• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے میں ناکام، ایران اہم مقام کو کیسے کنٹرول کررہا ہے؟


فائل فوٹو
فائل فوٹو 

امریکا اپنے تمام تر دعووں اور دھمکیوں کے باوجود آبنائے ہرمز سے ایران کا کنٹرو ل ختم کروانے میں ناکام نظر آرہا ہے، آبنائے ہرمز کی بندش سے بحری ٹریفک شدید متاثر ہے، ایران اس اہم مقام کو کیسے کنٹرول کررہا ہے؟ تفصیلات سامنے آگئیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کے لیے روایتی بحری بیڑے پر انحصار نہیں کرتا، بلکہ ملٹی لیئر ڈیفنس اسٹریٹیجی کا استعمال کرتا ہے، جس میں اس کے ساحلوں پر موجود موبائل میزائل بیٹریز، چھوٹی اسپیڈ بوٹس، سمندری بارودی سرنگیں اور خودکش ڈرون شامل ہیں، جو فضا سے بحری جہازوں کو ٹریک کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر حملہ کر دیتے ہیں۔

حالانکہ امریکا ایرانی بحریہ خاص طور پر اُس کی آبدوزوں کو مکمل ختم کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن ابھی بھی Midget Submarines کا خطرہ موجود ہے، جس نے اس بحری راستے کے استعمال پر خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

امریکا اسرائیل کے حملوں کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا موثر کنٹرول ظاہر کرنے کےلیے کئی بحری جہازوں پر حملے کیے۔

انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق 28 فروری سے یکم اپریل تک خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان کے اطراف میں 20 سے زائد بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں 10 افراد ہلاک ہوئے۔

ادارے کا مزید کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث اس وقت خطے میں تقریباً 2 ہزار بحری جہاز پھنسے ہوئے ہیں اور ایران صرف چند ممالک کو اپنے جہاز لے جانے کی اجازت دے رہا ہے، ان 2 ہزار جہازوں میں سے تقریباً 400 جہاز خلیج عمان میں موجود ہیں، دیگر جہازوں کو نہر سوئز کی طرف موڑ دیا گیا ہے یا پھر انہیں ایشیا اور یورپ تک اشیاء پہنچانے کے لیے جنوبی افریقہ میں کیپ آف گڈ ہوپ کے راستے طویل سفر کرنا پڑ رہا ہے، سعودی عرب آبنائے ہرمز کی بجائے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی ترسیل کررہا ہے۔

آبنائے ہرمز سے گزشتہ 24 گھنٹےمیں ایران کی اجازت سے15 جہاز گزرے ہیں، ایرانی میڈیا کے مطابق یہ تعداد جنگ شروع ہونے سے پہلے کی نسبت 90 فیصد کم ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید