لاہور ہائی کورٹ نے وزیر اعظم شہباز شریف کی ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں بریت کے خلاف درخواست خارج کرتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے شہری وشال شاکر کی درخواست پر آفس اعتراض برقرار رکھتے ہوئے درخواست مسترد کر دی۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ کا شہبازشریف کو منی لانڈرنگ کے مقدمے میں بری کرنا قانون کے مطابق ہے، اسپشل سینٹرل کورٹ کے کیسز میں بریت کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اختیار پبلک پراسیکیوٹر کو ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار نے شہباز شریف کی ایف آئی اے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں بریت کو چیلنج کیا تھا، درخواست گزار پرائیویٹ پرسن ہے اور کیس میں فریق بھی نہیں ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسپیشل سینٹرل عدالت کے فیصلے کو پبلک پراسیکیوٹر یا وفاقی حکومت اعلیٰ عدالت میں چیلنج کر سکتی ہے، درخواست گزار نے 3 سال 4 ماہ بعد بریت کے فیصلے کو چیلنج کیا، درخواست گزار کے وکیل بریت پر کوئی غیر قانونی پہلوؤں کی نشاندہی نہیں کر سکے۔