• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کا ایجنڈا کیا ہو گا؟

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

اسلام آباد اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں امریکا اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان اہم مذاکرات ہو رہے ہیں، شہر میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔

یہ مذاکرات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب 6 ہفتے قبل امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے تھے۔

اس کے نتیجے میں شروع ہونے والی جنگ نے متعدد ممالک میں ہزاروں جانیں لیں، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے اہم راستے کو متاثر کیا اور توانائی کی قیمتوں کو ریکارڈ سطح تک پہنچا دیا۔

اب اسی تنازع کے بعد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہفتے اور اتوار کو اعلیٰ سطح کے امریکی اور ایرانی وفود آمنے سامنے ہیں، یہ پیش رفت اس دو ہفتے کی جنگ بندی کے چند دن بعد سامنے آئی ہے جس پر واشنگٹن اور تہران نے پاکستان کی ثالثی میں اتفاق کیا تھا، تاہم اس جنگ بندی کو مختلف تشریحات اور لبنان پر اسرائیلی حملوں میں اضافے کے باعث خطرات لاحق ہیں۔

جنگ کے دوران ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں اور بعد ازاں آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر بند کرنے کے فیصلے نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

یاد رہے کہ پُرامن ادوار میں دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل و گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔

مذاکرات کب اور کہاں ہوں گے؟

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے دونوں فریقین کو باضابطہ دعوت دی گئی، جس کے بعد یہ مذاکرات اسلام آباد میں آج شروع ہو رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا و ایران کے درمیان بات چیت مقامی وقت کے مطابق ہفتہ 10 اپریل کی صبح شروع ہو گی جو ممکنہ طور پر 11 اپریل تک جاری رہ سکتی ہے، جبکہ شہر میں 9 اور 10 اپریل کو عام تعطیل کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے مطابق یہ مذاکرات 15 دن تک جاری رہ سکتے ہیں، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ وفود کے کچھ ارکان طویل قیام کر سکتے ہیں یا مزید دور کے لیے واپس آ سکتے ہیں۔

مذاکرات میں کون شرکت کرے گا؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ ان کے ہمراہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔

ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کریں گے، تاہم یہ واضح نہیں کہ پاسدارانِ انقلاب کے نمائندے بھی شریک ہوں گے یا نہیں۔

مذاکرات کا طریقہ کار کیا ہو گا؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف ابتدائی طور پر دونوں وفود سے علیحدہ ملاقاتیں کریں گے، جبکہ نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار باضابطہ مذاکرات کی نگرانی کریں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی اور ایرانی وفود الگ الگ کمروں میں موجود ہوں گے اور پاکستانی حکام ان کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کریں گے۔

جے ڈی وینس کی شمولیت کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ایرانی حکام ماضی کے مذاکرات کے تناظر میں امریکی نمائندوں پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔

مذاکرات کیلئے پاکستان کا انتخاب کیوں؟

پاکستان حالیہ ہفتوں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، ایران کے ساتھ 900 کلو میٹر طویل سرحد اور ملک کی بڑی شیعہ آبادی پاکستان کو ایک منفرد حیثیت دیتی ہے۔

مزید برآں پاکستان میں امریکی فوجی اڈے موجود نہیں، جس سے ایران کے نزدیک اس کی ساکھ بہتر ہوتی ہے، جبکہ امریکا کے ساتھ بھی اس کے تعلقات برقرار ہیں۔

مذاکرات کا ایجنڈا کیا ہے؟

دونوں فریقین کے درمیان نمایاں اختلافات موجود ہیں، ایران کے 10 نکاتی منصوبے میں آبنائے ہرمز پر نگرانی، مشرقِ وسطیٰ سے امریکی افواج کا انخلاء اور اتحادی گروہوں کے خلاف کارروائیوں کا خاتمہ شامل ہے۔

دوسری جانب امریکا ایران سے افزودہ یورینیئم کے ذخائر ترک کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جسے وہ ناقابلِ مذاکرات شرط قرار دیتا ہے، تاہم ایران نے اس پر باضابطہ رضامندی ظاہر نہیں کی۔

لبنان کا معاملہ بھی ایک بڑا تنازع بن کر سامنے آیا ہے، ایران کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل اس سے اختلاف کرتے ہیں۔

ممکنہ رکاوٹیں اور نتائج

تجزیہ کاروں کے مطابق فوری طور پر کسی حتمی معاہدے کا امکان کم ہے، کیونکہ دونوں جانب گہرا عدم اعتماد موجود ہے۔

اسرائیل کے لبنان پر مسلسل حملے مذاکرات کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ سمجھے جا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ حملے جاری رہے تو مذاکرات سبوتاژ ہو سکتے ہیں، مزید یہ کہ اسرائیل کی مذاکرات میں عدم شمولیت بھی ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ وہ جنگ کا اہم فریق ہے۔

کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ تھکن کا شکار دونوں فریقین محدود پیش رفت پر آمادہ ہو سکتے ہیں، خصوصاً جوہری معاملے اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے حوالے سے۔

عالمی توقعات

ماہرین کے مطابق سب سے اہم پیش رفت یہی ہو گی کہ دونوں فریقین براہِ راست مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ رہیں، اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے اور کشیدگی میں کمی آتی ہے تو اسے ایک بڑی کامیابی تصور کیا جائے گا، تاہم حتمی امن معاہدے کے لیے ابھی طویل اور پیچیدہ مذاکراتی عمل درکار ہو گا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید