• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مسجدِ اقصیٰ 40 روزہ اسرائیلی بندش کے بعد دوبارہ کھول دی گئی

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

مسجد اقصیٰ اسرائیل کی جانب سے 40 روزہ بندش کے بعد دوبارہ کھول دی گئی۔ 

علی الصبح نمازیوں کی بڑی تعداد اُمڈ آئی، سینکڑوں فلسطینیوں نے نمازِ فجر مسجد اقصیٰ میں ادا کی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ مشرقی یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ کو آج نمازیوں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا، جو کہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ امریکی اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں گزشتہ 40 روز سے بند تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق قدیم شہر میں واقع اس مسجد کو فجر کے وقت کھولا گیا۔

فجر کی اذان کے ساتھ ہی جب مسجد کے دروازے کھولے گئے تو بڑی تعداد میں نمازی مسجد کی جانب اُمڈ آئے۔

متعدد افراد کو آنسو بہاتے اور مسجد کے صحنوں میں سجدۂ شکر ادا کرتے دیکھا گیا، سینکڑوں مسلمانوں نے نمازِ فجر باجماعت ادا کی۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملوں کے ساتھ ہی مسلمانوں کی مسجد اقصیٰ تک رسائی مکمل طور پر بند کر دی تھی۔ 

اس دوران صرف مسجد کے عملے اور بیت المقدس کے اسلامی وقف کے حکام کو وہاں نماز ادا کرنے کی اجازت تھی، جبکہ دیگر فلسطینیوں کو شہر کی چھوٹی مساجد میں عبادت پر مجبور کیا گیا۔

حکام نے اس سال عیدالفطر کی نماز بھی مسجدِ اقصیٰ میں ادا کرنے کی اجازت نہیں دی، جو 1967ء میں مشرقی یروشلم پر اسرائیلی قبضے کے بعد پہلی بار ایسی پابندی تھی۔

اسی عرصے کے دوران اسرائیلی حکام نے یروشلم میں عیسائیوں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک چرچ آف دی ہولی سیپلکر کو بھی بند رکھا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید