سینئر بھارتی سیاستدان ششی تھرور نے مودی سرکار کے مسلم مخالف بیانیے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں فلم انڈسٹری مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا مرکز بنتی جارہی ہے۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ بالی ووڈ میں جان بوجھ کر ایسی فلمیں بنائی جا رہی ہیں جن میں مسلمانوں کو منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے، جس سے معاشرتی تقسیم میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ششی تھرور نے بالی ووڈ فلم امر اکبر انتھونی کا حوالہ دے کر نئے اور پرانے بھارت کا موازنہ کیا اور کہ کہا کہ ماضی کے بھارت میں انٹرٹینمنٹ کے ذریعے بھی محبت اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جاتا تھا۔
ششی تھرور نے کہا کہ امر اکبر انتھونی جیسی فلموں پر ٹیکس چھوٹ ملتی تھی تاکہ ٹکٹ کے پیسے بھی کم ہوں اور لوگ شوق سے ایسی فلمیں دیکھیں، اب دور بدل چکا ہے اور ایسی فلموں کو ٹیکس چھوٹ کے ذریعے فروغ دیا جا رہا ہے جن میں مسلمانوں کے خلاف نفرت دکھائی جاتی ہے۔
بھارتی سیاستدان ششی تھرور نے اس رویے کو بیانیے اور اقدار میں بڑی تبدیلی کا عکاس قرار دیا۔
انہوں نے اس رجحان کو خطرناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ سماجی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے، فن اور میڈیا کو نفرت پھیلانے کے بجائے اتحاد کو فروغ دینا چاہیے۔