• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

واحد فعال جوہری بجلی گھر بوشہر کو اب تک 4 بار نشانہ بنایا جا چکا، ایران کا عالمی ادارے کو خط

فوٹو: روئٹرز
فوٹو: روئٹرز 

ایرانی ایٹمی توانائی ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر کوخط لکھ دیا، جس میں کہا گیا کہ ایران کے واحد فعال جوہری بجلی گھر بوشہر کو اب تک 4 بار نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

خط میں کہا گیا کہ 4 اپریل کو حملے میں ایک سیکیورٹی اہلکار شہید اور متعدد افراد زخمی ہوئے، حملے کسی فعال جوہری ری ایکٹر سے تابکار مواد کے اخراج کا سبب بن سکتے ہیں، جس کے انسانوں، ماحول اور پڑوسی ممالک پر ناقابل تلافی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، یہ حملے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بوشہر بجلی گھر پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں پر آئی اے ای اے کا صرف تشویش کا اظہار ناکافی ہے، مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہے۔

بوشہر جوہری پلانٹ کیا ہے؟

رپورٹ کے مطابق بوشہر میں واقع یہ جوہری بجلی گھر مشرقِ وسطیٰ کا پہلا نیوکلیئر پاور پلانٹ ہے، جس پر کام 1975ء میں شروع ہوا جبکہ اسے 2011ء میں روسی تعاون سے مکمل کیا گیا۔

پلانٹ کا یونٹ 1 تقریباً 1000 میگا واٹ بجلی قومی گرڈ کو فراہم کرتا ہے جبکہ مزید 2 ری ایکٹرز 2029ء تک فعال ہونے کی توقع ہے۔

حملہ ہونے کی صورت میں کیا خطرات ہیں؟

رپورٹ کے مطابق اگر ری ایکٹر یا استعمال شدہ ایندھن کے ذخائر کو نقصان پہنچا تو خطرناک تابکار مادہ ’سیسیم 137‘ (Caesium-137) فضا میں خارج ہو سکتا ہے۔

یہ ذرات ہوا اور پانی کے ذریعے دور دراز ممالک تک پھیل سکتے ہیں جس سے زمین اور خوراک آلودہ ہو سکتی ہے، پینے کا پانی ناقابلِ استعمال ہو سکتا ہے اور کینسر سمیت طویل مدتی صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید