنگ بندی کو متحارب ممالک اپنی فتح قرار دیں گے۔ ایران پر عالمی پابندیاں، سائبر حملے اور اسرائیلی حملے جاری رہیں گے۔ الغرض خطے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا جس کے باعث جنگ سے طویل عرصے تک نکلنا ممکن نہ رہے گا۔
یہ تخیلاتی جنگی مشقیں مخصوص نقطہ ٔنظر اور زاویے کے پیشِ نظر ترتیب دی جاتیں تھیں ۔ ان کا مقصد امریکہ کو ہر مشکل، نقصان اور نامسائد حالات سے بالآخر لڑ کر کامیاب ہوتے دکھانا تھا۔ ان اداروں میں تجزیہ کار امریکی سی آئی اے یا اسرائیلی لابی کےتنخواہ دار ہیں۔ امریکہ کی ناکامی اور ہزیمت کی پیشنگوئی کر کے وہ اپنے روزگار پر لات کیسے مار سکتے ہیں۔ یہ بادشاہوں کے تاریخ دانوں کی طرح ہیں جو اگر حقیقتِ حال لکھنے کی جرأت کرتے تو انکے ہاتھ کٹوا دیے جاتے۔ ایران جنگ سے یہ بات تو امریکی عوام پر آشکار ہو گئی ہے کہ امریکی حکومت اسرائیل کی یرغمال ہے۔ امریکی عہدیداران سب سے پہلے امریکہ نہیں بلکہ اسرائیل پر یقین رکھتے ہیں،اسی لئے ایران پر حملے کی اجازت نہ لینے پر بھی امریکی کانگریس گنگ ہے۔انہوں نےذاتی مفادات کے عوض امریکی عوام کی زندگیاں، مفادات، مستقبل و خود مختاری سب اسرائیل کے پاس گروی رکھ دیے ہیں۔جنگی مشقوں میں امریکہ منہ کی کھائے، ایران سے ہارے یا دنیا میں رسوا ہو تب بھی اسرائیلی ایماء پر امریکی صدر وہی کچھ کرے گا جو آج کر رہا ہے یعنی صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے ذاتی معاشی مفادات ان کے امریکہ دشمن فیصلوں میں معاون ہیں۔ ٹرمپ اپنے داغدار ماضی،سطحی سوچ،صنفِ نازک کے حوالے سے خیالات،کرپشن، غلط کاریوں ،غداری کے الزامات اور بین الاقوامی معاملات کا واجبی سا علم رکھنے کے باوجود اسرائیلی لابی کے زور پر ہی اقتدار میں لائے گئے ہیں تاہم اسرائیل امریکہ کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے محض ایک ذریعے سے زیادہ نہیں سمجھتا ۔ ادھر ٹرمپ کو قطعاً پرواہ نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے ساتھی ممالک کا جنگ سے کیا حشر ہوگا؟ وہ کیسی غیر یقینی صورتِحال اورخطرات کا شکار ہوں گے جنہیں امریکہ نے پیٹرو ڈالر کے عوض دفاع کی ضمانت دی تھی۔آج ایران تمام پیشنگویوں کے برعکس مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے۔ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل نہ کھلوا سکنے پر صدر ٹرمپ نے دنیا کو کہا کہ امریکہ سے تیل خرید لو،ہمارے پاس بہت ہےجو کہ اپنے دوست ممالک کے پیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ آئے روز جھوٹی خبریں اڑا کر، ٹرمپ اور ان کی ٹیم اسٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے مالی مفادات سمیٹتے ہیں۔جھوٹ، بہتان طرازی،مکاری اور فریب کو وہ حکمتِ عملی کہتے ہیں ۔ اپنے معاشی مفادات، مسلمانوں سے ذاتی بغض و عناد اور اپنے برے کرتوتوں پر پردہ پوشی کے لیےٹرمپ نے ایسا خطرناک اور امن دشمن قدم اٹھایا جو دنیا کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دے گا۔
ایرانی کبھی ہار مانیں گے نہ جھکیں گے۔وہ ہمیشہ سے علامہ اقبالؒ کی گرویدہ رہی ہے لیکن اب لگتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے پیغام کو بھی انہوں نے اپنے پلے سے باندھ لیا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو قوموں کو قربانی اور ایثار کا سبق دیتا ہے،جو غلامی کی زنجیروں سے جکڑے انسانوں کو اُمید کی کرن دکھلاتا ہے۔ غلامی جسمانی ہو یا ذہنی اس کے چنگل سے نکل کر اپنے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنے کی ہمت دلاتا ہے۔ قائد اعظمؒ نے فرمایا کہ "جب ہمیں اپنا وطن اور ریاست ملے گی ہم آزاد انسانوں کی طرح جینے اور سانس لینے کے قابل ہوں گے اور اپنی روح کو اپنا کہہ سکیں گے". یعنی راحت اور سکون سے زیادہ اہم آزادی اور خود مختاری! غربت، عدم استحکام،سختیوں، معاشی مشکلات کے باوجود اپنی عزت و وقار اور شناخت سب سے پہلے!
ہوئی جس کی خودی پہلے نمودار
وہی مہدی ، وہی آخر زمانی!