دنیا ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں سوال صرف جنگ اور امن کا نہیں بلکہ عالمی انصاف، اخلاقی ذمہ داری اور بین الاقوامی نظام کی ساکھ کا ہے۔ غزہ سے لے کر ایران تک پھیلی ہوئی جنگ کی آگ، طاقتور ممالک کی کھلی مداخلت، اور کمزور اقوام کی بے بسی نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے: کیا اقوامِ متحدہ واقعی اپنے قیام کے مقاصد پورے کرنے میں ناکام ہو چکی ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو کیا اب ایک نئے عالمی نظام کی ضرورت ناگزیر ہو چکی ہے؟
یہ سوال محض جذباتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں جاری تنازعات، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں، اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ عالمی ادارے نہ صرف بے اثر ہو چکے ہیں بلکہ طاقتور ممالک کے ہاتھوں یرغمال بھی نظر آتے ہیں۔پہلی جنگِ عظیم کے بعد لیگ آف نیشنزکا قیام عمل میں آیا۔مقصد یہ تھا کہ آئندہ ایسی جنگوں کو روکا جائے اور تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ مگر یہ ادارہ اپنی بنیادی ذمہ داریوں میں ناکام رہا، اور اسکی موجودگی میں ہی دوسری جنگِ عظیم چھڑ گئی، ایک ایسی جنگ جس نے کروڑوں جانیں لے لیں اور دنیا کے نقشے کو بدل کر رکھ دیا۔اسی پس منظر میں 24 اکتوبر 1945 کو اقوامِ متحدہ کا قیام عمل میں آیا۔ یہ ایک نئی امید تھی کہ اس پلیٹ فارم پر تمام ممالک برابر کی بنیاد پر بیٹھ کر مسائل حل کریں گے، جہاں طاقت کے بجائے قانون کی حکمرانی ہوگی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ خواب حقیقت کے برعکس ایک پیچیدہ سیاسی کھیل میں بدل گیا۔اقوامِ متحدہ کے نظام میں سب سے متنازع عنصر’’ویٹو پاور‘‘ہے، جو پانچ مستقل اراکین، امریکا، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کو حاصل ہے۔ بظاہر یہ اختیار عالمی استحکام کیلئے دیا گیا تھا، مگر عملی طور پر یہ طاقتور ممالک کو کسی بھی قرارداد کو روکنے کا مکمل اختیارہے۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں اقوامِ متحدہ کی غیر جانبداری مشکوک ہو جاتی ہے۔فلسطین، خاص طور پر غزہ، گزشتہ کئی دہائیوں سےاسرائیلی ظلم و ستم کا شکار ہےلیکن حالیہ برسوں میں جو شدت دیکھنے میں آئی، اسے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دینا چاہیے تھامگر اقوامِ متحدہ محض بیانات اور قراردادوں تک محدود رہی۔ یہ سوال اٹھتا ہے: اگر ایک ادارہ مظلوموں کی حفاظت نہیں کر سکتا، تو اسکے وجود کا جواز کیا رہ جاتا ہے؟
غزہ کے بعد ایران پر جاری حملوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مسلسل بمباری، بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا، اور کھلی دھمکیاں دینا بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔خطر ناک بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اقوامِ متحدہ موجود ہے لیکن نہ کوئی مؤثر پابندی، نہ کوئی فوری مداخلت، اور نہ ہی کوئی ایسا اقدام جو جنگ کو روک سکے۔یہ صورتحال اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ عالمی قوانین صرف کمزور ممالک کیلئے ہیں، جبکہ طاقتور ممالک ان سے بالاتر ہیں۔موجودہ عالمی منظرنامے میں امریکا کا کردار نہایت متنازع ہے۔ٹرمپ کا ایرانی اسکولوں، ہسپتالوں، تہران یونیورسٹی، واٹرسپلائی، پلوں، بازاروں اور گھروں پر بمباری کو فخریہ بیان کرنا ننگ انسانیت ہے یہ نہ صرف سفارتی آداب کے خلاف بلکہ جنگی جرائم کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ عالمی میڈیا، تجزیہ کاروں، اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان حالات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مختلف ماہرین نے ان اقدامات کو غیر ذمہ دارانہ، خطرناک، اور عالمی امن کیلئے تباہ کن قرار دیا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف بیانات کافی ہیں؟ کیا عالمی برادری کا کردار صرف تبصرہ کرنے تک محدود ہو چکا ہے؟
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات صرف اس خطے تک محدود نہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی منڈیوں میں عدم استحکام اور ممکنہ کساد بازاری پوری دنیا کو متاثر کر سکتی ہے۔اگر یہ جنگ مزید طول پکڑتی ہے تو اسکے اثرات عالمی معیشت پر گہرے ہوں گے، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک پر جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔یہ کہنا شاید جذباتی ہو کہ اقوامِ متحدہ مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ اسکی موجودہ ساخت اور نظام عالمی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ناکافی ہو چکا ہے۔ویٹو پاور، سیاسی دباؤ اور طاقتور ممالک کا اثر و رسوخ اس ادارے کو غیر مؤثر بنا رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟
(1) ویٹو پاور کا خاتمہ یا محدود استعمال:جب تک پانچ ممالک کو یہ اختیار حاصل رہیگا، عالمی انصاف ممکن نہیں۔ (2) اقوامِ متحدہ کی ساخت میں اصلاحات:تمام ممالک کو برابر کی نمائندگی اور فیصلہ سازی میں حصہ دیا جائے۔ (3) عملی اقدامات کی صلاحیت:صرف قراردادیں نہیں بلکہ فوری اور مؤثر کارروائی کا نظام بنایا جائے۔ (4) نیا عالمی ادارہ؟:اگر اصلاح ممکن نہ ہو تو ایک نئے عالمی ادارے کی تشکیل پر غور کیا جانا چاہیے، ایسا ادارہ جو واقعی غیر جانبدار اور مؤثر ہو۔ دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں خاموشی بھی جرم ہے اور بے عملی بھی۔ اقوامِ متحدہ کو یا تو خود کو بدلنا ہوگا یا پھر تاریخ اسے ایک ناکام تجربہ قرار دے گی۔یہ وقت ہے کہ عالمی برادری اپنے ضمیر کی آواز سنے، مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہو اور ایک ایسا نظام تشکیل دے جو واقعی انصاف، امن، اور مساوات کا ضامن ہو۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔