اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا جو صدیوں تک دنیا کے کسی نظام میں میسر نہ تھا۔ وراثت کے باب میں قرآن مجید نے نہ صرف عورت کے حق کو تسلیم کیا بلکہ اسے واضح تناسب کے ساتھ متعین بھی کر دیا۔سورہ النسا میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’مردوں کے لیے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور عورتوں کے لیے ان کی کمائی سے حصہ‘‘۔ مزید تفصیل میں بیٹی، بیوی، ماں اور بہن کے حصص مقرر کر دیے گئے تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی تاکید فرمائی کہ وراثت کو اس کے مستحقین تک پہنچایا جائے۔ یہاں ایک بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اسلام میں عورت کا حصہ‘‘خدمت’’یا‘‘کردار’’کی بنیاد پر نہیں بلکہ‘‘رشتہ’’(relationship) کی بنیاد پر ہے۔ بیٹی، بیوی یا ماں ہونے کے ناتے اس کا حق متعین ہے، نہ کہ اس بنیاد پر کہ اس نے گھر میں کتنی خدمت کی۔ یہی وہ اصولی فرق ہے جو اسلامی نظام کو دیگر تمام نظاموں سے ممتاز کرتا ہے۔
مغربی قوانین میں، اسکے برعکس، ’’مساوات ’’اور‘‘انفرادی اختیار‘‘ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ جائیداد کی تقسیم اکثر وصیت یا عدالت کی صوابدید پر ہوتی ہے اور کئی صورتوں میں‘‘گھریلو خدمات ’’یا‘‘معاشی شراکت’’کو بنیاد بنا کر حصہ دیا جاتا ہے۔ بظاہر یہ تصور انصاف کے قریب معلوم ہوتا ہے، مگر اس میں ایک بنیادی خامی یہ ہے کہ یہ خاندانی رشتوں کو کمزور کر کے انہیں محض معاشی معاہدہ بنا دیتا ہے۔ اگر بیوی کا حصہ اس کی خدمات کے بدلے ہے تو پھر شوہر کی خدمات کا کیا معاوضہ ہوگا؟ اگر عورت گھر سنبھالنے کی بنیاد پر حق دار ہے تو مرد، جو معاشی بوجھ اٹھاتا ہے، کیا وہ بھی کسی اضافی حصے کا مستحق نہیں ہوگا؟ یہی وہ سوالات ہیں جو مغربی ماڈل کو عملی سطح پر متنازع بنا دیتے ہیں۔
اسی پس منظر میں جسٹس محسن اختر کیانی کے حالیہ فیصلے نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے وراثت اور حق خدمت کو کچھ اس طرح مکس کیا کہ عام قاری کنفیوژن کا شکار ہو گیا۔بغیر گہرے مطالعے کے،محض سرسری معلومات کی بنیاد پراگر فیصلے تحریر کیے جائیں تو اسی طرح کے شاہکار سامنے آتے ہیں اس فیصلے میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ یہ تاثر بھی سامنے آیا کہ عورت کی گھریلو خدمات کو جائیداد میں حصہ دینے کی بنیاد کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ بظاہر یہ بات ہمدردی اور انصاف کے جذبے سے کی گئی محسوس ہوتی ہے، مگر اس کے مضمرات نہایت گہرے اور دور رس ہیں۔ اگر وراثت یا جائیداد میں حصہ’خدمات‘کے بدلے دیا جائے گا تو پھر یہ اصول یک طرفہ کیسے رہ سکتا ہے؟ کیا طلاق کی صورت میں شوہر یہ مطالبہ کر سکتا ہے کہ اس نے بھی برسوں محنت کر کے گھر چلایا، لہٰذا اسے بھی بیوی کی جائیداد میں حصہ دیا جائے؟ اگر اس سوال کا جواب نہیںہے تو پھر یہ اصول خود اپنے اندر تضاد رکھتا ہے، اور اگر جواب ہاںہے تو یہ اسلامی تعلیمات سے صریح انحراف ہوگا۔
اسلام کا نظام اس پیچیدگی سے مکمل طور پر پاک ہے۔ یہاں وراثت نہ تو جذبات کی بنیاد پر تقسیم ہوتی ہے اور نہ ہی خدمات کے حساب کتاب پر۔ یہ ایک الٰہی قانون ہے جس میں ہر فرد کا حصہ اس کے رشتے اور معاشرتی ذمہ داریوں کے مطابق مقرر ہے۔ مرد پر نان و نفقہ، رہائش اور دیگر مالی ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں، جبکہ عورت کو اس کے حصے پر مکمل اختیار دیا گیا ہے۔ وہ چاہے تو اسے خرچ کرے یا محفوظ رکھے، اس پر کوئی معاشی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی۔ اس متوازن نظام میں نہ کسی کے ساتھ زیادتی ہے اور نہ کسی کو غیر ضروری فوقیت دی گئی ہے۔
جسٹس کیانی کے فیصلے پر تنقید کا اصل نکتہ یہی ہے کہ اس نے ایک اصولی معاملے کو جذباتی اور سماجی تاویلات کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔ یقیناً خواتین کو ان کے شرعی حقوق سے محروم کرنا ایک سنگین ظلم ہے اور اس کے خلاف سخت اقدامات ہونے چاہئیں، مگر اس کا حل یہ نہیں کہ ہم وراثت کے الٰہی نظام میں نئی بنیادیں شامل کر دیں۔خدمت کے بدلے حصہ کا تصور بظاہر ہمدردی پر مبنی ہے، مگر حقیقت میں یہ خاندانی نظام کو ایک معاشی لین دین میں تبدیل کر دیتا ہے، جہاں ہر رشتہ نفع و نقصان کے ترازو میں تولا جانے لگتا ہے۔
مزید برآں، ہمارے معاشرے کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ قانون موجود نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس پر عمل نہیں ہوتا۔ دیہی علاقوں میں آج بھی عورتوں کو وراثت سے محروم رکھا جاتا ہے، اور کئی خاندانوں میں بیٹیوں کوراضی نامہ پر دستخط کروا کر ان کا حق ختم کر دیا جاتا ہے۔ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے، نہ کہ نئے اصول متعارف کروائے جائیں جو مزید ابہام پیدا کریں۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اسلام نے عورت کو جو حق دیا ہے، وہ کسی کی مہربانی یا خدمت کا صلہ نہیں بلکہ اس کا پیدائشی اور شرعی حق ہے۔ اگر ہم واقعی انصاف چاہتے ہیں تو ہمیں اسی الٰہی نظام کی طرف رجوع کرنا ہوگا، نہ کہ ایسے تصورات اپنانے ہوں گے جو بظاہر دلکش مگر حقیقت میں غیر متوازن اور متنازع ہیں۔ وراثت کا مسئلہ جذبات سے نہیں بلکہ اصولوں سے حل ہوتا ہے، اور اسلام نے ہمیں وہ اصول پہلے ہی عطا کر دیے ہیں جو قیامت تک کے لیے کافی اور کامل ہیں۔عدلیہ کو چاہیے کہ وہ ایسے امور پر طبع آزمائی کے بجائے ان مقدمات کے نمٹانے پر توجہ دے جنکے فیصلے سالہاسال سے لٹک رہے ہیں سائلین انصاف کے انتظار میں قبروں میں اتر جاتے ہیں لیکن انصاف کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوتا۔