پرائم منسٹر شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی کامیاب سفارتکاری اور چائنا کے تعاون سے ایران امریکا چالیس روزہ خوفناک جنگ پندرہ روز کیلئے بند ہو گئی ہے، آبنائے ہرمز کھول دی گئی ہے تیل کی قیمتیں گر کر93 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہیں، اسرائیل بھی سیز فائر پر راضی ہو گیا ہے اور پوری دنیا نے فی الوقت سکھ کا سانس لیا ہے ۔ہر دو فریقین کو ٹیبل ٹاکس کیلئے جمعہ کے روزیعنی آج اسلام آباد آنے کی باضاطہ دعوت دی گئی ہے ۔امید کی جا رہی ہے کہ یہ عارضی سیز فائر مستقل جنگ بندی میں تبدیل ہو جائیگا۔ امریکی صدر ٹرمپ جنہوں نے دھمکی دی تھی کہ ایران کو پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا جائیگااور ایرانی تہذیب کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا جائیگا۔ انہوں نےفیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے ساتھ پرائم منسٹر شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر شریف ہر جگہ ایک قابل احترام شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں انکی طرف سے بھجوائی گئی دس ایرانی تجاویز مذاکرات کی قابل عمل بنیاد بن سکتی ہیں، ہم نے اپنے جنگی مقاصد حاصل کر لیے ہیں ہم نے آج رات جو مزید تباہی کرنی تھی اسے روک دیا گیاہے۔ دوسری طرف ایرانی قیادت نے بھی پرائم منسٹر شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی بہترین سفارتکاری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے آبنائے ہرمز کو کھول دیا ہے تہران وزیراعظم شہباز شریف کی ان سفارتی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے جن کا مقصد خطے کو بڑی تباہی سے بچانا تھا۔
اس سے پہلے جب ایران نے اسرائیلی حملے کے جواب میں سعودی عرب کی آئل تنصیبات پر حملہ کیا جس سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا تو پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت نےکھلے لفظوں میں اس ایرانی حملے کی مذمت کی اور سعودی قیادت کے تحمل اور دانشمندی کو بھی سراہا۔ پاکستان کیلئے یہ صورت حال ناقابل قبول اور پریشان کن تھی کیونکہ پاکستان سعودی عرب پر کسی بھی حملے کی صورت اسے اپنے اوپر حملہ تصورکرنےکے معاہدے کا پابند ہے، جبکہ ایران پر جوابی حملے کی قیمت ہی پاکستان کیلئے ناقابل برداشت ہو سکتی تھی،اس صورتحال میں پاکستان کے پاس سوائے بھرپور ڈپلومیسی کے اور کوئی راستہ نہ تھا۔سر دست ہمارے سامنے دو سوالات ہیں اول یہ کہ اسلام آباد میں ہونیوالے واشنگٹن اور تہران کے مذاکرات میں کس کا پلہ بھاری رہیگا؟ اور ان مذاکرات کی کامیابی کے چانسز کس حد تک ہیں؟ بلا شبہ یہ ایک کٹھن مرحلہ ہوگا کیونکہ فریقین اپنی اپنی کامیابیوں کے دعوے کر رہے ہیں اور فیس سیونگ رکھتے ہوئے حساس معاملات پر مباحثے کے دوران، وہ کس طرح کسی متفقہ لائحہ عمل تک پہنچیں گے؟ پاکستان کو اگرچہ انقرہ اور قاہرہ کے ساتھ ساتھ بیجنگ کی سپورٹ بھی حاصل ہے اور خلیجی ممالک کی شکایات کو بھی سامنے رکھنا ہوگا لیکن اصل کامیابی تو امریکی و ایرانی قیادتوں یا مذاکرات کاروں کے لچک اور نرم رویے سے ہی حاصل ہو سکتی ہے پاکستان کی پوزیشن ایسی ہرگز نہیںکہ وہ کسی ایک فریق بالخصوص امریکا پر کوئی دباؤ ڈال سکے یا اس سے ایرانی مطالبات منوا سکے اگرچہ چائنا کی معاونت سے محدود حد تک کوشش کی جا سکتی ہے ۔ اسکے باوجود یہ خیال کہ امریکا خطے سے نکل جائیگا یا عرب ممالک سے اپنے فوجی اڈے ختم کر دئیگا ایں خیال است و محال است و جنوں۔اگلا سوال یہ ہے کہ اس چالیس روزہ جنگ میں ہر سہ فریقین میں سے کس نے کیا کھویا اور کیا پایا؟اس امر میں کوئی اشتباہ نہیں کہ تباہی اگر ایران کی ہوئی مزا تل ابیب نے بھی خوب چکھا۔ جنہوں نے پہلی مرتبہ اپنے ترقی یافتہ انفرا اسٹرکچر پر بھرپور میزائل حملے ملاحظہ کیے ہیں اور ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے بھی پایا کچھ ہے یا نہیں البتہ کھویا بہت کچھ ہے۔ آج وائٹ ہاؤس جس ڈھٹائی سے یہ کہہ رہا ہے کہ ہم نے ایران کو بیس برس پیچھے دھکیل دیا ہے اور یہ کہ ہم نے ایرانی ایٹمی پروگرام رول بیک کروا دیا ہے یہ کوئی ایسی کامیابی نہیں ہے جسے پریزیڈنٹ ٹرمپ اپنی قوم کے سامنے پیش کرتے ہوئے پاپولیریٹی حاصل کر سکیں گے کیونکہ اس خطر ناک اور تباہ کن جنگ سے قبل ہی جب امریکا کے ایرانی رجیم سے مذاکرات چل رہے تھے، تب ایسے شواہد سامنے آ رہے تھے کہ ایران اپنا جوہری پروگرام رول بیک کر سکتا ہے۔
ایرانی یورینیم انرچمنٹ جس حد تک بھی ہو چکی تھی، جنگ کے بغیر اگر اس کے خاتمے یا امریکا کو حوالگی کی گنجائش موجود نہیں تھی تو آج بھی اس ایشو پر امریکا اور ایران اسی پہلے والی جگہ پر کھڑے ہیں اور یہ خاصا مشکل مرحلہ ہے تو پھر امریکی پریزیڈنٹ ٹرمپ نے سوائے اپنا اور اپنی گریٹ سپر پاور کا چہرہ داغدار کرنے کے حاصل کیا کیا ہے؟ بلکہ الٹی امریکی عظمت جگ ہنسائی میں بدل ڈالی ہے، امریکی عزت، اخلاقیات و تہذیب تارتار کروانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، پوری دنیا کے سامنے امریکی طاقت کی پہچان کچھ اس طرح کروائی ہے جس کی جمہوریت، آئینی عظمت اور ہیومن رائٹس کے دعوے کھوکھلے ہیں جسکی قیادت کو سویلین انفراسٹرکچر اور معصوم انسانی جانیں ٹارگٹ بناتے ہوئےذرا شرم محسوس نہیں ہوئی، مسٹر ٹرمپ!آج آپ نے دنیا بھر میں امریکا کے اٹوٹ وفادار اور پکے سچے اتحادیوں کو اس عظیم طاقت سے بدگمان اور بد دل کر ڈالا ہے۔ نیٹو، یورپی یونین، آسٹریلیا، جنوبی کوریا، جاپان اور بھارت سے لے کر امیر عرب ریاستوں تک سبھی میں ایک نو ع کی مایوسی و بددلی ملاحظہ کی جا سکتی ہے اسٹریٹ آف ہرمز کھلوانا آپ کی کون سی جنگی کامیابی ہے؟ یہ تو جنگ سے پہلے ہی کھلی تھی، جنگ نے تو الٹا اس حوالے سے کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں- ایران تو پہلے ہی تباہ حال اور لٹا پٹا تھا لیکن آپ نے حالت اسرائیل کی بھی ویسی ہی بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ۔ دعویٰ آپ کا تھا کہ ہم ایرانی عوام کی محبت سے سرشار ہو کر از سر نو گریٹ ایران بنانے آ رہے ہیں لیکن پھر انہی مظلوم ایرانی عوام پر بم پھوڑے، دم توڑتی بوڑھی ولایت فقیہ کو نئے خون اور جذبے کے ساتھ جواں سال بنا ڈالا- مسٹر ٹرمپ! یہ ہے آپ کی جنگی آؤٹ پٹ۔ آخر میں آپ کا شکریہ کہ آپ نے پاکستان کی خوب بلے بلے کروا دی ہے۔