آج کا دن برطانیہ کے معروف شاعر، ادیب اور دانشور صابر رضا کیساتھ گزرا۔ یہ کوئی معمولی ملاقات نہ تھی بلکہ ایک ایسا مکالمہ تھا جس میں لفظ صرف ادا نہیں ہو رہے تھے بلکہ اپنے اندر صدیوں کی گونج لیے ہوئے تھے۔ ہم نے کئی موضوعات پر گفتگو کی، مگر سب سے زیادہ دیر جس بات پر ٹھہراؤ آیا وہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی تھی۔ صابر رضا کی باتوں میں ایک عجیب کشش تھی۔وہ صرف تجزیہ نہیں کرتے تھے، وہ تاریخ کو محسوس کرتے تھے، اور یہی احساس مجھے مجبور کرتا رہا کہ ان کی گفتگو آپ تک پہنچائی جائے۔
صابر رضا نے بات کا آغاز یوں کیا جیسے وہ کسی داستان کا دروازہ کھول رہے ہوں۔ کہنے لگے’’پہلی جنگِ عظیم کے بعد جب مشرقِ وسطیٰ کے نقشے نئے ہاتھوں سے تراشے گئے تو سرحدیں تو بن گئیں، مگر دل تقسیم ہو گئے۔ انہی بکھری ہوئی لکیروں کے درمیان فلسطین ایک ایسی کہانی بن گیا جسے کبھی مکمل ہونے نہ دیا گیا۔‘‘ان کے الفاظ میں ایک اداس موسیقی تھی۔
وہ بولتے گئے اور میں سنتا رہا۔ ’’وقت گزرتا رہا، جنگیں بدلتی رہیں، مگر غزہ کی زمین پر خون کی سرخی کم نہ ہوئی۔ بچے، مائیں، بوڑھےسب اس آگ میں جلتے رہے جسے دنیا محض خبروں میں دیکھتی رہی۔ اور افسوس کہ مسلم ریاستیں، جو کبھی ایک امت کا خواب تھیں، اکثر اس درد کو صرف تماشے کی طرح دیکھتی رہیں۔خاموش، بے بس، یا شاید بے حس۔جیسے تاریخ ان کے سامنے لکھی جا رہی ہو اور وہ اسے پڑھنے کے بجائے صرف گزرتا ہوا منظر سمجھ رہی ہوں۔‘‘
میں نے ان کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا ان کے نزدیک امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ یہی ہے۔ وہ کچھ لمحے خاموش رہے، جیسے سوال کو اپنے اندر اتار رہے ہوں، پھر بولے، ہاں، بات یہی ہے۔ ایران وہ واحد ملک ہے جو مسلسل فلسطین کے ساتھ کھڑا رہا، ورنہ باقی دنیا نے اس درد کو یا تو نظرانداز کیا یا مصلحتوں میں چھپا دیا۔ پہلی عرب اسرائیل جنگ کے بعد جب مصر اور مشرقِ وسطیٰ کی دیگر ریاستوں نے اسرائیل سے تعلقات بہتر کرنے کی راہیں تلاش کیں، تو دراصل ایک خاموش قیمت ادا کی گئی۔اور وہ قیمت فلسطینیوں نے اپنے خون سے ادا کی۔
میں نے حیرت سے پوچھا کہ آخر مشرقِ وسطیٰ کے مسلم ممالک نے اسرائیل سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کیوں کی۔ صابر رضا نے گہری سانس لی، جیسے وہ کسی بھاری یاد کو اپنے اندر سے نکال رہے ہوں۔ ’’وہ وقت یاد کرو جب بھٹو نے سربراہی کانفرنس کے ذریعے مسلم امہ کے منتشر دلوں کو ایک دھڑکن میں باندھنے کی کوشش کی تھی۔ایک ایسا لمحہ جب امید نے سر اٹھایا تھا کہ شاید یہ بکھرا ہوا قافلہ ایک راستہ پا لے۔ مگر تاریخ ہمیشہ طاقتوروں کے خوابوں کے مطابق نہیں چلتی۔ اس امید کے چراغ ایک ایک کر کے بجھا دیے گئے۔شاہ فیصل، یاسر عرفات، کرنل قذافی، اور خود بھٹو... جیسے وہ سب ایک ہی کہانی کے کردار تھے جنہیں اس لیے مٹا دیا گیا کہ وہ ایک عظیم اسرائیل کے تصور کے سامنے دیوار بن کر کھڑے تھے۔‘‘
وہ کچھ دیر خاموش رہے۔ اس خاموشی میں ایک عجیب سی تھکن تھی، جیسے تاریخ خود تھک کر بیٹھ گئی ہو۔ پھر آہستہ سے بولے، ’’ایران کو بھی نصف صدی تک معاشی زنجیروں میں جکڑنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، مگر قومیں صرف دولت سے نہیں، حوصلے سے زندہ رہتی ہیں۔ ایرانیوں نے فقر کو اپنی ڈھال بنا لیا۔اور کبھی کبھی تاریخ کا سب سے خوبصورت منظر یہی ہوتا ہے کہ ایک فقیر، اپنی استقامت سے، ایک بادشاہ کو بھی شکست دے دیتا ہے۔‘‘
میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا، آپ کے خیال میں کیا ایران یہ جنگ جیت چکا ہے؟ انہوں نے میری طرف ایک گہری نظر ڈالی، جیسے وہ صرف سوال نہیں بلکہ میرے اندر کی کیفیت کو بھی پڑھ رہے ہوں۔ پھر دھیرے سے بولے، ’’یاد رکھو، جب کسی نے کہا تھا کہ یہ جنگ چھ دن میں ختم ہو جائے گی، تو اس نے پہاڑ کو صرف دور سے دیکھا تھا۔ مگر پہاڑ ہمیشہ اپنی اصل اونچائی اُس وقت دکھاتا ہے جب اس پر انسان قدم رکھتا ہے۔ انہوں نے جنگ کو نقشے پر ایک لکیر سمجھا، ایک حساب، ایک منصوبہ...مگر جنگ کبھی محض حساب نہیں ہوتی۔ جنگ انسانوں کے حوصلوں، ارادوں اور اُن ردعملوں کا نام ہے جو کسی کتاب میں نہیں لکھے جاتے۔ جب حقیقت میدان میں اترتی ہے تو منصوبے دھندلا جاتے ہیں، اور تب فیصلہ صرف طاقت سے نہیں، صبر اور برداشت سے ہوتا ہے۔‘‘
میں نے پھر سوال کیا، جنگ میں ایران کو کیا ملا؟ میرے نزدیک تو اس نے بہت کچھ کھویا ہے... وہ چند لمحے خاموش رہے، جیسے الفاظ کو چن رہے ہوں، پھر آہستہ سے بولے، ’’ہر نقصان بظاہر نقصان نہیں ہوتا۔ بعض اوقات جنگ کا سب سے بڑا حاصل وہ ہوتا ہے جو نقشوں میں نہیں بلکہ اعتراف میں لکھا جاتا ہے۔ اس جنگ کی اصل جیت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول دنیا نے مان لیا۔ اور یاد رکھو، جب دنیا کسی حقیقت کو تسلیم کر لے تو وہ صرف جغرافیہ نہیں رہتی، وہ طاقت بن جاتی ہے۔‘‘
ان کے لہجے میں یقین کی ایک خاموش گونج تھی۔ اس لمحے مجھے محسوس ہوا کہ وہ صرف ایک واقعہ بیان نہیں کر رہے، بلکہ ایک فلسفہ سمجھا رہے ہیںکہ جیت ہمیشہ میدان میں نہیں ہوتی، کبھی کبھی وہ دلوں میں، اعتراف میں، اور خاموشی میں ہوتی ہے۔ ہم دونوں کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے۔ اس خاموشی میں نہ کوئی بوجھ تھا، نہ کوئی بے چینی۔بس ایک ادھوری سی دعا تھی، جو شاید وقت کے ساتھ مکمل ہو جائے۔
اس دن کی گفتگو میرے اندر کہیں ٹھہر گئی ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ صابر رضا نے صرف جنگ کے بارے میں نہیں بتایا، بلکہ یہ بھی سکھایا کہ تاریخ کو سمجھنے کیلئے صرف آنکھیں نہیں، دل بھی چاہئے۔ کیونکہ کچھ حقیقتیں وہ ہوتی ہیں جو نظر نہیں آتیں۔